67

کرتاہے شہر سائیں سائیں

کرتاہے شہر سائیں سائیں یہ وحشتیں یہاں
میرا بھی دل اداس ہے وہ صحبتیں کہاں
سناٹے میں اٹھتی ایک چیخ ہے کبھی
پھیلی ہے چہار سو یہ کلفتیں یہاں
حزن و ملال میں ہے ڈوب ہی گیا
پھیلی تھی جس شہر میں یہ محبتیں جواں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں