کرتاہے شہر سائیں سائیں یہ وحشتیں یہاں
میرا بھی دل اداس ہے وہ صحبتیں کہاں
سناٹے میں اٹھتی ایک چیخ ہے کبھی
پھیلی ہے چہار سو یہ کلفتیں یہاں
حزن و ملال میں ہے ڈوب ہی گیا
پھیلی تھی جس شہر میں یہ محبتیں جواں