کبھی تو ہوگا کہ لفظ فاختہ بن کر اڑیں گے
کتابیں سرحدوں پہ محافظ بن کے چلیں گے

کھبی تو ہو گا کہ دنداناتی چیلوں کے پر جلیں گے
اور میری دھرتی کی چڑیوں کی نسلیں بڑھیں گی۔

کبھی توہو گا کہ روشنی محبتوں کی گواہی دے گی

اورہنسی کی گونج دیواروں سے پرے سنائی دے گی

کبھی تو ہو گا کہ لوگ آ ئنیے اٹھاہیں گے

اور پردہ نشینوں کے چہرے دکھائیں گے

کھبی تو ہو گا گلستان چمن کے پھولوں سے فقط امیر شہر کے گھر نہیں سجیں گے
خوشی کے شادمانے غریب شہر کے آنگن میں بھی بھجیں گے۔

کھبی تو ہو گا کہ عدواتوں کی برف پگھلے گی اور بہار آئے گی
میری طرح ہزارروں بے قرار روحو ں کو بھی قرار آئے گی

کھبی تو ہو گا کہ شاہوں کا شاہانہ انداز بدلے گا

اور منصفی کا اسودہ رواج بدلے گا۔

انشااللہ یہ ہو گا کہ لفظ فاختہ بن کر اڑیں گے
ا ور کتابیں سرحدوں پہ محافظ بن کے چلیں گی