مارول فلمز تاریخ میں پہلی بار اپنی سپر ہیرو سیریز میں مسلمان سپر ہیرو لڑکی کمالہ خان عرف مس مارول کو متعارف کرائے گی ۔ مارول اسٹوڈیو کے اس اعلان کے بعد تمام بڑی بین الاقوامی اور قومی نیوز ایجنسیز میں یہ خبر سرگرم ہے کہ کیپٹن مارول کے بعد مارول فلمز مسلمان پاکستانی نژاد امریکی لڑکی کمالہ خان کے فرضی کردارد پر بنائی جانے والی فلم مس مارول ممکنہ طور پر 2019 میں ریلیز کرے گا۔
مارول اسٹوڈیو کے صدر کیون فیج کمالہ خان عرف مس مارول کے کردار پر فلم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اس خبر کے بعد تمام خبر رساں ایجنسیاں خواہ وہ قومی ہوں یا بین الاقوامی ، پرنٹ میڈیا ہو یا آن لائن یہ خبر شائع کرتے نظر آتے ہیں کہ مارول اسٹوڈیو کے مسلمان شائقین یہ خبر سن کر بے حد خوش ہیں، اور خواہش ظاہر کر رہے ہیں کہ کمالہ خان کے اس کردارکے لیے بالی وڈ کی سپر اسٹار اداکارہ پرینکا چوپڑا کو چنا جائے۔
یہ بات کتنی درست ہے کہ مارول سپر ہیرو سیریز کے تمام مسلمان شائقین اس اعلان سے خوش ہیں؟
یا وہ انفنیٹی وار دیکھنے کے بعد سب پاگل ہوچکے ہیں؟
کیا یہ واقعی خوشی کی خبر ہے کہ سپر ہیرو سیریز میں ایک پاکستانی سپر ہیرو کردار بھی شامل کر لیا گیاہے؟ اور کیا اس سے پوری دنیا میں پاکستان کی مثبت عکاسی ہوگی؟ میری اس تحریر کو پڑھنے کے بعد آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس سپر ہیرو سے پاکستان کی مثبت عکاسی اور عزت افضائی ہورہی ہےیا ذلت میں اضافہ ہورہا ہے ۔

null

میری خواہش ہے کہ یہ تحریر ہر پاکستانی پڑھے ۔ کیونکہ میں نے مارول کے اس کردار پر جو تحقیق کی ہے اس کے بعد میرا خون کھول اُٹھا ہے۔
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مس مارول کوئی نیا کردار نہیں ہے، اس کردار کو سب سے پہلے 1968 میں مارول اسٹوڈیو نے کامک نمبر 13 میں متعارف کروایا جس کا نام مارول سپر ہیروز نمبر 13 تھا۔ اس کے بعد پہلی بار اس کردار پر پورا کامک تیار کیا گیاجس میں مس مارول کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ کامک بُک 1977 میں مس مارول نمبر 1 کے نام سے شائع کی گئی۔یہ مس مارول ایک امریکی تھی جس کا نام کیرل ڈانورس تھا۔ کیرل ایک پائلٹ ہوتی ہے اور اسے ایک امریکی ایئر فورس ناسا کے مشن پر بھیجتی ہے اور اس طرح وہ مس مارول بنتی ہے۔
اب چوں کہ مارول اسٹوڈیو نے پہلے ہی کیرل کے کردار کو ایونجرز سیریز میں کیپٹن مارول کے نام سے متعارف کروا دیا ہے تو مس مارول کا ٹائٹل ایک مسلمان پاکستانی نژاد امریکی لڑکی جس کا نام انہوں نے کمالہ خان رکھا ہے پر منتقل کر دیا ہے۔ کیپٹن مارول کے کردار پر مبنی فلم ممکنہ طور پر 2019 میں ریلیز کی جائےگی۔اور اس کے فوراً بعد مارول اسٹوڈیو کی پہلی مسلمان سپر ہیرو لڑکی کمالہ خان کے کردار پر بنے والی فلم مس مارول کو متعارف کرایا جائےگا۔
خیال رہے کہ اس افسانوی سپر ہیرو کردار کی تخلیق کار ایک مسلمان پاکستانی نژاد امریکی خاتون ثناء امانت ہیں۔مارول اسٹوڈیو نے اس کردار کو نہ صرف قبول کیا بلکہ 2015 میں اس کردار پر ایک کامک بک بھی شائع کی، ویکی پیڈیا کے مطابق یہ کامک بک دکانوں سے زیادہ آن لائن فروخت ہوئی۔ جس کے بعد مارول اسٹوڈیو نے ثناء امانت کو کردار کو مزید نکھارنے اور مواد پر کام کرنے کے لیے کانٹینٹ اور کریکٹر ڈولپمنٹ کا ڈائریکٹر مقرر کر دیا۔ اور حال ہی میں یہ اعلا ن کردیا کہ جلد اس افسانوی سپر ہیرو کردار پر فلم بھی بنائی جائے گی۔
آخر ثناء امانت کے تخلیق کردہ اس کردار میں ایسا کیا ہے کہ جو مارول اسٹوڈیو اس پر فلم بنانا چاہتا ہے؟ یہ جاننا بہت ضروری ہے اور اس بات کا اندازہ آپ کو ثناء امانت کا کامک پڑھنے کے بعد ہوجائےگا۔
پاکستانی نژاد امریکی مصنفہ و کامکس ایڈیٹر ثنا ءامانت گزشتہ کئی سال سے مارول کامکس میں بطور ایڈیٹر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ثناء امانت امریکی ریاست نیو جرسی میں رہتی ہیں اور یہ کردار انہوں نے اپنی ذات سے متاثر ہوکر تخلیق کیا ہے۔

null

یہ کامک کچھ یوں شروع ہوتا ہے کہ ایک پاکستانی لڑکی جس کا تعلق مسلمان گھرانے سے ہے اور اپنی فیملی کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہے۔ ایک رات کھانے کی میز پر رات کا کھانا کھاتے ہوئے اپنے والدین سے دوستوں کے ساتھ پارٹی میں جانے کی خواہش ظاہر کرتی ہے۔ جس پر اس کے والدین اسے جانے سے منع کردیتے ہیں اور کمرے میں جانے کو کہتے ہیں۔ یہ لڑکی اپنے والدین سے ذرا بھی پیار نہیں کرتی اور والدین کی نافرمانی کرتے ہوئے دل میں ارادہ کرتی ہے کہ وہ پارٹی میں ضرور جائےگی چاہے اسے کھڑکی سے کود کر ہی کیوں نا جانا پڑے۔اپنے اسی ارادہ پر عمل کرتے ہوئے وہ پارٹی میں پہنچتی ہے جہاں اسے ایک لڑکا ملتا ہے جو اس اورنج جوس میں وڈکا یعنی شراب ملا کر دیتا ہے اور وہ پی لیتی ہے۔ وہاں موجود اس کا دوست اسے ان لڑکوں سے بچاتا ہے مگر یہ لڑکی اس پر ہی غصہ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ مجھے کسی محافظ کی ضرورت نہیں۔ یہ لڑکی وہاں سے اکیلے اندھیری رات میں سنسان سڑک پر گھر کی طرف نکل پڑتی ہے ۔ کچھ ہی دور جاکر اسے چکر آتے ہیں اور وہ بے حوش ہو کر گر جاتی ہے۔پھر ایک روشنی اس پر پڑتی ہے اور اس کے پسندیدہ سپرہیرو کیپٹن امریکہ، آئرن مین اور کیپٹن مارول، جو پہلے مس مارول تھی اس لڑکی کو نظر آتے ہیں۔۔۔
وہ اس سے کہتے ہیں کہ تم اپنے والدین کا گھر چھوڑ آئی ہو ، تم کیا کرنا چاہتی ہو؟ جس کے جواب میں کمالہ خان کہتی ہے کہ میں اپنی فیملی کے کلچر میں نہیں رہنا چاہتی، میں امریکہ میں پلی بڑی ہوں اور مجھے بھی پارٹی کرنے کا اتنا ہی حق ہونا چاہیئے جتنا کہ ایک امریکن کو ہے۔کیپٹن مارول اس سے پھر پوچھتی ہے کہ تم کیا بننا چاہتی ہو؟ تو یہ کہتی ہے کہ میں تمہاری طرح بنناچاہتی ہوں۔ کیپٹن مارول اس سے کہتی ہے کہ اس کے لیے تمہیں طلسماتی قوت کے حامل کپڑے پہننے پڑیں گے۔ مختصر یہ کہ سپر ہیروز کے جاتی ہی کمالہ خان مس مارول میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ اس کے بالوں کارنگ تبدیل ہوجاتا ہے اور پھر کمالہ خان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے لباس میں زیرجامہ نہیں ہے۔ یہ بے ہودگی کی شروعات ہے۔

null

طلسماتی طاقت آجانے اور اس کا تجربہ کرنے کے باوجود ایک جگہ مس مارول لٹیرے کو لوٹ مار کرنے اور بھاگنے دیتی ہے کیونکہ وہ اس کے دوست کا بھائی ہوتا ہے۔
اس کامک کی کچھ جھلکیاں میں اس تحریر میں شامل کر رہا ہوں۔ آپ خود فیصلہ کیجئے کہ یہ کون سی پاکستانی ثقافت کی عکاسی ہورہی ہے۔یا ایک مخصوص اور سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت نئی نسل کو برغلایا جارہا ہے۔ والدین کی نافرمانی کی ترغیت دی جارہی ہے ۔
ایک پاکستانی مسلمان لڑکی جو اپنے ملک کی ثقافت اور یہاں تک کے اپنے والدین کو پسند نہیں کرتی وہ پاکستان کی نمائندگی کیسے کر سکتی ہے۔اس کردارد کے ذریعے پاکستان کی کون سی ثقافت پر روشنی ڈالی جارہی ہے ؟
ویکی پیڈیا کے مطابق اس کامک کی کہانی ثناء امانت نے اپنی زندگی پر لکھی ہے۔ کیونکہ وہ بھی اپنے والدین کے ساتھ پاکستان سے آکر امریکہ میں آباد ہوئی تھیں۔ بچپن سے ہی ثناء اپنی پہچان لے حوالے سے پریشان رہتی تھیں اور یہ خواہش رکھتی تھیں کے کاش ان کے بال سنہرے ہوتے ۔ جو لڑکی نہ ہی پاکستان کو پسند کرتی ہے ، نہ ہی وہاں کی ثقافت کو اور جو دل میں خواہش رکھتی ہے کہ کاش وہ گوری ہوتی اور اس کے بال سنہرے ہوتے وہ لڑکی کیسے پاکستان کی نمائندگی کسی بھی مرحلے میں کرسکتی ہے۔
ایک طویل عرصے سے مارول اسٹوڈیو ذہنی پروگرامنگ کرتا آرہا ہے ۔ ہم آخر اس سے کیسے یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ اسلام، پاکستان اور مسلمانوں کی مثبت انداز میں تشہیر کرے گا۔
گزشتہ دو صدیوں میں لکھی گئی کُتب کی طرف رُخ کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ثقافت کسی قوم ، ملت یا قبیلہ کی مجموعی بود و باش سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ ایک عادت یا عمل سے اور نہ ہی کچھ لوگوں کی عادات سے ۔ تہذیب و ثقافت کے یعنی وہ رسم و رواج اور طور طریقے ہیں جو ہماری زندگی پر حکم فرما ہیں۔ تہذیب و ثقافت سے مراد ہمارا ایمان و عقیدہ اور وہ تمام عقائد و نظریات ہیں جو ہماری انفرادی اور سماجی زندگی میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ غلبہ اسی قوم کو حاصل ہوتا ہے جس کی ثقافت غالب رہے۔ ثقافتی تسلط، اقتصادی تسلط اور سیاسی تسلط سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ، اس کے ماضی، اس کی تہذیب و ثقافت، اس کے تشخص، اس کے علمی، مذہبی، قومی، سیاسی اور ثقافتی افتخارات سے دورکر دیا جائے، اس کی زبان کو زوال کی جانب دھکیل دیا جائے، اس کا رسم الخط ختم کر دیا جائے تو وہ قوم دوسروں کی مرضی کے مطابق ڈھل جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ اور یہ کام باآسانی مس مارول سر انجام دےگی۔