117

پنجاب میں جرائم اور ریاست کا کردار

ایک دفعہ پھر قصور کے گردونواح چونیاں میں معصوم بچوں کی لاشیں اس رعونیت زدہ معاشرے اور غیر ذمہ دار ریاست کی بے حسی کی بھر پور عکاسی کر رہی ہیں ۔یوں لگتا ہے یہ پھر ریاست کے منہ پہ طمانچہ ہے جو اپنی آغوش میں
پلنے والے معصوموں کو بچانے میں ناکام رہی ہے۔ زینب والے واقعے کے بعد لگ رہا تھاکہ اس بے حس ریاست کے حکمران حوش کے ناخن لیں گےاور اپنے ملک کے بچوں کے مستقبل کی حفاظت پہ توجہ دیں گے۔ افسوس یہ بچے حکمرانوں کے نہیں ہیں۔ بظاہر لگ رہا ہے ہم اس معاشرے سے تعلق رکھتے جو واقعات ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے ہم بحثیت معاشرہ اور ریاست پستی اور ذہنی گرواٹ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ آج تو تبدیلی والی سرکارہے۔ نیا پاکستان ہے۔ ریاست مدینہ ہے۔ کل زینب کے کیس پہ حکومت وقت کا مذاق اڑا رہے تھے۔ تو کیا اس وقت پلان نہیں کیا ہو گا۔ اس معاشرے کا یہ بھی ایک گھناؤنا چہرہ ہے اور اس کے تدارک کے لیے تدابیر، تعلیم اور بروقت قانون سازی پہ توجہ دینی ہو گی۔ یا پھر ایک اور واقعے کا انتظار کرنا ہے۔ ہم بروقت قدم اٹھانے سے گریز کیوں کرتے ہیں ؟ مجھے لگتا ہے بحثیت فرد ،معاشرہ اور ریاست ،باتوں کے علاوہ ہم ہر عمل میں دنیا سے پیچھے ہیں۔سوال ذہین میں یہ بھی آتا ہے کیا علاقے کے پولیس آفیسرز کو برطرف کرنے سے اس گھناونا فعل کا تدراک کیا جا سکتا ہے ؟ کیا اس سے پہلے کی حکومتیں ایسا نہیں نہیں کرتیں تھیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ہم کارپٹ کی صفائی کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ ذریعہ جس کی وجہ سے گند پھیلتا ہے اس کی روک تھام کی بالکل کوشش نہیں کرتے ۔
ریاست اور اسکے ماتحت اداروں کو سر جوڑ کے بیٹھنا چاہئے اور ان عوامل پہ توجہ دینی ہو گی جو اس کا باعث بن رہے ہیں۔
بات پولیس سے ہی شروع کر لیتے ہے جو ریاست کے ماتحت امن وامان کی حفاظت پہ مامور ہے۔ کھبی کسی نے اس ادارے کی کاکردگی پہ توجہ دی ہے کہ اس ادارے کے ماتحت جرائم میں کمی ہو رہی ہے یا اضافہ ۔ اور نہیں تو کسی یونیورسٹی میں ریسرچ سنٹر بنا کر اس پہ تحقیق شروع کر دیں۔مہذب ملکوں میں اس پہ پی ایچ ڈی ہوتی۔ کبھی رپورٹ ہونے والے جرائم پہ ریسرچ کی گئی ہے؟وہ کون سے عوامل ہیں جس کی بدولت ان جرائم میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے؟ کیا ریاست نے یا مطلقعہ ادارے نے یا معاشرے نے بذات خود ان عوامل کے تدارک کی کوشش کی ہے۔

چلیں آج پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہونے والے کچھ جرائم پہ نظر ڈالتے ہیں اور کچھ اعداد شمار کو آپ تصاویر کی مد د سے دیکھ سکتے ہیں۔

یہ تمام مواد پنجاب پولیس کی ویب سائیٹ سے لیاہے اور کوئی بھی وہاں یہ معلومات دیکھ سکتا ہے

کیوں کہ بات بچوں سے شروع ہوئی ہے تو
آپ کو بتاتا چلوں ابھی بھی ضلع لاہور میں 50 سے زاہد، معصوم گم شدہ بچوں کی معلومات ویب سائیٹ پہ موجود ہیں جو گم شدہ ہیں اس کے علاوہ 28 اضلاح کی فائلز بھی موجود ہیں جن میں ان اضلاع میں گم شدہ بچوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ ان کیسس پہ کیا پیش رفت ہورہی ہے اور ان بچوں کے والدین کی کیا کفیت ہےاللہ کی ذات جانتی ہے۔
کہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اب تک کتنے بچوں کو بازیاب کرایا جا چکا ہے۔
اپریل سے لیکر جولائی تک 30 سے زاہد لوگ مسنگ ہیں یا گم شدہ ہیں۔ یہاں بتاتا چلوںکہ مسنگ پرسنز کا ہر 3 ماہ بعد مواد اپٹ ڈیٹ کیا جارہا ہے۔ ان مسنگ پرسنزیا گم شدہ لوگوں کی برآمدگی یا کھوج کا بھی کوئی ریکاڈر نہیں ہے۔
اب پنجاب میں جولائی 2018 اور جولائی 2019 تک یعنی 6 ماہ میں ہونے والے کیسس پہ نظر ڈالتے ہیں۔
2018 میں صرف 6 ماہ کے اندر223581 کیس رجسٹرڈ ہوئے جب کہ 2019 میں 28084 کیس رجسٹرڈ ہوئے۔

2018 میں168598 اور 2019 میں206502 کیسس کے چلان ہوئے۔
2018 میں 60812 کی پروسکشین ہوئی جبکہ 2019 میں 65384 پروسیکوٹ ہوئے۔

وہ کیس جن میں جرم ثابت نہ ہوا اور خارج ہوئےان کی تعداد 2018 میں46205
میں اور 2019 میں 50992تھی۔

اگر پروسیکوٹ اور acquitted کیسس کی تعداد کو ملایا جائے تو وہ 116350 کے قریب بنتی ہے۔ اور اگر اسے 2019 کے ٹوٹل چالان ہوئے کیسس سے منفی کیا جائے تو باقے کیس 90000 کے قریب ہیں ان کیسس پہ کیا پش رفت ہے اس سے پولیس ، عدلیہ کی کارگردگی اور ریاست کی دلچسپی سامنے آجائے گی۔ یاد رکھیں یہ مواد صرف 6 ماہ جولائی 2019 تک ہے






یہاں یہ بتانا چلوں ہم ایک اسلامی جمہوریہ ہیں اور بہت سی چیزیں ہم مذہب اور معاشرے سے سیکھتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر چیز کی زمہ داری حکومت وقت پہ ہو کچھ جرائم ایسے بھی ہیں جن کا تعلق معاشرے سے اور خاندانی پرورش ،تعلیم تربیت ،اخلاقیات سے بھی ہے۔ 2018 او 19 میں صرف چھ ماہ میں 2000 ہزار سے زاہد ریپ یعنی زنا کے اور 8000 سے زاہد اغوا کے کیس رجسٹرڈ ہوئے۔ زنا ایک ایسا المیہ ہے لوگ اپنی عزت بچانے کے لئے قانون کا سہارا بھی نہیں لیتے اور ہو سکتا اس سے زیادہ تعداد میں کیسس رجسٹرڈ بھی نہ ہوتے ہوں۔ اور اس کے علاوہ غیرت کے نام پہ قتل ،اغوا، پولیس مقابلے، گاڑیاں چوری ہونےاور دوران پولیس ہلاکتیں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے۔

آج عمرانیات بھی سانئسی علم طور پڑھایا جاتا ہے۔ اور سانئسی جدتوں کو اپنا کر ہم معاشرے میں بگاڑ کو کسی حد تک درست کر سکتے ہیں۔ اصولی طور پہ زمہ دار ریاست اور اس کے ماتحت اداروں پر ہی ہے کہ وہ ہی امن و امان کو برقرار رکھیں۔ ایک ریاست کو کیا کرنا چاہیے اور پولیس بحثیت ادارہ کیسے اپنی کارگردگی بہتر کر سکتا ہے اس پر اپنی رائے دینے کی کوشش کروں گا۔۔۔۔۔۔۔continue

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں