212

پرکھنا مت ، پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا

پرکھنا مت ، پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئینے میں ، دیر تک چہرہ نہیں رہتا
✵✵✵✵✵
بڑے لوگوں سے ملنے میں ، ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں‌ دریا سمندر سے ملا ، دریا نہیں رہتا
✵✵✵✵✵
تمہارا شہر تو بلکل ، نئے انداز والا ہے
ہمارے شہر میں بھی اب ، کوئی ہم سا نہیں رہتا
✵✵✵✵✵
محبت ایک خوشبو ہے ، ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
کوئی انسان تنہائی میں بھی ، تنہا نہیں رہتا

کلام: بشیر بدر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں