[تخیُّل و ترتُّب: ڈاکٹر ریاض رضیؔ]

رات کا یہ پہر بتلارہا ہے کہ تیری پریشانی خاصی گھمبیر ہے۔ تُو جُٹا ہے اور تیری خواہش ہے کہ ظلمتِ شب کو اُجالا مل جاٸے۔ پر قسمت کی دیوی مہربان ہوتے ہوتے نامہرباں ہوگٸی۔

سیاست کی تیری دانشوری نے علم و عمل کے دریا جو بہاٸے کہ سمُندر بننے کی دیری ہے۔ پھر جو انداز ہوگا کہ وہ زمانے میں لاجواب ہوگا۔ تیری ہر ادا میں تکبّر ہوگا، غرور ہوگا اور تمسّخُر ہوگا۔

مذہب کی بحث سے چلا تھا تُو، اب عالمِ تسخیر کی اُمنگ ہے۔ بات بڑھی تھی ایک چھوٹے سے مسٸلہ سے، نہ جانے کہ مسٸلہ قہر و جبر کا ستم زدہ پہلو کب عُود کر أیا۔

دہشت سے دہشتگردی سے ہم بھی ہیں نالاں، تبھی تو ہماری قُربانی کی لمبی فہرست ہے أویزاں۔ مریں بھی ہم اور الزام بھی ہم پر، بھگتیں بھی ہم اور سہہ جاٸیں بھی ہم۔۔ ہزاروں کی قُربانی دی ہے کوٸی تو وجہ ہوگی؟ سوال ہے کہ کیا پھر بھی ہمیں دہشت سے، دہشتگردی سے اُلفت رہی ہوگی؟

وہ فعل قابلِ مذمت ہے کہ جس میں اِنسانیت کا وجود مٹ جاٸے، وہ عمل قابلِ نفرت ہے کہ جس میں سُکون چھن جاٸے، سُہاگ لٹ جاٸے اور گودی اُجڑ جاٸے۔ ہر جُرم کی ہم سختی سے ملامت کرتے ہیں۔۔ یہ بات ہم ڈنکے کی چوٹ پہ کہتے ہیں۔۔ وہ اِنسان ہی کیا جس میں اِنسانیت نہ ہو، أفاقیت نہ ہو اور اِجتماعیت نہ ہو۔ اُسی راستے کے ہم راہی ہیں کہ جس میں امن کا سبق ملا ہے۔ اِنسانیت کو احترام ملا ہے۔ پھر بھی یقیں نہ تو أ دیکھ! ہمارے رہنماء(ﷺ) کا چمکتا دمکتا چہرہ کہ جس کی پوری ذات عالمین کےلٸے رحمت ہے، برکت ہے اورشفقت ہے۔

فردِ واحد کی چال کا میں ذمّہ دار بھی نہیں۔۔ میں اِجتماع ہوں، فردِ واحد کے کسی عمل سے سروکار بھی نہیں۔۔میری حمیّت کا غیرت کا میں علمبردار ہوں۔ جو بھی دہشت پھیلاٸے اُسے میں بیزار ہوں۔ میری نظر میں وہ جانور ہے، پُر خطر ہے اور اِنسانیت کےلئے بے ثمر ہے۔

کبھی مذہب کو زینہ بنایا تو کبھی سماج کے انگنت مساٸل تیری گفتگو کا محور بن گٸے۔

یہ بھی کیا کم تھا کہ تو سیاست کا عالم بن گیا۔ زیر و زبر کی پرکھ تھی کہ تو مفسر بن گیا۔ اب تو اِنتہا ہوگٸی کہ تو شیر وشکر بن گیا۔

کبھی مُفلسی کی پرواہ کی ہے کہ ہم تیرے خلوص کو سمجھیں؟ کبھی مظلوم کی أہ پر لبیک کہی ہے کہ ہم تیرے ہمنوا بن جاٸیں؟

نادانی سی مت کر کہ ابھی چمن میں بہار ہے۔ جو عُقدہ کھلا کبھی تو پھر اِنسانیت کی ہار ہے، مار ہے اور یلغار ہے۔

سنبھل! کہ اب بھی وقت ہے سمجھداری کا اور ذمّہ داری کا۔ نہیں تو وقت کا حساب ہوگا، اِنسانیت کے ہجوم میں تیرا حِجاب ہوگا، پھر أگے کی زندگی میں عذاب ہی عذاب ہوگا۔

بھول گیا تو کہ کبھی ”ہیروشیما“، ”ناگاساکی“ بھی دوشہر تھے۔ لاکھوں انسانوں کا پڑاٶ تھا یہاں، چہل پہل تھی، زندگی جینے کا ہر بہانہ تھا۔۔پھر ایک دن قیامت ٹوٹ پڑی یہاں، کہ انسان تو انسان مکان نہ رہا، دربان نہ رہا اور زندان نہ رہا۔ پل بھر کی دیر تھی کہ سب کچھ پگھل گیا۔ پہلی بار ہوا کہ جیتے جی انسان روٸی میں تبدیل ہوکر فضا میں تحلیل ہوگیا۔

کتاب کُھلی ہے، یاد کرنا ہوگا اور سوچنا ہوگا کہ بات بڑھی تو دُور تلک جاٸے گی۔ پھر سے وہ اِنسانیت سوز واقعہ کا تکرار نہ ہوجاٸے۔۔ پھر سے ہوا، انسان اور فضا کا تال میل نہ ہوجاٸے۔ قبل اس کے کہ کچھ انہونی ہوجاٸے امن کی طرف سُکھ کی طرف اور سب سے بڑی بات کہ اِنسانیت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ یہی کسی بھی مسٸلہ کا اوّلین حل ہے۔