606

پاکستان کی پہلی مفت تعلیم اور رہائش فراہم کرنے والی یونیورسٹی کا اجراء

پاکستان کی پہلی مفت تعلیم اور رہائش فراہم کرنے والی یونیورسٹی کا آغاز 14اگست 2018ء کو کیا جائےگا ۔ اخوت کے بانی اورچئیرمین ڈاکٹر امجد ثاقب کے مطابق یہ ملک کی پہلی یونیورسٹی لاہور کے قریب قصور میں ہو گی جہاں پر ملک بھر سے آنے والے طلباء و طالبات کو مفت معیاری تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دو دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کو رہائشی اور کھانے پینے کی سہولیات بھی مفت فراہم کی جائینگی۔ اس یونیورسٹی میں 600 سے زائد طلباء و طالبات کو تین مختلف شعبوں میں ماسٹرز کی ڈگری کے لیے داخلے دیے جائیں گے۔

حال ہی میں پاکستان کے اس عالمی شہرت یافتہ فلاحی ادارے اخوت فاؤنڈیشن کو سویڈن میں باقاعدہ تنظیم کی حیثیت سے اخوت سویڈن کے نام سے رجسٹر کرلیا گیا ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والی یہ واحد فلاحی تنظیم ہے جو سویڈن میں رجسٹر ہوئی ہے۔ اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے اپنے گزشتہ سویڈن کے دورہ میں اردو قاصد کو بتایا کہ ہم پاکستان میں پہلی بارایک ایسی یونیورسٹی قائم کر رہے ہیں جہاں مستحق طلباء و طالبات کے لیے فیس کی تمام ادائیگی معاف ہوگی۔ یہ مفت تعلیم ایک طویل مدت پر مشتمل ایک قرضِ حسنہ کی صورت میں ہوگی ۔ یعنی طلباء وطالبات پہلے اس یونیورسٹی سے بغیر فیس دیے تعلیم مکمل کریں گے اور پھر 5 سال ، 10 سال یا 20 سال کے بعد جب وہ اس فیس کو دینے کے قابل ہوجائیں گے تو اُس پیسے کو واپس کریں گے۔ وہ طلباء طالبات جو اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے جب برسرِروزگار ہونگے وہ اس بات کا احساس رکھیں گے کہ آنے والے طالب علم بھی اس سے مستفید ہوں ۔
واضح رہے کہ اخوت فاونڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب کی سربراہی میں دنیا بھر میں قرضہ حسنہ دینے والی سب سے بڑی تنظیم ہے اور اب تک پورے پاکستان اور ۤزادکشمیر کے چھبیس لاکھ سے زائد لوگ اخوت کی مدد سے معاشی طور پر اپنے پاوں پر کھڑے ہوگئے ہیں ۔ اخوت کے تحت بہت سے دیگر فلاحی منصوبوں کے علاوہ مستحق طلبا کے لیے مفت اعلی تعلیم کے لیے اخوت یونیورسٹی قائم کی جارہی ہے۔ اخوت فاونڈیشن کے سویڈن میں رجسٹر ہونے سے اسکینڈے نیویا میں مقیم عوام باآسانی اپنے عطیات دے سکیں گے۔
اردو قاصد سے بات کرتے ہوئے سویڈن میں اخوت سویڈن کے صدر ڈاکٹر عارف کسانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے تعلیم و تربیت ہے۔ یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ اخوت یونیوسٹی میں تعلیم کے ساتھ تربیت پر خوصی توجہ دی جائے گی۔ جب تک ہم اعلیٰ تعلیم کے میدان میں آگے نہ بڑھیں تب تک ہم نہ ہی ترقی کر سکتے ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی برادری کے ساتھ مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ لیکن افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا طالب علم بنیادی تعلیم تو مکمل کر لیتا ہے لیکن اعلیٰ تعلم کے حصول سے محروم رہتا ہے۔ ایسے محروم طلب علم کو اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے لیے جو جدوجہد ڈاکٹر امجد ثاقب کر رہے ہیں اس مقصد کو پورا کرنے کی ہم کی بھر پور کوشش کریں گے جس کے لیے ہی اخوت سویڈن کا تشکیل بھی دی گئی ہے۔
ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا تھا کہ یہ رہائشی یونیورسٹی ایک ایسا قومی ادارہ ہوگی جہاں 20 فی صد طالب علم پاکستان کے ہر صوبے سے تعلیم حاصل کرنے آئیں گے۔ اخوت پہلے سے ہی لاہور میں کالج چلا رہا ہے جہاں نہ صرف مفت تعلیم دی جاتی ہے بلکہ وہاں تمام صوبوں سے 300 مختلف سے زائد طالب علم رہائش پذیر بھی ہیں۔

یہ طلبہ مختلف مذاہب، قبیلوں اورعلاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے درمیان کسی قسم کا بھی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاتا جو اخوت کی بہترین مثال ہے۔

یہ کالج پری میڈیکل، پری انجینئرنگ اور آئی سی ٹی کورس کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ کالج میں داخلے کے لیے طلباء و طالبات کو میٹرک کے امتحان میں 75 فی صد تنائج کے حصول کے بعد کالج کے منعقد کردہ داخلی امتحان کو پاس کرنا لازمی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں