کراچی (اسٹاف رپورٹر)ٹائمزکی ہائیرایجوکیشن ورلڈیونی ورسٹی رینکنگ میں پاکستان کی صرف تین یونیورسٹیاں عالمی فہرست کی پہلی ہزاریونیورسٹیوں میں شامل ہیں،جس میں کامسیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کانمبر 601سے 800کے درمیان آتاہے ،جبکہ فیصل آبادکی زرعی یونیورسٹی اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسزاینڈٹیکنالوجی کانمبر 801سے 1000کے درمیان ہے۔المصطفیٰ ویلفیئرسوسائٹی کے سرپرست اعلیٰ سابق وفاقی وزیرڈاکٹرحاجی محمد حنیف طیب نے اس رپورٹ پراظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ عالمی سطح پر کہیں کوئی تعلیمی ادارہ کسی ایک شعبہ میں برتری رکھتا ہے تو یہ ہمارے لئے خوشی کی بات تو ہے مگر قابل فخر نہیں ۔انہوں کہاکہ عالمی سطح پر جاری شدہ رینکنگ کا معیا ر مغربی جامعات کی تعلیمی سطح کے مطابق ہوتاہے، جبکہ مشرقی جامعات میں بالخصوص پاکستان کا تعلیمی نظام دیگر سے مختلف ہے۔تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے،ترقی یافتہ ممالک میں نظر دوڑائی جائے تو وہاں ایک صحت مند تعلیمی نظام موجودہے ،انہوں نے کہاکہ اول تو پاکستان میں جامعات کے تعلیمی معیارکو بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ذمہ داری ہائیرایجوکیشن اور وزارت تعلیم کی ہے،جب تک حکومت تعلیم کے معیارکوبہتر نہیں بنائے گی ہمارامعیارتعلیم مغرب تو درکنارایشیائی جامعات کے برابر بھی نہیں ہوسکتا یہ ہی وجہ ہے کہ کم عالمی تعلیمی درجہ بندی میں پاکستان کا نام سب سے نچلی سطح پر ہی شمارکیاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھ کریہ غورکرناچاہیے کہ آخرروزبروزتعلیمی معیارکا گراف کیوں گرتاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ اﷲکرے ہمارے سیاستدانوں کو آپس کے اختلافات سے نجات حاصل کرنے اور ملک کوبہتر بنانے میں توفیق عطا فرمائیں ۔
جاری کردہ ۔معین خان ۔سیکریٹری نشرواشاعت۔المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی۔0333-3096439