گزشتہ ماہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز اور اخبارات میں یہ خبر گردش کررہی تھی کہ گڈانی کے سمندر کی گہرائی میں موجود ڈوبے جہاز کا حصہ غوطہ خوروں کو ملا ہے۔ اس خبر میں میری دلچسپی کا باعث غوطہ خوری کا تفنن تھا۔آج کی تیز مشینی دو ر اور مقابلے کی فضاء میں انسان کام، نیند، تفریح اور سماجی فرائض سے تھک کر چور ہوجاتا ہے اور اس کا حل وہ تفنن میں ڈھونڈتا ہے۔ تفنن تفریح کی ایک قسم ہے جس سے مراد کوئی بھی ایسی سرگرمی ہے جو لوگوں کو فرصت کے اوقات میں اپنے آپ کو مسرور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ جیسے سکینگ، سرفنگ، گھڑسواری، ماہی گیری، غوطہ خوری وغیرہ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 2 کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی کے بسنے والوں میں سے کتنے افراد غوطہ خوری جانتے ہیں ۔ میرے خیال سے اس معاملے میں کسی سروے کی ضرورت نہیں اگر میں اپنے ارد گرد یا خاندان ، دوست احباب میں جائزہ لوں تو میں یقین سے کہ سکتا ہوں کے کوئی بھی غوطہ خوری نہیں جانتا۔

جس طرح سویڈن میں بچوں کو اسکول میں تیراکی، اسکیٹنگ اور اسکینگ کی بنیادی تربیت دی جاتی ہے کیونکہ یہاں شدید سردی اور برف باری ہوتی ہے تو اسی مناثبت سے تفریح ، کھیل ، تربیت اور مقابلوں کا انعقاد کیا جاتاہے ۔ تو کیوں سمندر اور آبی حیاتیات کا ذخیرہ ہمارے ملک میں موجود ہونے کے باوجودبچوں کو غوطہ خوری کی بنیادی تربیت اور توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔
پاکستان میں غوطہ خوری کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے کی غرض سے اُردو قاصد نے مہم جوئی کے شوقین اور فطرت کے شاہکار کے متلاشی سید خضر شریف سےرابطہ کیا۔ خضر شریف 2015 سے اسکوبا ڈائونگ یعنی غوطہ خوری کر رہے ہیں ۔خضر شریف غوطہ خوری کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی کے بھی شوقین ہیں اور ہفتہ وار تعطیل میں اپنے دوستوں کے ساتھ سمندر میں چُھپے حسین مناظر کو کیمرے میں قید کرتے ہیں۔

نیلے شفاف پانی میں لی گئی ان کی تصاویر حیران کن ہیں اور یقیناً اگر اس کی صحیح تشہیر کی جائے تو آبی حیاتیات کے شوقین سیاحوں اور غیر ملکی غوطہ خوروں کی دلچسپی کو متوجہ کر سکتیں ہیں ۔
سید خضر شریف کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے شعبہ سیاحت نے تسلیم کیا ہے کہ سیاح خاص طور پر اس طرح کی سرگرمیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے محکمہ سیاحت تفنن کے مواقع، ان کی تخلیق اور بحالی پر خاص توجہ دیتے نظر آتے ہیں جس کا مثبت اثرملک کی معیشت پر پڑتا ہے۔

خضر شریف کا کہنا تھا کہ اس وقت کراچی شہر میں PADI سے تصدیق شدہ دو ڈائونگ سینٹر ہیں۔ پروفیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائونگ انسٹریکٹرز ایک بین الاقوامی اور معروف ترین مستند ایجنسی ہے۔دنیا بھر میں 60 فی صد سے زائد غوطہ خور PADI سے سند یافتہ ہیں اور تقریباً 70 فی صد سے زائد اسکوبا انسٹریکٹر PADI کے ہیں۔ PADI کا تربیت کے معیار پر سختی سے عمل اور اس کی بین الاقوامی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ آپ سب سے بہترین سکوبا تربیت حاصل کرتے ہیں اور آپ کی PADI سرٹیفیکیشن پوری دنیا میں تسلیم کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بچوں کے لیے بھی تربیتی کورس موجود ہیں ۔ 10 سال کی عمر سے بچہ جونیئر اوپن واٹر کورس میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بحری حیاتیات اور سیاحت کے حوالے سے پاکستان کے ساحلی علاقے اہمیت کا حامل ہیں۔
اداروں کی عدم توجہ کے باعث بحری حیاتیات کو خطرہ لاحق ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مقامی لوگوں کی اکثریت بحری حیات کے حوالے سے آگاہ نہیں ہے اور جب وہ سیر و تفریح کے لیے ساحل کار رخ کرتے ہیں تو یہاں پلاسٹک کی بوتلیں ، استعمال شدہ اشیاء اور گندگی پھیلا جاتے ہیں جس کی وجہ سے بحری حیاتیات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ سمندری حیات کے بارے میں آگہی مہم تشکیل دینے کی اشد ضرورت ہے اور یہ ہماری سماجی ذمہ داری بھی ہے۔