وقت واپس لوٹتا نہیں ۔
جب خطاوں کا احساس ہوتا ہے
پہل کرنے سے میں ڈرتا ہوں
دیر کرنے کی مجھے عادت ہے۔
چلتی ہوائیں واپس لوٹتی نہیں
جب چھو کر گزر جاتی ہیں
تیری یادوں سے میں ڈرتا ہوں
یاد کرنا تجھے میری عادت ہے
وہ دن تھے جو گزر گئے
جب سوتا تھا تو میرے بازو پر
روتا ہوں اب ان لمحوں کو
رونا اب میری عادت
لوگ بادلوں میں چاند کو ڈھونڈتے تھے
میں لوگوں میں چاند کو ڈھونڈتا تھا
اب جب بھی چاند رات آتی ہے
چھت پر چڑھنا میری عادت ہے
چوڑی والا گلی سے گزر گیا
ہر کلائ نے چوڑی پہنی ہے
وہ رویا تھا ٹوٹی چوڑی پر
ٹوٹی چوڑی جیب میں رکھنا میری عادت ہے