تحریر: محمد شعیب صدیقی

آج کل کرونا وائرس سے دنیا بھر میں خوف کی فضا قائم ہے اور اسی خوف کے پیش نظر دنیا بھر کی حکومتوں نے اپنے اپنے ملکوں میں لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے. جس سے تقریباً دنیا کے تمام ہی ممالک میں اسکول.،کالج، یونیورسٹیاں، دفاتر، کاروبار، اسٹاک ایکسچینج اور صنعتیں بند ہو گئ ہیں. پوری دنیا معاشی طور پر منجمد ہو گئ ہے. ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر یا تیسری دنیا کے ممالک، اس میں کسی قسم کی تخصیص نہیں ہے. اور آج دنیا کی بڑی شخصیات بھی اس میں. مبتلا ہونا شروع ہو گئی ہیں جن میں برطانیہ کے شہزادہ چارلس، کینیڈا کے صدر جسٹن ٹروڈو کی اھلیہ اور کئ نامور کھلاڑی، اداکار اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں. حتٰی کہ اس وائرس اور بیماری سے ڈاکٹر بھی متاثر ہو رہے ہیں. ترقی یافتہ ممالک کے ڈاکٹر جو اپنے آپ کو پوری طرح سے حفاظتی انتظامات کے ساتھ رکھتے ہوئے اپنے کام کو سرانجام دے رہے ہیں وہ بھی اس کا شکار ہو گئے ہیں. میرا ایک ڈاکٹر دوست جو برطانیہ میں پچھلے25 سال سے مقیم ہے. وہ 20 دن سے اپنی ڈیوٹی تندہی سے انجام دے رہا تھا مگرآج اس بیماری کا شکار ہو گیا اور اس کو اسپتال انتظامیہ نے قرنطنیہ میں رکھ دیا. اللہ تعالیٰ اس کو صحتیابی عطا فرمائے.
تو جناب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں جو معاشی بحران سے متعلق ہے. اس لاک ڈاؤن کے نتائج آج اتنے واضح نظر نہیں آرہے لیکن جب لاک ڈاؤن ختم ہو گا تو دنیا معاشی طور پر 6 ماہ پیچھے چلی گئ ہو گی. جس طرح سے دوسری جنگ عظیم کے بعد وہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا دور تھا. نئ ایجادات اور تھیوریاں تخلیق پا رہی تھیں. برطانیہ اور فرانس اپنی کالونیاں چھوڑ کر جا رہے تھے. لوگ محنت کے عادی تھے تو انہوں نے معاشی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت سے معاشی استحکام کیلئے کام کیا اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک حتی کہ ترقی پذیر ممالک بھی اپنے ملک کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہوگئے. پاکستان بھی 1945 کی دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد معرض وجود میں آیا. قائد اعظم محمد علی جناح نے انتھک محنت اور غوام کے جذبات کے ساتھ پاکستان کو مضبوط بنایا مگر ان کے انتقال کے بعد پاکستانی قوم آہستہ آہستہ علاقائی اور لسانی بنیادوں پر بٹنے لگی. لوٹ مار اور کرپشن قوم کی شناخت بننے لگا. 1965 کے بعد حالات مزید ابتری کی طرف جانے لگے. پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد تو پاکستانی قوم ایک قوم سے ہجوم میں تبدیل ہو گئ اور اب علاقائی اور لسانی بنیادوں کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر بھی منقسم ہوگئی ہے. اس میں سب سے بڑا کردار سیاسی جماعتوں اور ان کے ساتھ ساتھ مذہبی سیاسی جماعتوں کا ہے. جنھوں نے قوم کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے چھوٹے چھوٹے گرہوں میں منقسم کر دیا. بحرحال اب موجودہ صورتحال میں جب کہ اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان معاشی طور پر 6 ماہ یچھے ہو گیا ہے اور جب لاک ڈاؤن ختم ہو گا تو اس کے آثار نظر آنا شروع ہوں گے. صنعتوں کی بندش سے پروڈکشن رک گئ ہے. اس کا اثر حکومت کی مشینری پر بھی پڑے گا مگرعام آدمی سب سے زیادہ متاثر ہو گا. جب ان کو تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہو گی. ہر شخص اپنی مجبوری بتا کر لوگوں کو پیمنٹ نہیں کر سکے گا. تنخواہ دار طبقہ، جن میں پرائیوٹ اداروں کے اساتذہ اور مزدور پیشہ افراد، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے. لوگ اپنے بچوں کی فیسیں نہیں بھر پائیں گے تو پرائیویٹ اسکولوں کے مالکان اساتذہ کو تنخواہیں ادا نہیں کر پائیں گے. ابھی رمضان کی آمد آمد ہے اور ہمیں پتا ہے رمضان اور عید میں کتنی ہی کفایت شعاری کر لیں مگر خرچ عام ماہ سے زیادہ ہی ہو جاتا ہے. اس بارے میں سوچ کر تقریباً پاکستان کی 85 فیصد آبادی سخت پریشانی کا شکار ہو گی ہے. ابھی تو ہم وائرس کے بحران سے نمٹ رہے ہیں مگر ایک اور بحران اپنے پر پھیلانے کھڑا ہے. اس سلسلے میں حکومت کا کردار کہیں نظر نہیں آرہا اور اس کا غیر سنجیدہ رویہ ہر فورم پر دکھائی دے رہا ہے. قومی بحران سے نمٹنے کے لئے جو میٹنگ بلائی گئ تھی اس میں وزیراعظم نے غیر سنجیدہ رویہ اپنایا اور ذاتی مصروفیات کی وجہ سے میٹنگ سے چلے گئے اس بحرانی کیفیت میں کوئی بھی مصروفیات اہم نہیں چہ جائیکہ ذاتی مصروفیات. اپوزیشن کا کردار بھی مناسب نہیں تھا اس میں بھی غیرسنجیدہ رویہ نظر آیا اور اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے سیاست کرتے نظر آئے. قوم اس وقت اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہے. حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کوئی مربوط معاشی پالیسی بنانی پڑے گی ورنہ تو لاک ڈاؤن کے بعد ملک میں بھونچال آ جائے گا اور اللہ نہ کرے کہ ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت ہو جائے. یہ بات میں نے اس لئے کہی کہ آج جب ہم میں سے کوئی انفرادی طور پر یا کسی فلاحی ادارے کے تحت کسی علاقے میں مدد کے لئے جا رہا ہے تو اگر اس کے پاس مناسب سیکورٹی کا انتظام نہیں تو اسے سخت مشکلات کا سامنا ہے. لوگ بری طرح سے چھینا جھپٹی شروع کر دیتے ہیں اور اگر وہاں سے بھاگ نہ سکے تو ہو سکتا ہے کہ لوگ جان سے مارنے سے بھی گریز نہ کریں. اس سلسلے میں جلد حکومت کو اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا کرنا ہوگا اور اپنی شاہ خرچیوں کو کم کرکے ایک مربوط معاشی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا.