کبھی تو دھوپ بھی نکلے مرے تاریک آنگن میں
کبھی بادِصبا بھی گزرےاِس ویران گلشن میں

کبھی تو موسموں کی سختیوں کا دِل پگھل جائے
کبھی تو ربط ٰآجائے دلِ مضطر کی دھڑکن میں

کبھی تو شادمانی کی دھنک ہر سُو بکھر جائے
کبھی تو سلسلہء کشت و خوں تھک کر ٹھہر جائے

کبھی تو تازہ دم بھی ہونے دے اے گردِش دوراں
کبھی تو نفرتوں کا قافلہ منزل بھٹک جائے

کوئی بازارِ وحشت میں محبت کی دکاں کھولے
کوئی تو دل فِگاروں کے دلوں کے زخم بھر جائے

کبھی تو دلوں کے فاصلے یہ دور ہوں سارے
کبھی تو ظلم و جبر کی شکست تقدیر بن جائے

کبھی تو پوری ہو جائیں یہ ساری خواہشیں مِری
کبھی تو فرق ہو معلوم وطن میں اور مدفن میں!
( فرحان علی)