131

محمد بن قاسم سے پاکستان تک – قسط ٢

جنگ پلاسی نے آزاد نظامت بنگال کا خاتمہ کر دیا اور انگریز حقیقی اختیارات کے مالک بن گئے. انگریز اپنے اقتدار کو مزید پھیلانا چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے اس کے لیے اپنی تدابیر اور تیز کردیں. انگریز کے اقتدار کی وسعت اور شرانگیزیوں‌کے خلاف حیدر علی اور ٹیپو سلطان مزاحمت بن گئے.

محمد بن قاسم سے پاکستان تک، قسط نمبر 1 پڑھیئے

حیدر علی جو محض اپنی ذاتی خوبیوں اور صلاحیتوں کی بدولت میسور کے ہندو راج میں اعلی ترین منصب پر فائز تھا. اس نے انگریز اقتدار کے خلاف آواز حق بلند کی اور میسور میں انگریز اقتدار کے خلاف حیدر علی کی جنگوں‌کا آغاز 1767 میں‌ہوا. میسور کے پہلے معرکہ میں‌حیدر علی نے ایک نڈر اور پر عزم مجاہد ہونے کے سبب انگریز کے خلاف فاتحانہ اقدامات کیے جن کے نتیجہ میں اسے فتح و نصرت عطا ہوئی. حیدر علی کے ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے انگریز کو صلح کی درخواست پیش کرنی پڑی جس کو حیدر علی نے نہ صرف قبول کیابلکہ ایک دفاعی معاہدہ بھی کیا. لیکن 1770ء میں جب مرہٹوں نے میسور پر حملہ کیا تو انگریز نے دفاعی معاہدہ کی پابندی نہ کی اور حیدر علی کو کوئی مدد نہ دی. لہٰذا حیدر علی نے انگریزوں کے خلاف دوبارہ ایک متحدہ محاذ قائم کرنے کی کوشش کی اور نظام اور مرہٹوں کو راضی کرنے میں کامیابی حاصل کی. حیدر علی نے عزم و سرگرمی کی بناء پر ایک چھوٹی سی اور غیر معروف ریاست کو برصغیر میں 18ویں صدی کی ایک اول درجے کی قوت بنا دیا.

حیدر علی نے نہ صرف انگریزوں کے خلاف پالیسی کی بنیاد رکھی بلکہ اپنے فرزند ٹیپو سلطان کے لیے یہ میراث چھوڑی. ہر چند کہ انکی مجاہدانہ پالیسیاں و سرگرمیاں عیارومکارو خوفناک مخالفت کے باعث کامیاب نہ ہوسکیں تاہم ان دونوں کو آزادی کے مجاہدوں کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائےگا. میسور کی دوسری جنگ کا آغاز حیدر علی نے انگریز کے خلاف بڑے شاندار طریقے سے کیا. اس جنگ کے دوران حیدر علی سرطان کے عارضہ میں‌مبتلاء ہوکر دسمبر 1786ء میں‌اس دار فانی سے کوچ کرگیا. حیدر علی کا فرزند ٹیپو سلطان اپنے باپ کی طرح ایک پر جوش اور حوصلہ مند مجاہد تھا. اس نے اپنے والد کی شروع کی ہوئی جنگ کو جاری رکھا اور انگریزکی پوری جوج کو نہ صرف اسیر بنا لیا بلکہ بنگلور پر اپنی فتح کا جھنڈا گاڑھ دیا. تنیجہ 1784ء میں انگریز کو ٹیپو سلطان سے صلح کرنی پڑی اور دونوں فریقین کے مابین علاقوں سمیت قیدیوں کی رہائی بھی عمل میں آئی. باوجود اس کے ٹیپو سلطان کو انگریزوں کا بخوبی اندازہ تھا کہ انگریز جلد ہی اس پر حملہ آور ہوں گے اور ایسا ہی ہوا. انگریز ٹیپوسطان کو برصغیر میں مکمل اقتدار حاصل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے لہٰذا وہ دکن کی طاقتوں کے ساز باز کے نتیجہ میں ایک مرتبہ پھر ٹیپو سلطان کے مقابلے پر آکھڑے ہوئے. اس مرحلے پر مرہٹوں اور نظام نے بھی انگریز کا ساتھ دیا. ٹیپو سلطان نے ایک سال تک مداخلت کی لیکن دشمن کی اکثریت کے سامنے یہ مدافعت برقرار نہ رہ سکی اور سرنگا پٹم کے معاہدہ پر تیسری میسور کی جنگ کا اختتام ہوا. اگرچہ تیسری جنگ میں ٹیپو سلطان پر سخت ضرب لگی تھی مگر اس نے جلد اپنے فوجی اور مادی وسائل ازسر نو درست کر لیے اس پر انگریز سراسیمہ ہوگئے لیکن انہوں نے ٹیپو سلطان کو قوت کو تباہ کر ڈالنے کا عزم کیا ہوا تھا. ٹیپو سلطان نے انگریز کے خلاف مرہٹوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی. متحدہ فوجوں‌1799ء میں میسور پر حملہ کیا. ٹیپو سلطان نے انہیں روکنے کی کوششیں کیں مگر وہ کامیاب ہو نہ سکیں. خود ٹیپو سلطان نے مردانہ وار جنگ کرتے ہوئے شہادت پائی. اس طرح ایک بلند منزلت مجاہد آزادی کا شاندار دور حیات اختتام کو پہنچا. ٹیپو سلطان کی وفات کے بعد انگریزوں کو برصغیر میں کہیں بھی اس قدر سخت مزاحمت سے سابقہ نہ پڑا. حیدر علی اور ٹیپو سلطان جہاد آزادی میں حقیقتا نظام اور مرہٹوں کی غداری و عداوت کے باعث ناکام رہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

محمد بن قاسم سے پاکستان تک – قسط ٢“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں