72

مایوسی ضرور ہے لیکن ناامیدی نہیں۔ دباؤ پر رہا ہے لیکن احساس شکست خوردگی کو پاس آنے نہیں دیتے۔

لوگوں کو اپنا کام جاری رکھنے کے لئے تعریف اور ستائش کی ضرورت ہے۔ ان کے لئے نکتہ چینی اور منفی خیالات سے زیادہ ضروری تعریف اور ستائش کے ذریعہ مثبت رائے دینی ہے۔ دوسروں کے بارے میں مثبت سوچ رکھیں۔ کام اور تعریف توانائی کا پروردہ ہے لیکن تعریف کے بغیر کام کی کارکردگی میں کمی آتی ہے۔ انسان خدا پر ایمان لا کر مضبوط بنتا ہے۔ اپنے حالات پرنہیں۔ مشکل کے وقت خدا سے مدد مانگیں جو اس کی کمزوری کو طاقت میں بدل سکتا ہے۔
دوسروں سے اپنا مقابلہ کرنا بند کردیں۔ مقالہ کرنے سے ہم خود کو پسند نہیں کرپاتے۔ خود اعتماد بننے کے لئے ایک شعبہ تلاش کریں جس میں آپ اچھے ہیں اور اس میں ماہر بنیں۔ چاہے کھیل کود ہو، کوئی قدرتی صلاحیت یا ہنر۔ اس طاقت کا مسلسل استعمال کریں۔ اس طرح ہم دوسروں کو ان کے ہنر کا انکشاف کرنے میں مدد کر پاتے ہیں، اس کی نشونما میں ان کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں اور اس کا استعمال کرنے میں ان کی تربیت کر سکتے ہیں۔
کامیابی کا دار و مدار پندرہ فی صد کام کی معلومات پر ہے اور پچاس فی صد انسان کی معلومات پر ہے۔ کام اور منسلک لوگوں کی جانکاری سے ہم ان کی ضروریات کوپورا کرپاتے ہیں جس سے خود اعتمادی پنپتی ہے۔ پر اعتماد بننے کے بعد خود پر یقین کو بڑھانا چاہئے کیونکہ کامیابی اور ناکامی کے باعث عروج اور زوال آتا رہتا ہے۔ اگر آپ اس حقیقت کا استقبال کریں کہ آپ ہر چیز میں بہتر نہیں ہونگے، آپ کی اہمیت بالکل پست نہیں ہوگی۔ لوگ پر اعتماد لوگوں کے قریب رہنا پسند کرتے ہیں کیونکہ اس محبت سے ان کی بھی خود اعتمادی بڑھتی ہے۔ ہماری خوداعتمادی سے احباب اور اہلِ خانہ بھی زیادہ پر اعتماد ہونگے۔
تعریف میں بخل نہ کریں۔ اپنے اقوال سے ہم کار کی قدر کریں اور دوسروں کے سامنے تعریف اور خلوت میں کڑوی باتین بیان کریں۔پر اعتماد کردار، علم یا مہارت کی تلافی نہیں لیکن وہ ان چیزوں کی آب و تاب بڑھاتا ہے جس سے آپ اپنی چھاپ چھوڑ سکتے ہیں۔ خود اعتمادی علم یا مہارت کو جو آب و تاب بخشتی ہے اس سے رشتے زیادہ سازگار بنتے ہیں اور فرق نظر آنے لگتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں