313

لوگوں کے رویے تعلیمی شعبوں پر۔۔۔۔۔۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تعلیم ہی وہ واحد شے ہے جو انسان کو جاہل سے قابل اور قابل سے جاہل بنا دیتی ہے۔اگر بات کی جائے تعلیم کے حوالے سے تو یہ بولنا ممکن نہیں ہوگا کہ تعلیم چاہئے ڈاکڑ کی، انجینئر کی، ٹیچر کی،صحافی کی،وکیل کی یا پھر کسی بھی دوسرے شعبوں میں حاصل کی جائے۔ اسکی قدر و اہمیت بہت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس آج کے آزادانہ دور میں بھی کچھ پسماندہ خیال لوگ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ جو ڈاکڑ اور انجینیئر کی تعلیم کو بلخصوص اعلی تعلیم تصور کرتے ہیں۔ اور انہیں لوگوں کی وجہ سے نوجوان تعصب کا شکار ہوگئے ہیں۔

     وہ لوگ دوسرے تعلیمی شعبوں کو بہت حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جیسے کہ ان شعبوں کی زندگی میں کوئ قدر و منزلت ہی نہ ہوں۔ میرے خیال سے اس میں  ان کا قصور نہیں بلکہ آج کل کے والدین کا ہے۔ جو بچپن سے ہی اپنے بچوں کو پیسے کے بل پر اچھے سے اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرواتے ہیں۔ مگر عجیب بات تو یہ ہے کہ والدین بجائے پیسوں کے اس وقت اپنے بچوں کو محنت سے اور دل لگا کر پڑھنا نہیں سکھاتے۔ یہی وجہ ہے کے ان کے ماں باپ پیسے کی بنا پر اپنے بچوں کو پرایئوٹ ہونیورسٹی میں داخلہ کرواکر بہت فکر محسوس کرتے ہیں جہسے کے ان کے بچے نے میرٹ کے بلبوتے پر داخلہ لیا ہو۔ اور وہ بچے جو ڈاکڑ اور انجینئر کی اتنی مہنگی فیس افورڈ نہیں کر سکتے، مگر پھر بھی اپنی قابلیت کی بنا پر دوسرے شعبوں میں داخلہ لے لیتے ہیں۔ تو ان کی قابلیت کو لوگ گردانتے ہی نہیں ہیں۔

        کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ وہ بچے جو ڈاکڑ اور انجینئر نہ بن سکے۔ آخر میں وہ کتنی مشکلوں سے دکھے کھا کھا کر،دوسرے تعلیمی شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اور لوگ ! ان کو بیکار اور فضول سمجھتے ہیں۔جبکہ ان لوگوں کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ یہی وہ شعبے ہیں جن کی وجہ سے زندگی میں کافی اسانیاں اور ترقیاں پیدا ہوگئ ہیں۔ جس کی بہترین مثال الیکڑونک میڈیا بھی ہے۔ بات یہ نہیں ہے کہ وہ شعبے اہمیت نہیں رکھتے بلکہ دراصل ان لوگوں کو ان شعبوں سے متعلق کوئ علم نہیں ہوتا۔ اس کی بہترین مثال یہ ہے کہ اگر کوئ بچہ ڈاکڑ یا انجینئر ہو تو لوگوں کا رویہ بہت الگ اور متاثر کن ہوتا ہے، جبکہ اگر کوئ بچہ ڈاکڑ یا انجینئر سے ہٹ کر صحافت، معاشیت،اکاونٹس یا پھر کوی اور شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہا ہو تو ان ہی لوگوں کا رویہ بہت عام سا ہوجاتا ہے۔جیسے کہ بہت بیکار یا فضول سا سمجھتے ہوں۔

        میرے خیال میں اسکی واضح وجہ یہ بھی ہوتی ہوگی کہ ان کو ان شعبوں کے بارے میں علم نہیں ہوتا۔ وہ شاید ڈاکڑ یا انجینئر کے شعبے کو ہی عزت اور فکر سمجھتے ہوں۔ میں بھی اس بات سے بلکل صحمت ہوں کہ ڈاکڑ اور انجینئر کی تعلیم بہت اچھی اور کہیں حد تک قابل فکر بھی ہوتی ہے۔ اور میں اگر اپنے شوق سے  صحافی نا بنتی تو ضرور ڈاکڑ بننا چاہتی۔ مگر صرف کچھ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ ۔۔۔۔ اگر کوئ بچہ ڈاکڑ اور انجینیئر کی تعلیم کے بجائے کوئ دوسری اعلی تعلیم حاصل کرتا ہے تو کیا وہ بھی عزت کا اتنا مستحق نہیں ہوگا جتنا کہ ڈاکڑ اور انجینیئر؟ کیا اسکو ڈی گریڈ اور عام سمجھنا چاہئے؟ کیا وہ محنت سے نہیں پڑھتے؟کیا ان بچوں میں قابلیت کی کمی ہے؟ ایک بار دل سے ضرور سوچیئے گا۔۔۔۔۔۔۔ کیا پتہ آپ کو اس کا جواب مل جائے۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں