88

لاک ڈاؤن کی کہانی

وبا کے دنوں میں یہ کیا دہائی ہے،
ورک فرام ہوم نے میری جان پھنسائی ہے،
ورک لائف بیلینس کی اڑگئیں دھجیاں،
نہ دن کا پتہ نہ رات نظر آئی ہے،
ٹیمز پر رکھی ہے میٹنگ دو دو گھنٹے کی،
وقت نہیں نکل رہا پڑی کپڑوں کی دھلائی ہے،
سمٹ گئیں دوریاں می٘سر ہوں کال کی دوری پر،
باس سمجھتے نہیں کرنی برتنوں کی صفائی ہے،
نکھر گیا ہنر بن گیا میں تو آل راؤنڈر،
کھانے میں بھائی نے آلو کی بھجیا بنائی ہے،
پرستار ہوئے میرے نہ صرف گھر والے،
اب تو پڑوسن بھی میرے کام کی شیدائی ہے،
غلطی سے جو لگ گئی وڈیو دوران میٹنگ،
حلیہ دیکھ چِل٘ا اٹھے تو کون میرے بھائی ہے،
جو بھاگتے تھے گھر سے گھنٹوں دوستوں میں،
چوبیسوں گھنٹے اب بیوی سے انکی پٹائی ہے،
شکر ختم ہوا کام اور بن گئی ساتھ ہانڈی،
ملی دونوں باسِس سے آج بڑی پذیرائی ہے،
ناشتہ ملا بارہ بجے چلو دوپہر کا کھانا کھالوں،
نماز کے وقفے میں بچوں کی فوج نہلائی ہے،
اچھا سنیں، پانی کی دھار کو کم رکھیں،
ابھی صبح ہی پانی کی موٹر چلائی ہے،
یہ کیا میں ہر وقت چائے ہی بناتی رہوں،
صبح سے بیگم سے اسی بات پہ لڑائی ہے،
لاک ڈاوْن میں صرف یہی نہیں، ہیں پنگے اور بہت،
میٹنگ کے بعد بچ٘ے کی جوائن کلاس آن لائن کرائی ہے،
پہلو مزاح کا اپنی جگہ پر معاملہ سنگین ہے بہت،
جلد لوٹ جائیں رونقیں دعا ہر زُبان پر آئی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں