250

قومیت کا فتنہ

قومیت کا فتنہ: ایک روایت اور علامہ اقبال رحمہ اللہ کی نظر سے
ذہن میں رہے ذات صرف ہماری پہچان کے لئے ہوتی ہے ۔ اس پر فخر کرنا مناسب نہیں۔ہم پہلے مسلمان ہیں پھر پنجابی پٹھان آرائیں بلوچ راجپوت جاٹ وغیرہ ہیں۔ اللہ کے نزدیک تم میں سے بہترین وہ ہے جو متقی ہے۔
آج مسلمان “وطن“، “قوم“، “حدود“ اور “آزادی“ جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔ ان اسطلاحات کا شریعت کی روشنی میں محاکمہ کرنا ضروری ہے۔ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مجلس میں بیٹھے تھے تو ہر ایک بتانے لگا کہ میں فلاں قبیلے سے ہوں اور میں فلاں قبیلے سے ہوں۔ (یہ سُن کر) حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہٰ و سلم سے فرمایا کہ “ان سب کے تو خاندان اور قبائل ہیں، میں کس قبیلے سے ہوں؟“۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٰ و سلم نے فرمایا: “سلمان ہم میں سے ہیں، اہل بیت میں سے ہیں“۔ پس رسول صلی اللہ علیہ و آلہٰ و سلم کے اِس فرمان سے انصار و مہاجرین کے درمیان آپ رضی اللہ عنہم کی اجنبیت بالکل ختم ہو گئی۔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٰ و سلم نے خود اُنہیں یہ شرف اور منصب عطا کیا، اِس کے بعد کون سی عصبیت باقی رہ جاتی ہے؟

علامہ اقبال رحمہ اللہ کچھ یوں ہم سے مخاطب ہیں۔۔۔۔۔

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
نشہ قے کو تعلق نہیں پیمانے سے

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی

دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی

اقوام جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے
تسخیر ہے مقصود تجارت تو اسی سے
خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے
کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے

اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

اللہ ہمیں قومیت اور عصبیت کے فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں