[vc_row][vc_column][vc_column_text]تاریخی شہر سکھر، ساتھ سہلیوں ، میناروں ،گمبدوں اور مسجدوں ، خوبصورت پلوں اور بیراج کا شہرہے۔ اپنی روایتوں، ثقافتوں اور تہذیبوں کی وجہ سے مشہورسکھر سندھ کا تیسرا بڑا شہر ہے جو دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔ جہاں جدد کے ساتھ دیہاتی طرزِ زندگی بھی آج تک موجود ہے۔ سکھر اور روہڑی جڑواں شہر ہیں جیسے اسلام آباد اور راولپنڈی ۔ جس طرح ہڈسن دریا نیویارک اور نیو جرسی کو الگ کرتا ہے اسی طرح دریائے سندھ سکھر اور روہڑی کے درمیان سے گزرتا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کی چادر اُڑھے یہ شہر اپنے اندر اپنی ثقافت کو قائم رکھا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں آپ کو جدید پُل تو دوسری جانب ہزاروں سال پرانے مزار ملیں گے۔
مگر اس شہر سےہماری انسیت کی وجہ میری دادھیال اور میری اہلیہ کی ننھیال ہے۔ بچپن میں گرمیوں کی چھٹیاں ہم اکثر سکھر میں اپنے رشتہ داروں، کزنز کے ساتھ گزارتے تھے اور خوب موج مستی بھی ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نےاپنے بچوں کے ساتھ یہاں کچھ وقت گزارنے اور پرانی یادیں تازہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوپہر کے 3 بج رہے تھے کھانے کی غرض سے ہم رہڑی ہائی وے پر واقع تاج ہوٹل پہنچے تازہ دم ہوکر کھانے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے ۔اسی وقت ہمارے بڑے صاحبزادے سیف الوھاب صاحب نے اپنے سوالوں کا پٹارا کھولا ، اور اپنے دادا ابو اور دادی امی سے پوچھنے لگے کہ "ہمارے سارے رشتہ دار سکھر میں کیوں رہتے ہیں ۔” سوال بچکانہ تھا لیکن جب والد صاحب نے وجہ بتائی تو اندازہ ہوا کہ یہ سوال اتنا بھی بچکانہ نہیں تھا۔[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column width=”1/2″][vc_column_text]پاکستان کے وجود میں آنے کے بعدآپ کے(سیف کے) پر دادا نے پاکستان منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ۔ رشتہ داروں کی بے پناہ مخالفت کے باوجود اپنی تمام تر آسائشیں، جائیدادیں اور کاروبار چھوڑکر 1950 میں وہ پاکستان آگئے تھے اور لائلپور کاٹن مل میں بطور اکاونٹنٹ ملازمت اختیار کی۔ لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں تبادلے کے بعد 1960 میں ان کا تبادلہ سکھر شہر میں ہوا اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے پاپا کے چاچا، پھوپھو اور کزن سکھر میں رہتے ہیں۔
ہمارے چھوٹے صاحبزادے حمزہ سوال کی دوڑ میں کیسے پیچھے رہ سکتے تھے ،کہنے لگے "تو پھر دادا ابو آپ لوگ کراچی میں کیوں رہتے ہیں ” ہمارے والد صاحب نے حمزہ کو گود میں سمیٹتے ہوئے کہا کہ جب مجھے سرکاری نوکری ملی تو میرے پاس دو ہی آپشن تھے یا تو میں اسلام آباد میں رہوں یا پھر کراچی ۔ کیونکہ کراچی سکھر سے نزدیک ہے تو میں نے کراچی کیمپ آفس میں کام کرنا مناسب سمجھا۔[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/2″][vc_empty_space][vc_single_image image=”2065″ img_size=”full” alignment=”center”][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]اب بچوں کی نظریں میری طرف تھی اور وہ یقینا جاننا چاہتے تھے کہ ہم سویڈن میں کیوں رہتے ۔ اس سے پہلے کہ وہ اگلا سوال کرتے کھانا آگیا تھا اور لذیز کھانوں کی خوشبو نے سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔

[/vc_column_text][vc_single_image image=”2068″ img_size=”full” alignment=”center”][vc_column_text]

من میں ہے کہ ایک آخری کتاب لکھوں                بچپن سے شروع کروں، جوانی کے خواب لکھوں
اتفاق سے محبت ہوئی، فیصلہ کسی کا، غم میرا               اب کس کا قصور لکھوں، کس کا نام لکھوں

(شکیل خان شکو کی نظم سے کچھ اشعار)

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]