Jo Dil Se Muhammad Ka Zikr Karega - Naat e Maqbool SAW 225

قافلے پھر مدینے کو جانے لگے – سرفراز عابدی

دل کے ارمان پھرسر اُٹھانے لگے : قافلے پھر مدینے کو جانے لگے
خوش نصیبی سے آقانے منظوری دی : لوگ طیبہ کے ویزے لگانے لگے
زائرطیبہ سُن، یاد رکھنا ہمیں : جب دعا کے لیے ہاتھ اُٹھانے لگے
پیارے آقا سے کہنا ہمارا سلام : اپنا احوال جب تو سنانے لگے
بھول جانا نہ طینہ میں ہم کو کہیں : جب وہاں خود کو تو بخشوانے لگے
قافلے سُوئے طیبہ روانہ ہوئے : اور ہم ہجر کا غم منانے لگے
سبز گمبد کے ہر سو نظارے کیے : پیاس آنکھوں کی ہم یو بڑھانے لگے
کیفیت دل کی تھی، آگئی آنکھ میں : نعد سنتے ہوئے اشک آنے لگے
زائر طیبہ کے رات دن کا بیاں : جتنے طیبہ میں گُزرے سُہانے لگے
ہم نہیں جاسکے روضے پہ سرفراز : خواب ہی میں‌وہ منظر دکھانے لگے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں