جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ زون اور فن لینڈ برانچ کے زیراہتمام کشمیر فریڈم مارچ ھوا جس کی قیادت تنویراحمد چوھدری صدر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ زون اور حافظ مظہر اقبال نعیمی اسسٹنٹ جنرل یورپ زون، ملک ندیم بٹ ممبر ورکنگ کمیٹی یورپ زون، شھزاد شبیر چوھدری صدر فنلینڈ برانچ کر رہے تھے۔ شرکاء کی بڑی تعداد وقت سے پہلے ہی جلوس کی جگہ پر پہنچ چکی تھی انھوں نے بڑے بڑے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ جن پر کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور کشمیر کی مکمل آزادی تک اپنی جدوجہد جاری وساری رکھیں گے ۔ یاسین ملک صاحب کے پیغامات درج تھے ۔ اس ریلی میں کثیر تعداد میں خواتین، بچوں بوڑھوں اور نوجوانوں نے شرکت کی،اور وہ انڈیا کے بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف بھرپور انداز میں احتجاج کررہے تھے۔اور مختلف انداز میں انگلش فنش میں نعرے لگا رھے تھے۔ھم کیا چاھتے آزادی یہ حق ہے ہمارا آزادی، مودی ایک فاشسٹ اور دھشت گرد ہے انڈیا آرمی دھشت گرد ہے، مظاہرین نے یونائیٹڈ نیشن اور دیگر ہیومین رائٹس کی عالمی تنظیموں پر بھی کڑی تنقید کی اور ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔یہ جلوس ہیلسنکی کی مصروف ترین شاہراہوں سے گزر رہا تھا روڈ کے دونوں طرف لوگوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں اور وہ ویڈیو اور فوٹو لے رہے تھے اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کر رہے تھے ۔


جلوس ایک گھنٹے تک چلنے کے بعد ہیلسنکی کے مشہور چرچ کے گراونڈ میں جا کر ایک جلسہ عام کی شکل اختیار کرگیا۔ جہاں مقررین نے کشمیر کے موجودہ حالات پر خطاب کیا۔

سب سے پہلے تنویراحمد چوھدری صدر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ زون نے بھارت کے کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کا ذکر کیا اور کہا کہ آج کشمیر میں جو ظلم و ستم ہورہا عالمی برادری کے لیے اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی۔امریکہ یا یورپ میں اگر کوئی جانور مر جائے تو اس پر واویلا شروع ہو جاتا ہے مگر 80 لاکھ انسان 54 دنوں سے محصور کشمیری انھیں نظر نہیں آتے۔تمام عالمی ہیومین رائٹس کی تنظیموں کے لیے شرم کی بات ہے لیکن دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ خون کے آخری قطرے تک اور آخری کشمیری تک ہم لڑیں گے اور حق خودارادیت ملنے تک ہر سطح پر ہم لڑیں گے۔اس کے بعد سری نگر کے نوجوان ناصر وازاہ نے کشمیر کے اندر کی کہانی سنائی اور لوگوں کو بتایا کہ ہم لوگ کس کرب و اذیت سے گزر رہیں، انڈین آرمی نے پورے کشمیر میں ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا ہے۔نہ تو ہماری عزت نہ جان اور نہ ہی مال محفوظ ہے،کتنی ہی نوجوان لڑکیوں کو غائب کردیاگیا ہے۔کتنے جوانوں کی آنکھیں ضائع ہو چکی ہیں۔اس کے بعد شاھد آمین نے خطاب کرتے ہوئے کہا یہاں ھماری ذمہ داری بنتی ہے ہم لوگ کشمیریوں کی آواز بن جائیں اور ان پر ہونے والے مظالم کو بے نقاب کریں اور سفارتی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں ۔اس کے بعد انصر رحیم چوھدری نے فنش لوگوں کو انکی زبان فنش میں کشمیر کی موجودہ حساس نوعیت سے آگاہ کیا اور کہ ضرورت ہے کہ عالمی برادری اس حقیقت کو سمجھے اور کشمیریوں کو ان کا حق۔حق خودارادیت دے ۔اس کے بعد حافظ مظہر اقبال نعیمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ فن لینڈ کے لوگوں نے کشمیر فریڈم مارچ کا انعقاد کرکے اللہ کے اس حکم پر عمل کیا ہے(مفھوم آیت مقدسہ ۔اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ان بزرگوں عورتوں مردوں اور بچوں کے لئے نہیں لڑتے جنھیں کمزور پا کر دبا لیا گیا ہے اور وہ فریاد کر رہے ہیں باری تعالی ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم اور ہمارا کوئی حامی اور مددگار بھیج )اس سفارتی محاذ پر آواز اٹھا کر آپ نے ان سے اظہار ہمدردی اور یکجہتی کیا ہے۔اس سارے جلوس میں ملک ندیم بٹ ممبر ورکنگ کمیٹی یورپ زون نے بھارت کے کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف بھرپور انداز سے نعرے بازی کی اور ماحول کو گرمائے رکھا۔شھزاد شبیر چوھدری نے سٹیج سیکریٹری کے فرائض سرانجام دیئے ۔پروگرام کو آرگناز کرنے کے لیے۔ڈاکٹر شیراز احمد بھٹی ۔ڈاکٹر ندیم اصغر۔محمد سلیمان۔اسامہ یوسفزئی۔چوھدری طاہر علی۔شیخ طارق جمیل، عینی دادا،شیخ طاہر،صوفی ارشد محمود ۔کاشف تنویر،حاجی مسعود سیالوی،سید احمد رضا شاہ،محمد سیف ناگرہ،ظہیر قریشی،طارق قریشی نے مل کر فریڈم مارچ کو کامیاب کرنے کے لیے ساتھ دیا۔تمام شرکاء نے مشترکہ پیغام دیا کہ وہ ریاست جموں کشمیر سے تمام افواج کو نکال کر اقوام متحدہ کی امن فوج کے حوالے کر کے کشمیری قوم کو ایک آزاد ریفرنڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے ۔