پاکستان میں اور پاکستان سے باہر جہاں جہاں پاکستانی بستے ہیں آج کل ان کی گفتگو کا موضوع پاکستان میں اس سال 25 جولائی کو ہونے والا الیکشن ہی ہوتا ہے. اگرچہ پردیسیوں کو ووٹ ڈالنے کے حق سےابھی تک محروم رکھا ہوا ہے لیکن جوش و جذبے کی ان میں بھی کوئی کمی نہیں ہے. دو چار روز قبل خبر سننے میں یہ آئی کہ پاکستانی قوم کو اسٹاک ہوم سینڈروم نامی نفسیاتی بیماری کا شکار قرار دیا جارہاہے. اسٹاک ہوم سنڈروم کی اصطلاح سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں 1973 ہونے والی مشہورزمانہ بنک ڈکیتی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس میں ایک شخص نے چند افراد کو یرغمال بنایا اور اپنے مطالبے کے لیے ان پر سخت تشدد روا رکھا لیکن حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ جب ان افراد کو چھ روز کے بعد رہا کرایا گیا تو انہوں نے باہر آکراس ڈاکو یا باغی کے حق میں آواز اٹھائی. یہاں تک کہ اس کی رہائی کے لیے ہر اقدام کرنے پر کمر بستہ ہوگئے. قصہ مختصر یہ کہ ماہرین نفسیات کے نزدیک اس طرح کے اقدام غلامآنہ سوچ کے ترجمان ہوتے ہیں.
المیہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان کی بڑی تعداد اشرف المخلوقات ہونے کا شرف تو رکھتی ہے مگر اس کے معانی و مطالب سے واقف نہیں ہو پاتی. حالانکہ دست قدرت نے انسان کو بلا امتیاز عقل کے ساتھ ساتھ ارادے کی قوت سے بھی نوازا ہے تاکہ وہ عقل کے ساتھ کیے گئے فیصلوں کو عملی جامہ پہناسکے. کسی نے کیا خوب کہا کہ اگر نظر کمزور ہوجائے تو عینک اس کی تلافی کردیتی ہے مگر ضعف عقل کا ازالہ ممکن ہی نہیں.
بنی نوع انسان اپنی شناخت کی لاعلمی کے سبب بارہا غلامی کی زنجیروں میں جکڑا گیا ہے کبھی اسے حاکموں نے راج گدی کی حفاظت اور اپنی طاقت و عظمت کی خاطر جنگ و جدل کی آگ میں جھونکا تو کبھی اپنی سلطنت کی شان بڑھانے والی عظیم تر تعمیرات کی نذر کیا. آج ہم جن عجائبات دنیا عمارتوں کو دیکھ کر فخر و انبساط محسوس کرتے ہیں ان کی بنیاد ہزاروں انسانوں کے لہو اور خاک شدہ ڈھانچوں پر کھڑی ہے.
پاکستانی قوم پر یہ الزام کس حد تک درست ہے، اس کا اندازہ تو ہمارے معاشرے کو دیکھ کر باآسانی لگایا جاسکتا ہے. بحیثیت قوم تو ہم نسلوں سے غلامآنہ طرز پر جی رہے ہیں. کبھی اپنوں کے ہاتھوں تو کبھی غیروں کے. اس خطے کے باسیوں نے متعدد بار بیرونی آقاؤں کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے. ان میں افغانی،ایرانی،باختری،پارتھی،ترکی،عربی، ساکائی،موری،یونانی اورانگریزسب ہی شامل رہے ہیں. شاید یہی وجہ ہے کہ ہم آزاد قوم کی مہر لگنے کے باوجود اپنے سیاستدانوں کو باآسانی اپنا حکمران اور خود کو ان کا محکوم تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے. چہرے بدلتے رہتے ہیں مگر سوچ حاکم اور محکوم دونوں کی اسی ڈگر پر رواں ہے جو صدیوں پر محیط ہے.
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بساط حکمرانی ایک بار پھر سجنے والی ہے. لوگوں کو دوبارہ امید و بیم کے دوراہے پر کھڑا کیا جارہا ہے. خوشیوں سے محروم روکھی پھیکی، افلاس و مشکلات سے نبرد آزما عوام کو دوبارہ سبز باغ دکھائے جارہے ہیں،آزمودہ الفاظوں کے تیر چلاکر وعدے وعید کیے جارہے ہیں لیکن سوال بدستوراب بھی یہی ہے کہ کیا اس مرتبہ ہم اس غلامآنہ طرز انتخاب سے نجات پاسکیں گے یا ایک بار پھر خط غلامی ہماری قسمت میں لکھا جائے گا.