144

عیدالفطر کے موقع پر سویڈن میں‌مقیم پاکبانوں کے تاثرات

تہوار منانے کا رواج دنیا کی تقریباً سب ہی قوموں اور مذاہب میں پایا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عید ایک اہم اور بڑا تہوار ہے جو تمام مسلمان ممالک میں بہت جوش و خروش سے منایا جاتا ہےلیکن وطن ثانی میں ہم پاکستانی عید کا تہوار اپنوں کی یادمیں گزرتے ہیں۔

سویڈن میں حصولِ روزگار، اعلیٰ تعلیم، کاروبار اور دیگر معاملات کے حصول کے لیے سکونت اختیار کرنے والے پاکستانیوں سے ہم نے سوال کیا کہ “ سویڈن میں عید کیسے گزرتی ہے اور پاکستان میں عید کیسے مناتے تھے؟ آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں اور یہاں عید کا دن کیسے گزرتا ہے؟ ہمیں مختلف جوابات موصول ہوئے جو ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

محمد علی لاشاری: سویڈن میں عموماً عید گھر پر اہل خانہ کے ساتھ مناتے آرہے ہیں۔ گھر پر ہی لذیذ پکوان بناتے ہیں۔ دوستوں سے ملاقات کی بھی کوشش رہتی ہے ۔پاکستان میں عید کی رونقیں اور تیاریوں کا اپنا ہی لطف ہے۔

ثناءیونس: پاکستان میں عید رشتے داروں کے ساتھ گزرتی تھی۔ سب خاندان والے ایک گھر جمع ہوتے تھےاور پورا دن ساتھ گزارتے تھے۔ عید کی تیاری کی الگ ہی گہماگہمی ہوتی تھی۔ چوڑیاں، عید کارڈ، مہندی کے اسٹال پر جانا تو عید کی تیاری کا لازمی حصہ ہوتا تھا۔ جبکہ سویڈن میں عید چھٹی کے روز ہوجائے تو غنیمت سمجھتے ہیں۔ دوست احباب یہاں ملکر عید کا سماں باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں سے فون پر ہی پاکستان میں عزیز اقارب کو عید کی مبارکباد دے کر عید منا لی جاتی ہے۔

فراز کھٹانہ: عید وہاں ہوتی ہے جہاں رشتہ دار زیادہ ہوں، یہاں سویڈن میں عید دوستوں کے ساتھ گزر جاتی ہے اور پاکستان میں عید رشتہ داروں کو مل کر گزرتی تھی۔ میرا خیال ہے ہمیں عید ضرورت مند افراد کے ساتھ گزارنی چاہیئے کیونکہ ہماری عید تو سال کے 365 ہوتی ہے پر غریب کو کھیر ، گوشت یا اچھا کھانا صرف عید پر ہی نصیب ہوتی ہے۔

صدف کاشف: عید کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ جیسے عام طور پر میری عید یہاں کام پر ساتھیوں کے ساتھ یا ہفتہ کے اختتام پر دوستوں کے ساتھ گزرتی ہے ۔ لیکن چوڑیوں، مہندی اور چاند رات کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے۔جبکہ پاکستان میں چاندرات پر خریداری کا اپنا ہی مزہ تھا۔ امی ہمیشہ شیرخرما بناتی تھیں اور پاپا عید کی نماز کے بعد کراچی کی مشہور کچوریاں لاتے تھے۔ اتنا ہی نہیں تمام رشتہ دار اکھٹے ہوتے تھے اور بچوں کو عید دی جاتی تھی۔عید کا اصل مزہ تو اپنوں میں ہے۔

فیضان صدیقی: عید سعید کی قدر وطن سے اور اپنے سے دور رہکر ہی سمجھ آتی ہے، پاکستان میں تو عید کےدن صرف نیند پوری کرتے ہیں۔

فرخ امام: عید نام ہی خوشیوں کا ہے اور اپنے گھروالوں سے دور عید کی خوشی ادھوری ہے۔ اگر آپ کی اہلِ خانہ اور بچے یہاں ساتھ ہوں تو پھر بھی عید بہتر ہوتی ہے ورنہ تو عام چھٹی کی طرح یہ ایک چھٹی کا دن ہی ہوتا ہے ۔ تہوار کا لطف اپنوں کے ساتھ ہی ہے۔جہاںعید کی نماز سب ملکر پڑھتے ہیں، مزے مزے کے پکوان مٹھائیاں بنتی ہیں، عزیز واقارب ملتے ہیں تب جاکر تہوار مکمل ہوتا ہے۔

ذکی قیوم: پاکستان میں عید رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ مناتے ہیں جبکہ وطن ثانی میں کام پر محنت کر کےعید منائی جاتی ہے۔

فیضان خان: فرق بہت بڑا ہے، چھٹی نا ہونے کی وجہ سے عید کام پر گزر جاتی ہےاور ہفتہ کے اختتام پر دوستوں سے ملاقات کر کے عید کی رسم پوری کر لیتے ہیں۔

علیزا حیدر: سویڈن میں ہم چاند رات، چوڑیاں اور مہندی کی کمی بہت محسوس کرتے ہیں۔ شیرخرما اور اپنوں سے ملاقات تو ہوجاتی ہے لیکن پاکستان میں عید کی تین دن کی عام تعطیل کا الگ ہی مزہ ہے۔

ناصر مقبول: خاندان، رشتہ دار اور دوستوں کے ساتھ عید منانے کی ازحد خوشی کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ عید میں اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ مزے مزے کے کھانوں سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ خاندان کا ایک چھوٹا سا اجتماع اپنوں سے محبت کا احساس دلاتا تھا جس کی کمی یہاں سویڈن میں محسوس ہوتی ہے۔ یہاں زیادہ سے زیادہ پاکستانی ریستورانٹ میں کچھ دوست جن میں غیر مسلم دوست بھی شامل ہوتے ہیں روایتی کھانا کھا کر عید منا لیتے ہیں۔

زاہدہ شمس، لندن: پاکستان میں عید کا تہوار قومی سطح پر منایا جاتا ہے اس لیے ہر جگہ گہما گہمی عید کی تیاریاں ہوتی نظر آتی ہے جس سے تہوار کا احساس ہوتا ہے جیسے مغرب میں کرسمس منایا جاتا ہے۔ چاند رات، چوڑیاں، مہندی اور مٹھائیوں کی کمی کے علاوہ عام تعطیل کی وجہ سے پاکستان میں دوست اور رشتہ داروں کے ساتھ عید منانے کا موقع ملتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں