68

عجیب آسودگی ہے فضاؤں میں

عجیب آسودگی ہے فضاؤں میں
شب غم رقص کرتی ہےہواوُں میں
وہ جوحق بات کا ذوق رکھتے تھے
کھو گئے ہیں وہ گناہوں میں
سرد راتیں اور کپکپاتے ہوئے جسم
لمحے ٹھہر جاتے ہیں نگاہوں میں
جن سے غریب شہر کو امید تھی
پنہاں ہیں وہ مدعاسراوں میں

فکر کی قید میں جو جی رہےہیں
کیا ملے گا انھیں ان سزاوُں میں
اورجنہیں تم حقیر سمجھتے ہو
روند ڈالیں گے تمہیں دعاوں میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں