محبت ایسا موذی مرض ہے کہ لگ جائے تو انسان نہ مرتا اور نہ ہی جیتا ہے۔ ایسی مہلک بیماری ہے کہ مرنے کے بعد بھی قبر سے صدائیں آتی ہیں۔

محبت کسی کو کسی وقت اور کسی سے بھی ہو سکتی۔ ایسی نا مراد بیماری ہے کہ نہ یہ پیشے کا لحاظ کرتی ہے اور نہ ہی جسامت کا۔ کمزور کو بھی اور قوی کو بھی۔ اگر محبوب کمزور ہو اور عاشق قوی ہو تو محبوب کی بے وفائی پر حضرت عاشق محبوب کو ناکوں چنے چبوا کر اس دنیا سے ہی رخصت کر دیتا ہے۔ اگر تو میری نہیں تو کسی کی بھی نہیں۔ نہ کھلیں گے نہ کھیلنے دیں گے۔ اس قسم کا واقع مفتی قوی صاحب سے پیش آیا۔

دل تو ہر ایک سینے میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی مولوی یا مفتی ہے تو اس کا مطلب کہ اسکو محبت نہیں ہو سکتی؟ ظالم سماج نے یہ حق مجھ سے یہ کیوں چھین لیا ہے؟ حسرت و یاس کی زندگی بھی کوئی زندگی ہے؟ والدین سے عرض کی تھی کہ کسی عام سکول میں بھیجیں مگر والد صاحب کو نہ جانے کیا سوجھی کہ مجھے مدرسے میں بھیج دیا۔ بس پھر کیا تھا کہ بچپن اجڑ گیا اور جوانی برباد۔ کالج کے لڑکے اور لڑکیوں کو بھونڈی کرتا دیکھ کر دل بڑا کڑھتا تھا۔ کاش میں بھی اسی طرح کسی لڑکی سے رومانس کر رہا ہوتا۔ بس دل کے ارماں آنسووں میں بہا کر چپ کر جاتا تھا۔ ساتھ والدین کو بھی کوستا تھا۔ واہ حسرتا۔
جب بھی میں گھر سے نکلتا تھا گلی کے بڑے بوڑھے، بچے اور نوجوان مفتی صاحب کہ کے سلام کرتے تھے۔ لڑکیاں مجھے دیکھ کے سر پہ دوپٹہ یا چادر ٹھیک کر لیتی تھیں۔ کچھ تو منہ بھی ڈھانپ لیتی تھیں اور میرا دل جل کر راکھ ہو جاتا تھا۔ یہ بد بخت دوسروں سے تو بلا تکلف اور ہنس ہنس کر باتیں کرتی تھیں اور مجھے دیکھ اپنے خوبصورت مکھڑے چھپا لیتی تھیں جیسے ان کو چیچک نکلی ہو۔

رہی سہی کثر میڈیا نے پوری کر دی۔ ایک دفعہ ٹی وی پہ جانے کا اتفاق ہوا اس کے بعد میں ہمشہ ٹی وی پہ ہی رہتا تھا۔ ہر طرف سے مفتی قوی مفتی قوی کی صدائیں بلند ہوئیں۔ بیڑا غرق ٹی وی والوں کا۔
مفتی ہونا اپنی جگہ مگر میں بھی تو انسان ہوں۔ میرا درد صرف اہل درد ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ایک دن فیصلہ کیا کہ اس عشق و محبت کے سمندر میں مجھے کم از کم ہاتھ تو دھونے چاھئیں۔ لہٰذا اس دن سے میں نے بھی تیرگی کو دور کرنے کے لئے ایک دیئے کی تلاش شروع کر دی۔ اچانک ٹی وی والوں کا فون آیا اور پیغام دیا کہ مفتی صاحب آج شام آپکی ملاقات ایک نہایت ہی دلچسپ شخصیت سے کروانی ہے۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ شاخ تمنا ہری ہونے کی امید لگا کر پروگرام میں چلا گیا۔ میرے سامنے حسن و جمال کا پیکر، جسکی ہر ادا نرالی تھی بیٹھی تھی۔ دل قابو میں نہیں آ رہا تھا اور سانس تھا کہ گلے میں اٹک رہا تھا۔ بڑی مشکل سے اپنے آپ کو قابو کر کے بولنا شروع کیا۔ جب مخالف سمت سے جواب آیا تو پتہ چلا کہ یہ الماس بوبی ہے۔ پروگرام کے بعد بڑی مشکل سے گھر پنہچا اور اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو گیا۔

اس اندھیرے گھر کے لئے ، چلو شمع نہ صحیح، ایک عدد لالٹین ہی مل جائے۔ آخر کار میری ملاقات حسن اتفاق کے ساتھ قندیل سے ہو گئی۔ میں تو دیئے کی تلاش میں تھا گھر بیٹھے مجھے قندیل مل گئی۔ اللہ جب دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ہے۔ اس لوڈ شیدنگ کے زمانے میں اس قندیل کی کرنیں محلہ والوں کے گھروں کو بھی منور کریں گی۔ قندیل مجھے دیکھتے ہی مجھ پہ فریفتہ ہو گئی۔ بس پہلے چھپ چھپا کہ ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ ہائے ہائے بڑا مزہ آتا تھا۔ مجھے نیا نیا زندگی کا احساس ہوا تھا اور کبھی کبھی بے ساختہ میرے منہ سے نکل جاتا تھا کہ زندگی بھی کیا نعمت ہے۔ قندیل کو اکثر کہتا تھا سبحان اللہ تمھیں زمیں پہ اتارا گیا ہے میرے لئے۔

زمانے کی اب کس کو پرواہ تھی۔ یہ کون سوچتا ہے تجھے دیکھنے کے بعد۔ ہم نے اب سر عام ملنا شروع کر دیا تھا۔ ایک ساتھ کئی بار سیلفی بھی بنائی جو کہ بعد میں میڈیا کی زینت بنیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ مجھے اس سنگدل محمبوبہ کے پیشے کے متعلق اطلاعات ملنا شروع ہو گئیں۔ یہ سب سن کر دل بہت کڑھا۔ اب ہڈی گلے میں پھنس چکی تھی۔ نہ نگل سکتا تھا نہ تھوک سکتا تھا۔ میں نے بڑا سمجھایا مگر قندیل نہ مانی۔

مجبوری کے عالم میں قندیل کے بھائی کو بلا کر ساری روئیداد سنائی اور کہا کہ میاں اس کو ان غیر شرعی کاموں سے روکیں۔ قندیل کے بھائی اور گھر والوں نے سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔ آخر میں نے بھی سوچ لیا کہ قندیل! اگر تم میری نہیں تو پھر کسی کی بھی نہ رہو گی۔

اس کے بھائی کو شرعیت کے احکام سنائے۔ اس کا بھائی قائل ہو گیا اور اس طرح میڈیا میں خبر آئی کہ قندیل بلوچ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ یہ سن کر بہت دکھ ہوا۔ قتل کی تفتیش پولیس نے کرنی تھی۔ میں تو ایک مفتی ہوں میرا ایسے مکروہ کاموں سے کیا تعلق؟ پولیس نے اس کے بھائی اور کزن کو قتل کے الزام گرفتار کر لیا۔
اب ایک سال کے بعد پولیس نے مجھے بھی گھیر لیا۔ روز روز مجھے بھی عدالت جانا پڑتا تھا۔ توبہ کیا ہو گیا ہے پولیس اور عدالتوں کو؟ ایک دیندار مفتی کا بھی لحاظ نہیں؟

ایک دن عدالت میں پیشی پر جج نے مجھے اعانت قتل میں گرفتاری کا حکم دیا اور ساتھ ساتھ میری ضمانت بھی مسترد کر دی۔
میں نے پولیس سے کہا کہ ذرا بیت الخلا کی اجازت دی جائے۔ میں موقع غنیمت پا کر وہاں سے بھاگ نکلا اور جھنگ جانے کا ارادہ کیا کیونکہ لشکر جھنگوی سے پرانے مراسم کی بنیاد پر مجھے وہاں پناہ مل سکتی تھی۔ مگر پولیس نے راستے میں ہی گرفتار کرلیا اور جیل میں بند کریا۔ دنیا کو کیسے سمجھایا جائے کہ میں بھی اہل دل ہوں۔ بس جیل میں دل سے درد اٹھی اور ہسپتال پنہچ گیا۔ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خست درد سے بھر نہ آئے کیوں۔

ایک طرف میرا سب کچھ لٹ گیا اور دوسری طرف پولیس میرے پیچھے ہے۔ ہائے اللہ کدھر جاوں کہا جاوں۔ سمجھ میں نہیں آرہا۔ بس دل سے ایک ہی صدا نکلتی ہے ۔ عارضی نہیں ہوتے عارضے محبت کے۔