67

طاقت اور انسان، اسماء طارق گجرات

طاقت کا حصول صدیوں سے بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ ازل سے انسان کی سرشت میں رہا ہے۔ انسان نے اس کے حصول کے لئے کیا کیا کچھ نہیں کیا اور کیا کیا کچھ قربان نہیں کیا مگر سوال یہ ہے کہ اس کو اس کے حصول کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی زندگی کے چین کی راہ میں طاقت،دیوار بن کر کیوں کھڑی ہوگئی؟ اسے کیوں یہ لگنے لگاکہ اس کے حصول کے بغیر اس کی زندگی بے معنی ہے؟
دنیا کی تمام لڑائیاں تمام جنگیں،تمام فسادات طاقت کے حصول کے لئے ہی تو کیے گئے اور مرد تو حاص طور پر اس سے ازل سے منسوب ہے اور یہ منسوبیت ہی اس کی ذات کا مان ہے. اسکے بغیر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔ ہاں! اقتدار سے انسان جبلی منسوب ہے. اقتدار کی خواہش ہر انسان کے دل میں جاگتی ہے. اب اس کی کی صورتحال مختلف ہو سکتی ہے اور اس کا معیار مختلف ہوسکتا ہے۔ اس اقتدار کا صحیح حقدار ہونا بھی لازم ہے. بہت سوں کے پاس اقتدار ہوتا ہے مگر وہ حقدار نہیں ہوتے اور ایسے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت لازم ہے وگرنہ شاید اقتدار بہت جلد ملیہ میٹ ہو جائے۔
ان سب اقتداروں میں سے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل اقتدار انسانوں پر اقتدار ہے۔ اس اقتدار کا اصل حقدار تو اس کائنات کا خالق و مالک اللہ ہے جس نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی انسان کی جبلت میں اپنی کچھ حصوصیات کا تھوڑا سا عنصر منتقل کر دیا. اب اس اقتدار کی وجہ کیا بنی؟ انسان نے تحلیق کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ جب اپنی افزائش بڑهالی تو اسے کسی مناسب نظام زندگی کی تلاش تھی اور اس کے لیے اللہ نے انسانوں میں سے ہی ایسے انسان بنائے جن کو اس نے عقل و شعور عطا کیا جو باقی مخلوق کو منظم کر سکیں اور ان کی راہنمائی کرسکیں. ایسے لوگوں کا اقتدار ہوس و لالچ سے کوسوں دور تھا۔ وہ انسانوں کی آزادی کے قائل اور انسانوں کی عزت کرنے والے اور ان کے دوست تھے مگر پھر ایسے گروہ نے بھی جنم لیا جس میں طمع اور لالچ تها. جسے خدا نے عقل تو دی مگر وہ غرور اور تکبر سے سرشار تھا۔ انہوں نے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کیلئے انسانوں پر ظلم شروع کر دیا۔ انسانوں کو آزادی سے محروم کر کے غلام بنا لیا. اپنے مقاصد کے لیے دوسروں کو تختہ دار پر لٹکایا۔ ایسا اس دن سے ہی شروع ہو گیا تھا، جب ہابیل نے قابیل کو صرف اس لیے قتل کر دیا کہ اس کی فتح ہو. یوں زمین پر خیر اور شر ازل سے ایک ساتھ چلے آ رہے ہیں اور
آزادی جسے انسان نے ہمیشہ اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا ہے اسے غلامی کبھی پسند نہیں آئی. اس کی جبلت میں آزادی پانے کی جستجو کو رکھا گیا ہے. اس کے لئے تو انسان نے جنت گنوا دی مگر وہ کسی چیز کی غلامی برداشت نہیں کر سکتا. ویسے انسان آزاد ہی پیدا ہوئے مگر ایسے بھی تو لوگ ہیں جو پیدا ہی غلام ہوتے ہیں اور صدیوں سے پیدا ہوتے آئے ہیں اور ایسے ہی مر گئے۔ ان کا تو کوئی قصور نہیں. ماں باپ غلام تھے اور اولاد بھی غلام ہو گئی۔ کیا آزادی اور غلامی وراثت سے ملتی ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو انسان اس پر اکتفا کیوں نہیں کر لیتا مگر اسے تو آزادی چاہیئے. آزادی کی تحریکیں صدیوں سے شروع ہوتی رہی ہیں اور قائم رہے گی۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ان غلاموں میں سے نئے آقاؤں نے جنم لیا جنہوں نے غلامی کو ختم کرنے کے سعی کی مگر نہ غلامی مکمل طور پر ختم ہوئی اور نہ آزادی مکمل طور پر دی گئی۔ مگر اس طاقت کے حصول کیلئے انسان نے کیا کچھ نہیں کیا اور یہ ہر سطح پر، ہر درجے پر جاری ہے. ہر ایک ظلم سہتا ہے مگر اپنے سے نیچے والوں پر ظلم کرتا بھی ہے. یہ نجانے کیسا نظام ہے جہاں درجے ہی درجے ہیں شاید ایسا ہی تو یہ جہاں ہے۔
وہ طاقت کے حصول کے لئے کوششیں کرتا ہے تاکہ وہ طاقت ور بن جائے مگر اس کے لئے وہ انسانوں کو غلام بناتا ہے،ان کی عزتیں نیلام کرتا ہے، انہیں اذیت دیتا ہے اور سمجھتا ہے زمانہ اس کی مٹھی میں ہے. وہ سب کرکے خوش ہوتا ہے کہ وہ طاقت ور ہے. دوسروں کا رزق چھین کر وہ خود کو امیر سمجھتا ہے.دوسروں کی عزتیں نیلام کرکےخود کو شہنشاہ عزت سمجھتا ہے. عجب روایت ہے، عجب دستور ہے انسان اپنا آپ بحال رکھنے کے لئے ہر وہ کام کرتا ہے جو کرنے کے لائق نہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں