رپورٹ: طارق محمود
سٹاک ہوم میں ایک نامعلوم شخص نے ریسٹورینٹ کا کھانا تقسیم کرنے والے ٹرک کو ہائی جیک کر کے مصروف ترین بازار ڈروٹننگ گاٹن میں لوگوں پر چڑھا دیا۔ جس سے پانچ ہلاک اور کئی ذخمی ہو گئے ہیں۔
ایک افواہ کے مطابق فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں مگر یہ پولیس یا عینی شاہدین سے ثابت نہیں ہو سکا۔
پولیس کیمطابق سویڈش کمپنی سپنڈرپ جو سٹاک ہوم میں ریسٹورنٹس پر کھانے کی ڈیلیوری دیتی ہے اسکے ڈرائیور نے ڈروٹننگ گاٹن میں اولنز سٹی کے پاس کلانٹے ریسٹوریٹ کے سامنے ٹرک کھڑا کر کے سامان اتارنا شروع کیا اور اس دوران کسی نامعلوم شخص نے جمپ لگا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی اور ٹرک مصروف گلی میں لوگوں پر چڑھا دیا۔ جس سے کم از کم پانچ افراد کچل کر ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے ڈروٹننگ گاٹن سٹریٹ پر پیش آیا جو شہر کا معروف بازار ہے جہاں لوگ پیدل چلتے ہیں۔
عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایا ہے کہ انھوں نے ایک ٹرک کو ایک ڈیپارٹمینٹل سٹور کی کھڑکی توڑتے دیکھا۔ اس کے علاوہ انھوں کئی لوگوں کو زمین پر پڑے دیکھا ہے۔
ابھی اس واقعے کی مزید تفصیلات موصول ہو رہی ہیں اور پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسی ساپو نے اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اردگرد کی گلیوں میں پولیس اعلان کر کے لوگوں کو اس طرف آنے سے منع کر رہی ہے۔
سویڈش وزیراعظم سٹیفن لوفون نے اس واقعے کو سویڈن پر حملہ قرار دیا ہے اور اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
سٹاک ہوم میں پولیس کی درخواست پر کئی مصروف علاقے لوگوں سے خالی کروا لئیے گئے ہیں جن میں اؤلنز سٹی کے ڈپارٹمنٹل سٹورز، اوڈن پلان، فریڈہیم پلان، سکانسٹل، اوسترمالعمتوری کے انڈرگراؤنڈ میٹرو سٹیشنز اور سٹاک ہوم کا مرکزی ریلوے سٹیشن خالی کروا لیا گیا ہے۔ سٹاک ہوم کے مختلف علاقوں میں اسلحہ سے لیس پولیس کھڑی نظر آ رہی ہے۔
سویڈن کے بادشاہ کارل گستاف نے اس واقعے سے ڈسٹرب ہونے والوں اور انکے لواحقین کیلئے گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائٹی کی پوری ٹیم اس حملے کے سخت الفاظ میں شدید مزمت کرتے ہیں.