222

سویڈن میں پاکستانی پکوان

سویڈن کا دارالحکومت سٹاک ہوم بھارتی کھانوں کا مرکز ہے۔ ستر کی دہائی میں ان کھانوں کواس ملک میں متعارف کرایا گیا جو کہ آج اپنے ذائقوں اور منفرد اجزاء کی بدولت سویڈن میں ریسٹورانٹ کے کاروبار میں ایک نمایاں حیصیت رکھتے ہیں۔
13 سال قبل 2004 میں جب میں پاکستان سے سویڈن منتقل ہوا تو گنتی چنتی کے چند انڈین ریسٹورانٹ موجود تھے۔ جو کہ سینٹر سٹاک ہوم یعنی شہر کے اندر مصروف مارکیٹوں میں ہی تھے۔ مگر حالت اب یہ ہے کہ سٹاک ہوم کے تقریبا ہر چھوٹے بڑے علاقے میں آپ کو باآسانی نان، روٹی، چکن تکہ ، کڑہائی وغیرہ مل جاتی ہے۔ ان ریسٹورانٹ کے مالکان اور 90 فی صد باورچی بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اس کا انداہ ان کھانوں کے ذائقے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
ایک روز میرے خوشی کی انتہاء نہ رہی جب میں نے بس کی کھڑی سے رنگ ویگن سے گزرتے ہوئے سبز رنگ سے ایکتا پاکستان لکھا ہوا دیکھا ایکتا سویڈن میں مستند کو کہتے ہیں۔ میں نے سوچا گھر والوں کو سرپرائز دیا جائے اور میں چھٹی والے دن ان کو لے کر لنچ کے لیے ایکتا پاکستان پہنچا اور ریسٹورانٹ کے دروازے پر پہنچ کر پتہ چلا کہ وہ تو صرف رات کو ہی کھلتا ہے۔لیکن باہر لگے ان کے مینو کو دیکھ کر حلق خشک ضرور ہو گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد ایکتا پاکستان ریسٹورانٹ مکمل طور پر بند ہوگیا۔ حال ہی میں دو پاکستانی ریسٹورانٹ کانام اور مینو انڈین ریسٹورانٹ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
2008 میں ٹونی قریشی صاحب سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ بہت جلد وہ ایک ریسٹورانٹ کھول رہے ہیں جہاں پاکستان کا تازہ مستند ذائقے دار کھانا پیش کیا جائے گا ۔ اور انہوں نے واقعی اپنی محنت، کوشش اور لگن سے یہ بات ثابت بھی کر دی۔ چلی مصالحہ کے نام سے ان کا یہ ریسٹورانٹ سولنا میں ہے اور پاکستانی کھانے کے شوقین لوگوں کی وہاں لائن لگتی ہے ایسا ضروری نہیں کہ آپ چلی مصالحہ جائیں اور آپ کو بیٹھنے کی جگہ مل جائے۔اس سے بہتر ہے آپ ٹیبل بُک کروا لیں۔
جہاں لوگ پاکستانی نام تبدیل کر کے انڈین یا کوئی اور بین الاقوامی ریسٹورانٹ کھول رہے ہیں وہیں چلی مصالحہ کے مالکان جناب ٹونی قریشی اور آصف رفیق صاحب فخر سے پاکستان کے صوبے پنجاب کی خوشبو سویڈن میں بکھیر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

4 تبصرے ”سویڈن میں پاکستانی پکوان

  1. بہت اچھی تصویر کشی کی ہے جناب شہزاد صاحب نے لیکن ھم یہاں اپڈیٹ کرتے چلیں کہ سٹاکھوم میں ایک او ر پاکستانی ریسٹورانٹ “ذائقہ ویلی” ھے جو بہت کم عرصہ میں اپنے خالص دیسی ذائقہ کی وجہ سے نا صرف عوام کا دلدیدہ ہوا بلکہ انڈین کلچرل سنٹر سے سرٹیفائڈ بھی ہوا ھے۔ الحمداللہ ۔

  2. بہت اچھی تصویر کشی کی ہے جناب شہزاد صاحب نے لیکن ھم یہاں اپڈیٹ کرتے چلیں کہ سٹاکھوم میں ایک او ر پاکستانی ریسٹورانٹ “ذائقہ ویلی” ھے جو بہت کم عرصہ میں اپنے خالص دیسی ذائقہ کی وجہ سے نا صرف عوام کا دلدیدہ ہوا بلکہ انڈین کلچرل سنٹر سے سرٹیفائڈ بھی ہوا ھے۔ الحمداللہ ۔

  3. بہت اچھی تصویر کشی کی ہے جناب شہزاد صاحب نے لیکن ھم یہاں اپڈیٹ کرتے چلیں کہ سٹاکھوم میں ایک او ر پاکستانی ریسٹورانٹ “ذائقہ ویلی” ھے جو بہت کم عرصہ میں اپنے خالص دیسی ذائقہ کی وجہ سے نا صرف عوام کا دلدیدہ ہوا بلکہ انڈین کلچرل سنٹر سے سرٹیفائڈ بھی ہوا ھے۔ الحمداللہ ۔

  4. بہت اچھی تصویر کشی کی ہے جناب شہزاد صاحب نے لیکن ھم یہاں اپڈیٹ کرتے چلیں کہ سٹاکھوم میں ایک او ر پاکستانی ریسٹورانٹ “ذائقہ ویلی” ھے جو بہت کم عرصہ میں اپنے خالص دیسی ذائقہ کی وجہ سے نا صرف عوام کا دلدیدہ ہوا بلکہ انڈین کلچرل سنٹر سے سرٹیفائڈ بھی ہوا ھے۔ الحمداللہ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں