146

سوشل ڈیموکریٹس کی سیاسی ذمہ داری

سویڈن میں حالیہ انتخابات کے نتیجہ میں کوئی بھی پارٹی واضع اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔ سوسلشٹ بلاک نے 6، 40 جبکہ مخالف بلاک نے 3، 40 فی صد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ نسل پرست جماعت ایس ڈی نے 19 فی صد ووٹ حاصل کر کے تیسری بڑی پارٹی کی پوزیشن کو برقرار رکھا ہے۔
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سویڈن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ تاریخی طور پر یہ واحد جماعت ہے جس نے 40 سال متواتر حکومت کی۔ 1977 میں اور 1980 کے ایکشن میں ناکامی کے بعد 1983 میں الیکشن میں پھر کامیابی حاصل کی۔ یہ پارٹی مزدور اور متوسط طبقے کی پارٹی ہے۔ اس پارٹی نے تاریخ میں انقلابی قسم کی اصلاحات کیں جس کی وجہ یہ پارٹی عوام میں مقبول رہی ہے۔ اولف پالمے کے قتل کے بعد پارٹی کی باگ ڈور انگوار کار لسن نے سبھالی۔ انگوار ایک منجھا ہوا اور تجربہ کار سیاستدان تھا مگر پالمے کی طرح اپنے موقف پہ ڈٹ جانے کے فن سے ناواقف تھا۔ انگوار ہوا کے رخ کے ساتھ پالیسی تبدیل کرتا رہا۔ 1991 میں نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک جماعت وجود میں آئی اور 1991 کے انخابات جیت کر سویڈش پارلیامنٹ میں آگئی۔ یہ جماعت بنیادی طور پہ نسل پرست جماعت تھی۔ اس کو ووٹ دینے والوں کی اکثریت نا مطمئن لوگوں کی تھی۔
1988 میں ایک ایسا معاشی کرائسز جس نے دیکھتے دیکھتے پوری دنیا کو متاثر کر دیا۔ ظاھر ہے اس کے اثرات سویڈن پہ بھی پڑے۔ کرائسز شروع ہونے کے ساتھ ہی نیو ڈیموکریٹک پارٹی نے اس کا ذمہ دار غیر ملکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ٹھرانا شروع کر دیا۔ اس جماعت کا نقطہء نظر تھا کہ سویڈن کی مائیگریشن پالیسی لبرل ہے جس کی وجہ سے یہ اقتصادی و معاشی گڑ بڑ پیدا ہو گئی ہے۔ وزیراعظم انگوار نے ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے دسمبر 1989 میں قانون سے پیراگراف 6 نکال دی۔ پیرگراف 6 کا مطلب تھا کہ کوئی بھی سیاسی پناہ گزین سویڈن میں آکر اپنا کیس داخل کروا سکتا تھا اور سویڈش قانون کے تحت اس کو قانونی و آئینی تحفظ محیا کیا جائے گا۔
اس قدم نے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے تاثر کو بری طرح مجروح کر دیا۔ سویڈش و غیر ملکی، جن کی اکثریت اس پارٹی کو ووٹ دیتی تھی، سخت ناراض ہوگئی اس طرح سوشل ڈیموکریٹک پارٹی 1991 کے الیکشن بری طرح ہار گئی۔ 1994 کے انتخابات تو پارٹی جیت گئی مگر ووٹرز کی تعداد میں واضع کمی ہو گئی۔
1996 میں گوران پیرسن نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھال لی۔ پیرسن کی پالیسی بہت ہی زیادہ پرو اسرائیل تھی۔ پیرسن کو ہر فلسطینی میں دہشگرد نظر آتا تھا۔ اسرائیل نے فلسطین میں پانی و بجلی بند کر دی جس کی ساری دنیا نے سخت الفاظ میں مذمت کی مگر پیرسن نے دیدہ دلیری کے ساتھ غلط بیانی کرتے ہوئے یاسر عرفات مرحوم کو مورد الزام ٹھرا دیا۔ اس بیان پر پارٹی کے پرانے اور نئے ممبران میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے علاوہ پیرسن کی داخلی پالیسی بھی پارٹی کے بنیادی منشور کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی تھی جس کی وجہ سے سویڈن کی قومی مزدور یونین بھی سخت نالاں تھی۔ پیرسن 1996 سے 2006 تک پارٹی چیئر مین اور وزیراعظم رہا۔ 2006 کے انتخابات میں شکست کے بعد پیرسن مستعفی ہوگئے۔ 2014 میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے 30 فی صد ووٹ لئے اور اس طرح گرین اور لیفٹ پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی۔ امسال 9 ستمبر کے انتخاب میں پارٹی کے ووٹرز کی تعداد 30 سے ہو کر 28 فی صد رہ گئی۔ ایس ڈی 62 سیٹیں لینے میں کامیاب ہوگئی ہے اور اس طرح اپنی تیسری پوزیشن کو برقرار رکھا۔
سوشل ڈیموکریٹس کی گرتی ہوئی تعداد اور ایس ڈی کی بڑھتی ہوئی تعداد سب کے لئے ایک لمحہء فکریہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے کافی ہمدردوں اور مزدور یونین کے ممبران نے ایس ڈی کو ووٹ دیئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایس ڈی کی جیت کی ذمہ دار سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ہے۔ یہ وہ پارٹی ہے جس کے ہمدرد ہر طبقہ میں پائے جائے ہیں۔ ماضی میں جو غلطیاں سر زد ہوئی ہیں ان کا ازالہ اسی صورت میں ہے کہ پارٹی کے سرکردہ ناراض ممبران کے نقطہء نظر سے آگاہی حاصل کریں اور رنجشیں دور کرتے ہوئے ان ممبران کو قومی دھارے میں شامل کریں۔ اپنی پالیسی کو سیاسی ہوا کے رخ کے ساتھ نہ بدلیں بلکہ پارٹی کے بنیادی منشور کے مطابق پالیسی وضع کریں۔ سویڈن میں اس وقت مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد رہتی ہے لہذا پارٹی کو مسلمانوں کے ساتھ بھی رابطہ رکھنا چاھئے۔ امید ہے پارٹی 40 اور 45 فی صد ووٹ لے کر اینی اصلی حالت میں واپس آ جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں