246

سوالِ دیرینہ

میں سایہ ہوں کس شجر کا؟
میں کس چمن کا گلاب ہوں؟
میں شب ہوں یا کہ سحر ہوں؟
ہوں اَبر کہ ماہتاب ہوں؟
میں تنہا یونہی رویا کبھی…
میری زندگی محفل کبھی…
میں حشر ہوں کس وقت کا؟
میں کس قوم کا عذاب ہوں؟
یہ مری تشنگی کیوں نہ بجھ سکی؟
میں تو مدتوں سے زیرِآب ھوں!
مری سانسوں میں بسا زہر کیوں؟
میں کس جرم میں زیرِعتاب ہوں؟
کبھی خواہشوں کا ہجوم تو…
کبھی خود میں اِک سراب ہوں!
مرے حوصلے، مری جستجو…
مری خواہشیں، مری آرزو…
بس اِک مختصر سا افسانہ…
کوئی مگر یہ بھی کہے…
میں خود میں اِک نصاب ہوں!
کبھی جیتتا، کبھی ہارتا…
کبھی اجاڑتا، سنوارتا…
میں اُن لمحوں کا عکس ہوں؟
یا پھر صِرف حساب ہوں؟
میں کوئی رازِ گم گشتہ ہوں کیا؟
یا محض اِک کھلی کتاب ہوں؟
ہے کیا سہی اور کیا غلط…
سب فلسفے کی بات بس!
اچھا، چلو مانا، مگر…
تھوڑا سا میں خراب ہوں!
میں سوچ ہوں، خیال ہوں…
خوشی بھی ہوں کبھی تو میں…
اور کبھی میں صِرف ملال ہوں!
مجھ کو مگر یہ گماں سا ہے…
اپنے اِن دیرینہ سوالوں کا…
میں خود میں ہی جواب ہوں!
میں بس وقت کے ہمرکاب ہوں!!

– فرحان علی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں