ہجری سال اور اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے، جس کی بنیاد ہجرت نبوی ﷺ کو بنایا گیا ہے، اس کا آغاز 17 ہجری کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کیا، اور ابتدا ہجرت سے کی۔ ضرورت اس طرح پیش آئی کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری جنہیں حضرت عمرفاروق نے یمن کا گورنر مقرر کیا تھا، ان کے پاس حضرت عمرفاروق کے فرامین آتے رہتے تھے مگر ان پر تاریخ درج نہیں ہوتی تھی، جس کی وجہ سے بعض اوقات سخت مشکلات پیش آجاتی تھیں، یا درست وقت کا علم نہیں ہوتا تھا، چنانچہ انہوں نے حضرت عمر فاروق کا دھیان تاریخ کی طرف کیا تو انہوں نے سوچ بچار اور مشاورت کے بعد اسلامی کیلنڈر سن ہجری کا آغاز کر دیا۔ سن ہجری کا پہلا مہینہ محرم الحرام قرار دینے کی وجہ 13 نبوی ﷺ ماہ ذوالحجۃ میں بیعت عقبہ کا ہونا اور ہجرت کے لیے سازگار ماحول بنا لینا تھا، ہجرت کا منصوبہ مکمل ہونے کے بعد پہلا آنے والا مہینہ محرم تھا، تو اس بنیاد پر سن ہجری کا پہلا مہینہ محرم قرار پاگیا (فتح الباری باب التاریخ حدیث 3934) سن ہجری اپنے آغاز کے اعتبار سے منفرد اور نصیحت آموز سبق کا حامل ہے۔ دنیا میں اس وقت مروجہ کیلنڈروں کا آغاز کسی شخصیت کی پیدائش یا کسی قومی واقعہ کی یاد پر منحصر ہے جس سے کسی کو بظاہر کوئی سبق حاصل نہیں ہوتا جیسے سن عیسوی کا آغاز حضرت عیسیؑ کی پیدائش، سن یہود کا آغاز جناب سلیمان ؑ کی تخت نشینی کے پر شوکت واقعے، سن بکرمی کا آغاز راجہ بکرما جیت کی پیدائش سے یہ عیاں ہے۔ اسلامی کیلنڈر کے سن ہجری سے آغاز میں یہ نصیحت آموز سبق پنہاں ہے کہ مسلمان اطراف و اکناف سے مصیبتوں اور تکلیفوں میں گھر جائے، اور تمام ہمسائے، اور اہل علاقہ دشمن بن جائیں تو وہ پھر بھی ہمت ہار کر ان کے گمراہ کن راستہ پر نہیں چلتا بلکہ وہ علاقہ چھوڑ کر اپنے پرودگار کی خوشنودی کےلیے سازگار ماحول میں چلا جاتا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے، اس نے اپنے اس طرز کو زندگی کے ہر شعبے میں بر قرار رکھاہے، دنوں کے حساب کتاب میں بھی اسی طرز عمل کے تحت اللہ تعالیٰ نے طویل المدت حساب کتاب کےلیے چاند کو معیار قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ھُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَہ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ۔ (یونس 5) وہی تو ہے کہ جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے، اور اس نے چاند کی منزلیں قائم کی ہیں تاکہ تم سالوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو۔\nاور بارہ مہینوں کی تعداد بھی اللہ تعالیٰ نے خود ہی مقرر فرما دی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ]إِنَّ عِدَّۃ الشُّھُورِ عِندَ اللہ اثْنَا عَشَرَ شَھرًا فِي كِتَابِ اللہ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْارْضَ مِنْھا أرْبَعَۃ حُرُمٌ (التوبہ 36) "بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ہی ہے، اللہ کی کتاب میں جس دن سے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا، ان میں چار مہینے حرمت والے ہیں۔ ان بارہ مہینوں کی ترتیب محرم سے شروع ہوکر ذی الحجہ پر ختم ہوتی تھی اور چار مہینے محرم، رجب، ذیقعدہ اور ذی الحجہ اشہر حرم تھے، جن میں قتل وقتال جائز نہیں تھا۔ اہلِ عرب ان چاروں مہینوں کی حرمت کا لحاظ و پاس کرتے تھے حالانکہ ریگستان عرب کے بدووں اور بادیہ نشیں قبائل کی معیشت وزندگی کا دارومدار عام طور پر لوٹ مار پر تھا، قافلوں اور مسافروں کو لوٹنا ان کا مشغلہ تھا بلکہ روزی روٹی کے حصول کے لیے ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر حملہ آور ہوتا رہتا تھا، اسی وجہ سے عرب کی سرزمین پر خون خرابہ، قتل وقتال اور غارت گری کا ایک چلن تھا، جو قبیلہ زیادہ جنگجو ہوتا تھا اس کی عظمت وشوکت تسلیم کی جاتی تھی، مگر یہ تمام خون خرابے، لوٹ مار اشہر حرم میں موقوف کردیے جاتے تھے۔ اہلِ عرب کے یہ روایت تھی کہ وہ سال کے چار حرمت والے مہینے اپنی مرضی سے منتخب کر لیتے تھے مگر قدرتی ترتیب کا پاس نہیں کرتے تھے۔ ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم تین مہینے کے پے درپے حرمت والے مہینے آنے کی وجہ سے اکثر ان کے خورد و نوش کا سامان ختم ہو جاتا تھا کیونکہ اکثر بدوؤں کے قبائل کا پیشہ ہی لوٹ مار تھا، لڑائی جھگڑوں اور جنگوں سے اپنی روزی روٹی چلانے والے بھی بھوکے ننگے ہو جاتے تھے، جس پر انہوں نے یہ حل نکالا کہ کہ حرمت والے پے در پے مہینوں میں کوئی بغیر حرمت والا مہینہ خود ہی شمار کر لیتے اور حرمت والا مہینہ اس مہینے کی جگہ لےجاتے۔ اور اس مہینے میں اپنے ناجائز چوری چکاری یا لڑائی جھگڑوں کے پیشوں سے خوب آمدن کما لیتے۔ یعنی اس سال پہلے صفر ہوگا، اس کے بعد محرم، کبھی ذی الحجہ و ذیقعدہ وغیرہ کو ختم کرکے کوئی اور مہینہ بنا دیتے تھے تاکہ وہ خوب لوٹ مار کر سکیں۔ ان سب کارستانیوں کو اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع کر دیا۔ ارشاد ہوا کہ: إنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَۃ فِي الْكُفْرِ (التوبہ 37) حقیقت یہی ہے کہ مہینوں کو پیچھے کر دینا کفر ہے۔ عربوں کے مہینوں کو آگے پیچھے کرنے سے فطری ترتیب بگڑگئی تھی۔ جس سال آپ ﷺ نے حجۃ الوداع فرمایا تو آپ نے اپنے خطبہ میں پوچھا تھا کہ یہ کون سا دن اور کون سا مہینہ ہے، صحابہ خاموش رہے کہ شاید کوئی تبدیلی کا اعلان ہوگا لیکن جب آنحضور نے کہا کہ یہ یوم نحر نہیں؟ تو صحابہ نے کہا کہ بالکل ہے، تو پھر آپ نے فرمایا کیا یہ ماہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ تو صحابہ نے جواب دیا کہ بالکل ہے۔ تو پھر رسول خدا ﷺ نے اپنا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ: اِنَّ الزمان استدار کہیئۃ یوم خلق السمٰوات والارض (بخاری:؛4626،مسلم: 1679) یقینا زمانہ گھوم پھر کر اسی فطری ترتیب پر آگیا ہے جیساکہ اللہ نے آسمان وزمین کی تخلیق کے دن ہیئت و ترتیب رکھی تھی۔ لہٰذا اسلام کے بعد قیامت تک یہی ترتیب رہے گی اور اسی ترتیب سے محرم الحرام اسلامی کلینڈر کاپہلا مہینہ ہے، اسی نئے سال کا ہم والہانہ استقبال کر رہے ہیں، یہ سال نو اللہ کرے کہ امت محمدیہ کی سربلندی اور دینی بیداری کا سال ہو۔\n\nمحرم الحرام کی فضیلت:\nمحرم کی پہلی فضیلت یہ ہے کہ یہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ :\nسال میں بارہ مہینے ہیں، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، تین مہینے، ذوالقعدۃ، ذوالحجۃ اور محرم اکٹھے ہیں اور چوتھا رجب ہے جو شعبان اور جمادی الثانی کے درمیان ہے۔ (صحیح بخاری :3197) دوسری فضیلت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے محرم کو اللہ تعالیٰ کا مہینہ کہا ہے: آپ نے فرمایا کہ: رمضان کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔ (صحیح مسلم 1163) تیسری فضیلت ماہ محرم یوم عاشورہ کے روزے سے ایک سال کے گناہوں کا معاف ہونا ہے۔ فرمان نبویﷺ ہے کہ: مجھے اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ یوم عاشورا کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا (صحیح مسلم 1162) محرم الحرام کے اہم تاریخی واقعات:\nماہِ محرم کی دسویں تاریخ کو عاشورہ کہتے ہیں۔ انبیاء کی حیات سے متعلق اہم واقعات کےظہور کے بیان نے یوم عاشورہ کی ‏تاریخی اہمیت بہت زیادہ بڑھا دی ہے۔ صاحب عمدۃ القاری نے یوم عاشورہ کو رونما ہونے والے واقعات میں حضرت آدم ؑ کی ‏تخلیق، ان کا جنت میں داخل ہونا اور جنت سے نکالے جانے کے بعد توبہ کا قبول ہونا، حضرت نوح ؑکی کشتی کا جودی پہاڑ ‏پرلگنا، حضرت ابراہیم ؑ کی پیدائش، اور نمرود کی دہکائی ہوئی آگ میں ڈالے جانا، حضرت موسی ؑ اور بنی اسرائیل کو فرعون ‏کے مظالم سے نجات ملنا اور فرعون کا اپنے لشکر کے ساتھ دریائے نیل میں غرق ہونا، حضرت ایوب ؑ کا بیماری سے شفایاب ‏ہونا، حضرت ادریس ؑ کاآسمانوں پر اٹھا لیا جانا، حضرت سلیمان ؑ کو عظیم بادشاہت نصیب ہونا، حضرت یعقوب کی بینائی کا لوٹ ‏آنا، حضرت یوسف کا کنویں سے نکالے جانا، حضرت یونس کا مچھلی کے پیٹ سے باہر آنا، حضرت عیسی کی ولادت اور ان کا زندہ ‏آسمانوں پر اٹھائے جانے کو شمار کیا ہے۔ ( عمدۃ القاری شرح البخاری، باب صیام یوم عاشوراء :۷؍۸۹) تاریخ اسلام میں مختلف سالوں کے اس ماہ میں رونما ہونے حوادث و واقعات میں سے 3 ہجری میں ام کلثوم بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عثمان سے نکاح، 6 ہجری میں غزوہ ‏خیبر، 24 ہجری میں حضرت عمر فاروق کی شہادت، 24 ہجری میں حضرت عثمان کا خلیفہ منتخب ہونا، اور 35 ہجری ان کا شہید ہونا، 37 ہجری میں واقعہ ‏صفین، 61 ہجری میں واقعہ کربلا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا شہید ہونا، 133 ہجری میں بنو امیہ کا قتل عام ہونا‏، 134 ہجری میں دارالخلافۃ کا کوفہ سے انبار منتقل ہونا، 146 ہجری میں قبرص پر مسلمانوں کا مکمل قبضہ ہونا، 161ہجری میں عباسی دور میں مسجد نبوی کی پہلی توسیع، 200 ہجری میں عباسیوں ‏کا مردم شماری کروانا، 278ھ میں قرامطہ کا قوت پکڑنا اور جنگ کرنا، 294ھ میں شام میں قرامطہ کا ظلم وستم کے بازار گرم کرنا (یاد رہے کہ موجودہ داعش کے نظریات بھی قرامطہ سے ملتے جلتے ہیں)، 372ھ میں بغداد میں شدید قحط پڑنا، 378ھ میں بغداد میں دنیا کی سب سے بڑی رصدگاہ کا ‏افتتاح ہونا، 449ھ میں عراق میں شدید قحط آنا اور وبائی امراض پھوٹ پڑنا، 497ھ میں انگریزوں کا عکہ پر قبضہ کرلینا، 551ھ میں بغداد میں کئی بار آگ کا لگنا، 552ھ میں شام کے تیرہ شہروں کا زلزلے سے تباہ ہوجانا اور 565ھ کے زلزلے میں 80 ہزار لوگوں کا مارے جانا، 573ھ میں انگریزوں کا واقعہ الرملہ میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرنا، 656ھ میں ہلاکو خان کا بغداد کو تباہ کرنا اور 818ھ میں مصر میں ‏طاعون اور قحط کی وبا پھوٹ پڑنا قابل ذکر ہیں۔
تحریر: میاں عتیق الرحمٰن