کسی بھی ملک یا قوم کی پہچان صرف اس کی جغرافیائی حدود سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے تہذیب جزو لازم کی حیثیت رکھتی ہے. جس میں زبان، علم و ادب، فنون، رسوم وروایات اور اخلاق و عادات سب ہی کچھ شامل ہیں. ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی ہر قوم اپنی ایک جداگانہ تہذیب رکھتی ہے. بسا اوقات جس کے کچھ عناصر کسی دوسری قوم سے مماثلت بھی رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود ہر قوم اپنی تہذیب میں ایک انفرادیت ضرور رکھتی ہے.
ہمارا وطن گو کہ ٧١ سال پہلے پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا لیکن اس کی تہذیب کے تانے بانے صدیوں پرانے ہیں. اگرچہ پاکستان اپنی جغرافیائی خوبصورتی کے حوالے سے اقوام عالم میں بے نظیرہے لیکن سماجی خصوصیت میں بھی یگانہ مقام رکھتا ہے. بات چاہے زبان و ادب کی ہو یا فنون کی، لباس کی ہو یا پکوان کی سب پر پاکستان کی مخصوص انفرادیت کی یک رنگی نظر آتی ہے. سلام پاکستان، جو سویڈن میں رہائش پزیر پاکستانیوں کی قائم کردہ ایک انجمن پاکستان انفارمیشن و کلچر سوسائٹی کا ایک ذیلی منصوبہ ہے،اسی مصدر کو سامنے رکھ کر پاکستان کی تہذیب کو مغربی دنیا میں روشناس کرنے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے. اس حوالے سے پاکستان انفارمیشن و کلچر سوسائٹی نے ٢٠١٧ اور ٢٠١٨ میں کچھ ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے جو مغربی دنیا میں پاکستان کے وقار کو بلند کرنے کا ذریعہ کہلائے جاسکتے ہیں. ٢٠١٧ میں پہلی دفعہ پیش کیے جانے والے سلام پاکستان کی خاص بات ‘پاکستان کے رنگ’ کے نام سے بنائی جانے والی معلوماتی دستاویزی فلم ہے جس میں خطہ پاکستان کا مکمل تعارف پیش کیا گیا ہے .

اسی سلسلے میں شکریہ پاکستان’ کا انعقاد بھی کیا گیا جس کی خاص بات پاکستانی بچوں کی اپنے وطن سے محبت کا اظہار تھا. بچوں نے پاکستان کے علاقائی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بھرپور یکجہتی کا پیغام دنیا تک پہنچا رہے تھے.


سال ہائے گذشتہ کی روایت برقرار رکھتے ہوئے سلام پاکستان نے ٢٠١٨ میں سویڈن میں پاکستانی علاقائی کھانوں کی تشہیر اور پاکستان کے مخصوص فن، ٹرک آرٹ کی روشناسی کا ارادہ کیا.اسٹاک ہولم شہر کے وسط میں ہونے والی اس تقریب میں مقامی مہمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور پاکستانی پکوان ،ٹرک آرٹ ،علاقائی موسیقی اور خاص طور پر رباب کی خوبصورت دھنوں سے لطف اندوز ہوئے. اسی سلسلے میں کچھ مقامی مہمانوں کو پاکستانی پکوانوں کا ذائقہ متعارف کرانے اور انکا ردعمل جانے کی ایک چھوٹی سی کوشش بھی کی گئی .
https://www.facebook.com/picss.se/videos/1572394782843267/
https://www.facebook.com/picss.se/videos/1580318332050912/
https://www.facebook.com/picss.se/videos/1589555697793842/
https://www.facebook.com/picss.se/videos/1589679784448100/
پاکستانی کے علاقائی ذائقے
پاکستان دنیا میں جہاں مختلف حوالوں سے جانا جاتا ہے ان میں ایک پکوان بھی ہے. جو ذائقے میں منفرد اور مزے میں بھرپور حیثیت رکھتے ہیں. پاکستان کے چاروں صوبے بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخواہ اور سندھ پکوان کے حوالے سے مخصوص انفرادیت رکھتے ہیں. مثال کے طور پر پنجاب اور سندھ کے ذائقوں میں مختلف مصالحے نمایاں ہوتے ہیں جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں مصالحوں کا استعمال حتی المقدور کم سے کم کیا جاتا ہے. ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے شہری ایک صوبے سے دوسرے صوبے جب سیاحت کی غرض سے جاتے ہیں تو ان کے پیش نظر وہاں کے روایتی پکوان بھی ہوتے ہیں لیکن پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ پورے پاکستان کے ذائقے خیبرپختونخواہ سے سندھ تک، ایک چھتری تلے مل جاتے ہیں.

ٹرک آرٹ
سلام پاکستان کا ایک منصوبہ پاکستان کے ٹرک آرٹ کو سویڈن میں روشناس کرانا بھی ہے. پاکستان کا ٹرک آرٹ اپنے خصوصی طرز کی بناء پر دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان ہے. ٹرکوں پر اور دوسرے ذرائع نقل و حمل بسیں، گاڑیاں، لاریوں اور رکشوں پر مختلف رنگوں کی آمیزش سے کی گئی تصویر کشی مقامی فنکاروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت پیش کرتی ہے. اس فن کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب یہ مقامی سطح سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان رکھتا ہے. ٢٠٠٦ میں کامن ویلتھ گیم کے موقع پر آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں چلنے والی ٹرک آرٹ سے آراستہ ٹرام اس کی مقبولیت کی سند ہے. دیگر یہ کہ ٢٠١٥ میں مشہور زمانہ آرائش و زیبائش کی کمپنی دولچے گبانا نے اپنی تشہیری مہم میں ٹرک آرٹ سے سجے رکشے کو استعمال کیا تھا جسے خوب سراہا گیا تھا. اس منفرد فن سے واقفیت دلانے کے لیے ٢٨٨ صفحات پر مشتمل ایک کتاب (ونگز آف ڈیزل) بھی منظر عام پر آئی ہے جس کے مصنف جمال جے الیاس ہیں.
١٩٥٠ کی دہائی سے کراچی ٹرک آرٹ کے حوالے سے ملک کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں اس وقت بھی پچاس ہزار سے زائد فنکار اس فن سے وابستہ ہیں. علاوہ ازیں راولپنڈی، سوات، پشاور، کوئٹہ اور لاہور میں بھی اس فن کے حاملین موجود ہیں.

ٹرک آرٹ کی سب سے بڑی خوبی مختلف رنگوں کا مناسب استعمال قرار دیا جاتا ہے. جو اس میں بنائے گئے مناظر کو دلچسپ بناکر پیش کرتے ہیں. عام طور پر فنکار منظرکشی میں مقامی مناظر یا اشیاء کو فوقیت دیتے ہیں. جیسے پاکستان کے برفانی پہاڑوں کے مناظر،سرسبزوادیاں، بہادری کی علامت جانور و پرندے شیر و چیتے و شاہین و باز وغیرہ. مالکان یا ٹرک ڈرائیور وطن سے اپنی محبت کے اظہار کے طور پر پاک فوج کے سپاہیوں اوراور مختلف فوجی طیاروں کے مناظر بھی شوق سے بنواتے ہیں. حکومت پاکستان بھی گاہے بہ گاہے اس فن کی قدردانی کی خاطر اس کی نمائش میں خصوصی دلچسپی دکھاتی ہے.

https://www.facebook.com/picss.se/videos/1833432053406204/
پاکستان انفارمیشن و کلچر سوسائٹی نے اپنے آنے والے سلام پاکستان ٢٠١٩ کا خوبصورت ٹیزر جاری کر دیا ہے یہ تقریب ٢٣ مارچ ٢٠١٩ میں ہوگی اب اس میں کیا ہوگا اس کے لئے تو آپ کو انتظار کرنا پڑیگا .