Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /customers/5/8/f/urduqasid.se/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96
450

سرائیکی غزل

میڈے کردار کوں سوچیں میڈی تمثیل توں پہلے
ادھورا کیوں کرینا ہیں میکوں تکمیل توں پہلے

میں تیڈے حکم تے کیویں بھلا سر کوں جھکا ڈیواں
میکوں ساری وضاحت ڈے سھنا تعمیل توں پہلے

اندھیرے کوں مٹاون دے وی کجھ دستور تھیندے ھن
کتھوں ڈیا وی گولھی آ کہیں قندیل تو پہلے

وڈا انسانیت تو ول وڈا درجہ وی کیا تھیسیں
کڈھن سوچیا اے توں انسان دی تذلیل توں پہلے

نظر آندیان بہوں ھنجاں خط وچ نام دے تلے
بہوں حیران قاصد تھی گیا ترسیل توں پہلے

سچل ہر ھک نا ملدا ہے بہوں مخلص ملنگ تھی تے
خبر ساکوں ھوندی ہے ہراک تفصیل تو پہلے

سائیں رحمت علی سٹاک ہوم میں مقیم ایک کلم نگار ہیں آپ کا تعلق خیرپور ناتھن شاہ، ضلع دادو سندھ سے ہے۔ ہمارے اخبار اردو قاصد کے کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ویسے تو نثر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں لیکن ادب سے محبت میں اکثر غزل اور نظم بھی لکھا کرتے ہیں۔ سائیں رحمت علی نثر اپنے نام کے ساتھ لکھتے ہیں مگر نظم میں سچل سائیں استعمال کرتے ہیں۔

چند دنوں پہلے اوسلو(ناروے) میں، دریچہ تنظیم کی طرف سے مشاعرہ منعقد کیا گیا جس میں سائیں رحمت علی نے ایک سرائیکی غزل پیش کی۔ اردو قاصد سائیں کی یہ خوبصورت غزل قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں