تیرا بھائی میرا بھائی کا نعرہ پنجاب کے سابقہ وزیر اعلیٰ، چودھری پرویز الاہی ، نے کسی درباری کو رقم دے کر لگوایا تھا مگر مشرف کے جاتے ہی نہ بھائی رہا نہ ہی نعرہ مارنے والے رہے۔
اور ایک یہ بھائی تھے جس کو احمد ندیم قاسمی صاحب نے منو بھائی کے نام سے لکھنے کا مشورہ دیا تھا اور اس کے بعد بلا تفریق عمر منو بھائی سب کا بھائی بن گیا گو کہ آپ کا نام نامی منیر احمد قریشی تھا۔
آپ ۶ فرورہ ۱۹۳۳ میں وزیرآباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعیلم کے بعد ۷ جولائی ۱۹۷۰ کو منو بھائی کا پہلا کالم ایک اردو اخبار میں شائع اور اس کے بعد مختلف اخبارات میں آپ کے ہزاروں کالم شائع ہوتے رہے۔ غربت، عدم مساوات، سرمایا دارانہ نظام، عورت کا استحصال اور بندہ مزدور کے حالات آپکے کالمز کے موضوع تھے۔ منو بھائی کا انداز دوسرے کالم نویسوں سے ذرا ہٹ کے تھا اور یہ انوکھا اور نرالہ انداز عوام میں بہت مقبول ہوا۔ کم شعوری کی وجہ سے کچھ لوگ آپکے کالمز میں پائے جانے والے طعن و ترش کو طنز و مذاح سمجھتے تھے۔ منو بھائی چونکہ ایک عوامی آدمی تھے اس لئے آپ نے زبان بھی ایک عام فہم آدمی کو سجمھ میں آنے والی اپنائی۔ حاضر جوابی اور بزلہ سنجی آپکا خاصا تھی۔ دلدار پرویز بھٹی نے ایک دفعہ ٹی وی پہ انٹرویو میں پوچھا کہ منو بھائی آپکی بیگم آپکو منو بھائی یا منو کہہ کے بلاتی ہیں؟ منو بھائی نے جھٹ سے جواب دیا ´ میری بیوی مجھے دلدار کہتی ہے´۔
اس کے بعد ایک دور وہ بھی آیا کہ لوگ آپکے کالمز کے منتظر رہتے تھے۔ اور اس حقیر نے خود سنا ہے کہ عام لوگ گلیوں میں آپ کے کالمز پہ مزیدار تبصرے کرتے تھے۔
منو بھائی ایک انقلابی اور ترقی پسند انسان تھے۔ معاشرے میں صرف ظلم سے پردہ نہیں اٹھایا بلکہ ظالم کو بھی بے نقاب کیا۔ ہر مارشل لا دور میں صرف مارشل لا کی مذمت نہیں کی بلکہ ڈکٹیٹرز کی مذمت بھی سر عام کی۔ ایک سچے اور مخلص انسان تھے۔ ایک واقع جو مجھے آج تک یاد ہے آپ سب کی نذر کرتا ہوں۔ ۱۹۷۹ میں مجھے حیدرآباد جانے کا اتفاق ہوا۔ آرٹس کلب میں مشاعرہ تھا۔ جناب فیض صاحب سے لے کر جالب صاحب تک تشریف فرما تھے۔ یہ ہمارا کالج کا زمانہ تھا اس لئے ہمارا شمار نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ گورنمنٹ کالج نوابشاہ کے لیکچرر فرید جاوید صاحب اپنی غصیلی آنکھیں دکھا کر ساتھ لے جاتے تھے۔ ناظم صاحب نے اعلان کیا کہ اب منیر احمد قریشی صاحب اپنے کلام سے نوازیں گے۔ محترم ایسے سٹیج پہ تشریف لائے جیسے زمین دکھتی ہو۔ جب بولنا شروع کیا تو یک لخت فضا میں منو بھائی منو بھائی کی صدائیں گونج اٹھیں۔ بہت ہی سادہ الفاظ میں منو بھائی اپنے کلام کو سامعین تک پنہچانے کا فن بخوبی جانتے تھے۔ ہائے کیا صورتیں تھیں جو خاک میں پنہاں ہوگئیں۔
آپ نے پنجانی زبان میں شاعری کو نئی جہت بخشی۔ ´ہجے قیامت نہیں آئی ´نے بہت ہی مقبولیت حاصل کی۔ اس طرح آپ کے لکھے ہوئے ڈرامے سونا چاندی کو بھی بہت پذیرائی ملی۔ صحافتی اور ادبی خدمات پر ۲۰۰۷ میں آپکو تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
اپنی زندگی کے اوآخر میں بچوں کے فلاحی کام کے لئے ایک این جو چلانا شروع کی۔
حیف صد حیف کہ ہمارے صاحبان اقتدار اور دیگر ادراوں کے سربراہ رسمی تعزیعتی پیغامات بھیج رہے ہیں مگر جب وہ زندہ تھے تو کسی نے حوصلہ افزائی کے دو لفظ تک نہ کہے۔ ڈھونڈ اب انکو چراغ رخ زیبا لے کر۔
میں سوچتا ہوں کہ منیر احمد قریشی سے لے کر منو بھائی تک کا سفر اگر بہت آسان نہیں تو بہت مشکل نہ ہو گا کیونکہ منو بھائی ایک منزل کا نام تھا کسی آدمی کا نام نہیں تھا۔ اپنی منزل کو پا لینے کے بعد جوانمردی، ہمت اور حوصلہ سے اپنے نقطہ نظر پہ ثابت قدم رہے اور یہ ہی بڑے لوگوں کی نشانی ہوتی ہے۔
آج لوگ کسی منیر احمد کو نہیں جانتے مگر منوبھائی کو ایک بچے سے لیکر ایک بزرگ تک سب جانتے ہیں۔ زبان زد خاص و عام ہے ، تیرا بھائی، میرا بھائی، سب کا بھائی ، منو بھائی۔