زندگی زہر سہی ہنستے ہوئے پینا ہے
تجھ کو کھو کر بھی بہرحال مجھے جینا ہے
ہاں یہ سچ ہےکہ میں زندہ ہوں تجھے کھو کر بھی
یہ بھی سچ ہے کہ یہ جینا بھی کوئی جینا ہے
کاش ایسا ہو کہ اب وقت یہیں رک جائے
اُس کی بکھری ہوئی زلفیں ہیں مرا سینہ ہے
جس کو دکھتاہی نہ ہو فرق حق و باطل میں
خود کو گر غور سے دیکھےتو وہ نابینا ہے
جب دکھاتا ہے حقیقت ہی دکھاتا ہے مجھے
یہ جو مجھ میں مری اوقات کا آئینہ ہے
دُکھ تو بس یہ ہے کہ منصف بھی وہی تھا اعظم
جس نے ہر دور میں حقدار سے حق چھینا ہے