103

زرد پتوں کا یہ ہےیا اظہار کا موسم

زرد پتوں کا یہ ہےیا اظہار کا موسم
پیڑوں پہ تو لگتا ہے یہی پیار کا موسم

تم جو آئینہ چھپائے بیٹھے ھو
لو آ گیا پھر سے سنگھار کا مو سم

جو سوچ کے ساغر میں ڈوبے ہوئے ہیں
ہے ان کے لئے یہ ہی انکار کا موسم

رقص کرتی ہواوں کاجب شورسنوں
یاد آتا ہے مجھے پھر تکرار کا موسم

نئی شاخیں پنپتی ہیں خزاں کے بعد
گلشن کو سجا دیتا ہے بہار کا موسم

اے وعدہ فراموش کچھ تو بھرم رکھ
عمر گزری ہے نہ دیکھا ہے دیدار کا موسم

آو پھر سے محبت کی زبان سکھیں سہیل
بیت جائے کہیں نا پھر گفتار کا موسم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں