زرد پتوں کا یہ ہےیا اظہار کا موسم
پیڑوں پہ تو لگتا ہے یہی پیار کا موسم

تم جو آئینہ چھپائے بیٹھے ھو
لو آ گیا پھر سے سنگھار کا مو سم

جو سوچ کے ساغر میں ڈوبے ہوئے ہیں
ہے ان کے لئے یہ ہی انکار کا موسم

رقص کرتی ہواوں کاجب شورسنوں
یاد آتا ہے مجھے پھر تکرار کا موسم

نئی شاخیں پنپتی ہیں خزاں کے بعد
گلشن کو سجا دیتا ہے بہار کا موسم

اے وعدہ فراموش کچھ تو بھرم رکھ
عمر گزری ہے نہ دیکھا ہے دیدار کا موسم

آو پھر سے محبت کی زبان سکھیں سہیل
بیت جائے کہیں نا پھر گفتار کا موسم