عید الاضحی مسلمانوں کا وہ تہوار ہے جسے بچے اور بڑے ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں ذوق و شوق سے مناتے ہیں۔ عید سے زیادہ عید کی تیاریوں کا جوش و خروش ہوتا ہے جس میں قربانی کے جانور کی خریداری، گھر کیی آرائش ،عید کے لباس کی خریداری اور رشتے داروں سے ملنے کی خوشی سرِ فہرست ہوتی ہے۔ ان سب کا انحصار شہر اور ملک کے حالات پر بھی ہوتا ہے۔ بہت سے شہر اور مسلم ممالک کئی سال سے ہنگامی یا جنگی حالات سے گزر رہے ہیں مثلاً شام، اعراق، افغانستان، سومالیہ، مایانمار، سوڈان، چین وغیرہ۔ اس عید پر ریاستِ کشمیر کے مسلمانوں نے بھی نہایت مشکل وقت گزارا جب بھارت کے صدر نے بین الاقومی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی آزادی سلب کر دی- نہ صرف قانون توڑا بلکہ مزید ۳۵،۰۰۰ فوجیوں کو کشمیر میں بھیج دیا۔ ذرائع مواصلاتُ کو بھی بند کر دیا گیا۔ اس پیش منظر میں عید منانے کا تصور کیجئے! جب آپ گھر میں مقیّد ہوں اور آپ نہ ریاست اور شہر بلکہ ملک سے باہر اقرباء کی خیر خبر بھی نہ لے سکتے ہوں۔ مریض ہسپتال نہ جا سکتے ہوں اور گھر کا راشن ختم ہو جائے۔ ایسے میں کونسی عید اور کہاں کی عید؟

بینالاقوامی برادری کو بھارت کی انسانی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہئیے اور اقوام متحدّہ کی تجویز کردہ کشمیریوں کی حق خود ارادیت پر عمل کرنا چاہئیے تاکہ کشمیری اپنی رائے کا استعمال کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا سکیں۔

جشنِ آزادیُ پاکستان کے موقعے پر آئییے ہم کشمیر سمیت اُن تمام مسلمانوں کے لئیے رب کریم سے دعا گو ہو جائیں جو کسی نہ کسی ظلم کا شکار ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نے کیا خوب دعا لکھی ہے وطن عزیز کے لئیے۔
خدا کرے کے میری عرض پاک پے اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے صدیوں
یہاں سے خزاں کو گزارنے کی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کے جس کی کوئی مثال نہ ہو
خدا کرے کے نہ خام ہو سر وقار وطن
اور اس کے حسن کو تشوش ماہ وسا ل نہ ہو
ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوج و کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو