ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں بنیادی طور پر ہرچیز اور کام کی ایک قیمت یا معاوضہ طے ہوتا ہے۔ بچوں کی نگہداشت ہو یا بوڑھے والدین کی دیکھ بھال سب معیشت کا حصہ بن چکے ہیں ۔ جبکہ یہ کام پہلے خاندان کے افراد خود بغیر کوئی معاوضے لیے کیا کرتے تھے۔ جب خاندان کا بچہ یا بچی ملک سے باہر تعلیم یا ملازمت کی غرض سے جاتا ہے تو اپنی محبت کے عوض اپنے والدین کو رقم بھیج کر دست بردار ہوجاتا ہے۔ اس معاملے میں بھی اولاد اور والدین کے اس رشتہ اور محبت کا متبادل معاوضہ ہی ہے۔ مختصر یہ کہ جب تک کسی بھی سرگرمی یا مصنوعات کی قیمت تفویض نہیں ہوتی ، یہ کسی بھی معاشرے کے فیصلہ سازوں کے لیے پوشیدہ رہتی ہے۔
سویڈن میں پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائٹی پیشہ ور افراد پر مشتمل رضاکاروں کی ٹیم بھر پور انداز میں برادی کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ تحریر ان تمام افراد کو خراجِ تحسین ہے جو کسی بھی تنظیم سے نیک کام کے لیے جڑے ہوئے ہیں۔
دنیا بھر میں مصروف ِ عمل غیر منافع بخش تنظیمیں اس بات کو سمجھتی ہیں کہ اس کی تنظیم سے جڑے رضاکار ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ رضاکاروں کے ذریعے تنظیم کو اپنے اہداف تک پہنچنے اور اپنی مزل کی جانب اس طویل سفر کو طے کرنے میں مدد ملتی ہے۔ رضاکار اپنی قیمتی پیشہ ورانہ مہارت سے ایک تنظیم کو بہتر نتائج دلاتے ہیں ۔
آخر ہم رضاکاروں کے وقت اور ان کی پیشہ ورانہ خدمات کی قدروقیمت کیوں نہیں کرتے؟
ہم آ ج دنیا میں ہر کام کی قیمت طے کرتے ہیں بس یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو انمول ہے اور ہم رضاکارانہ خدمات کو کھنٹوں اور معاوضے کے ترازو پر نہیں تول سکتے ۔ لیکن ان کی خدمات کو تسلیم اور تعاریف کر کے ان کی حوصلہ افزائی ضرور کرنی چاہیئے۔ ان کے وقت، ذہانت، قابلیت اور توانائی جو وہ کسی بھی تنظیم کے لیے وقف کرتے ہیں اس کی قدر ضروری ہے اور ان کو اس بات کا یقین دلانا بھی ضروری ہے کہ وہ ایک تنظیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھتے ہیں۔
امریکہ کی رپورٹ ڈالر ویلو آف والینٹیر آور 2017میں رضاکارانہ وقت کی متوقع قدر 24.69 ڈالر فی گھنٹہ کا تخمینہ لگایا ہے ۔ وہ تمام افراد جو برادری، دکھی انسانیت، شہر، ملک اور دنیا کی خدمت میں جٹے ہوئے ہیں ان کے لیے ان کے وقت اور پیشہ ورانہ خدمات کی پیمائش ہے۔
لیکن ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں اجر آخرت میں ملنے کی امید رکھنی چاہیئے۔ اسلام میں انسانوں کی خدمت پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ اسے عین عبادت قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

(الحج-۷۷)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رب کی بندگی کرو اور نیک کام کرو، اسی سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم کو فلاح نصیب ہو‘‘
اس آیت میں رکوع و سجدہ سے مراد نماز اور خیر سے مراد اللہ کے بندوں کی خدمت ہے ۔ یہ دونوں چیزیں عبادت میں شامل ہیں، لیکن ان کی خصوصی اہمیت کی بناپر انھیں الگ ذکر کیا گیا ہے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

(فیض القدیر للمناوی، ۳/۴۸۱)
’’سب سے بہتر انسان وہ ہے جس کی ذات سے انسانوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے‘‘
آخر میں اتنا ہی کہوں گا کہ جس خوش اسلوبی اور بے لوث پاکستان سے دور رہ کر بھی پاکستان کی بھلائی اور بقا کے لیے آپ کام کر رہے ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی ثابت قدمی سے آپ لوگ یہ کام انجام دیتے رہیں۔