161

دنیا کی مشکل ترین چوٹی کے ٹو

سال رواں میں کوہ پیماؤں کی ایک جماعت نے دو ماہ کی جدو جہد کے بعد ایک بار پھر دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا. اس مہم میں چار پاکستانیوں سمیت چین، جاپان، آئرلینڈ، منگولیا، میکسیکو، سوئٹزرلینڈ، امریکہ، جمہوریہ چیک، بیلجیئم اور نیپال کے کُل31 کوہ پیما شامل تھے. کوہ پیمائی کے الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق دو ماہ کی کٹھن جدوجہد کے بعد کامیاب کوہ پیما آج بروز اتوار کے ٹو سے واپسی کا سفر شروع کریں گے.
کے ٹو چین اور پاکستان کی سرحد پر قراقرم کے علاقے میں واقع ہے. چین میں یہ صوبہ ژن زیانگ اور پاکستان میں گلگت بلتتستان اس کا مرکز ہے. سطح سمندر سےاس کی بلندی 8،611 میٹر ہے. اس چوٹی کو مقامی بلتی زبان میں چھوغوری کہا جاتا ہے جبکہ اسے ماؤنٹ گڈون اوسٹن اور کے ٹو کے نام سے شہرت حاصل ہے. 1856 میں برطانوی سروے ٹیم کے رکن تھامس جارج مونٹگمری نے قراقرم رینج کے پہاڑی سلسلے کو کے ٹو 1،2،3،4،5 میں تقسیم کرتے ہوئے اسے دنیا کی دوسری بلند چوٹی قرار دیا تھا.
اگرچہ بلندی میں ماؤنٹ ایورسٹ کو کے ٹو پر سبقت حاصل ہے . جس کی بلندی 8،848 میٹر ہے لیکن کوہ پیماؤں کے مطابق کے ٹو ایورسٹ کے مقابلے میں حد درجہ سنگین اور پر خطر ہے جس کو سر کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے. اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایورسٹ کو سر کرنے والے 7500 افراد میں سے اب تک 287 افراد موت کا شکار ہوئے جبکہ کے ٹو کو سر کرنے والے 375 افراد میں 87 اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے.
کے ٹو چونے کے پتھر کا پہاڑ ہے جو حد درجہ اونچ نیچ اور سنگلاخ چٹانوں پر مشتمل ہے. اس کو سر کرنے میں صرف اس کی بناوٹ آڑے نہیں آتی بلکہ آکسیجن کی شدید کمی، لینڈ سلائڈنگ اورکئی کئی روز رہنے والے شدید طوفان بھی اس کو کوہ پیماؤں کے لیے دشوار گزار بناتے ہیں. اسی وجہ سے اسے قاتل پہاڑ اور وحشی پہاڑ کا نام دیا جاتا ہے. ماہرین کے مطابق کے ٹو کو سر کرنے کا بہترین وقت جولائی سے اگست تک ہے، سرد موسم میں اسے سر کرنا اپنی موت کو دعوت دینے کے برابر ہے.
بارہا ناکامی کے بعد کے ٹو کو پہلی مرتبہ سر کرنے کا کارنامہ 1954 میں اٹلی کے کوہ پیما ایشلے کومپیگ نونی نے انجام دیا جن کے ساتھ دو پاکستانی کوہ پیما کرنل عطا اللہ اور امیر مہدی بھی شامل تھے. 2004 میں اسپین کے کوہ پیما کارلوس سوریا فونٹین اس چوٹی کو سر کرنے والے سب سے عمر رسیدہ شخص تھے . جن کی عمر مہم جوئی کے وقت 56 سال تھی. 2017 میں برطانوی وامریکی شہریت رکھنے والی کوہ پیما ونیسا اوبرائن کے ٹو سر کرنے والی دنیا کی پہلی خاتون کوہ پیما ہیں. جن کی عمر 53 سال ہے.
پاکستان میں کوہ پیمائی کا مستقبل خاصہ روشن ہے. یہاں کوہ پیمائی میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شامل ہیں. حسن سدپارہ، محمد علی سدپارہ ، مرزا علی بیگ ، شاہین بیگ اور ثمینہ بیگ دنیائے کوہ پیمائی میں خاصی شہرت کے حامل ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں