تحریر : محمد شعیب صدیقی
عزیز ہم وطنوں! پاکستانی قوم اس وقت عجیب گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہے. اس کی سب سے بڑی وجہ معاشرے میں کچھ عناصر کے غلط رویے ہیں. ان عناصر نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے سب کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے. عجیب عجیب قسم کے ٹوٹکے اور نیم حکیمی نسخے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلا رہے ہیں جس سے معاشرے میں خوف کی فضا چھا گئی ہے. کچھ علمائے کرام اپنے لیکچروں اور خطبات میں لوگوں کو ڈرا رہے ہیں. خود تو وہ لوگ اپنے بنکروں میں بیٹھے ہیں اور قوم کی ہمت توڑ رہے ہیں. کس زمانے میں امریکہ میں ایک تجربہ کیا گیا کہ انسان ہر بیماری سے اپنی قوت مدافعت سے بچ سکتا ہے لیکن خوف سے مر جاتا پے. اس سلسلے میں انہوں نے ایک مجرم، جس کو موت کی سزا ہو گئ تھی، سے کہا کہ ہم تمھیں سانپ سے ڈسوا کر ماریں گے. اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور پھر صرف دو سوئیاں چھبوئی گئیں اور اس کے بعد یہ دیکھا گیا کہ وہ شخص اس خوف سے مر گیا کیونکہ اس کے دماغ میں ایک خوفناک سانپ کا تصور اجاگر کر دیا گیا تھا. تو ثابت ہوا کہ انسان کبھی کبھی کسی بیماری یا وائرس سے نہں متاثر ہوتا بلکہ وہ خوف دماغ میں اجاگر ہو جاتا ہے اور اس خوف سے وہ بھی اپنے آپ کو اسی طرح کی صورتحال میں محسوس کرنا شروع کردیتا ہے.
آج پاکستان کے 90 فیصد لوگ اسی خوف کی کیفیت میں مبتلا ہیں اور اس کی وجہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پھیلایا جائے والا خوف ہے. حکومت کے اعلان کے بعد ہم کو گھروں میں محصور ہونا چاہیے تاکہ اس وائرس کو پھیلانے سے اپنے آپ کو اور دوسروں کو بچائیں. ایسے وقت ،میں لوگوں کو ڈرانے کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے انہیں خوش رکھیں اور تفریح وطبع کا باعث بنیں. شکریہ