زندگی میں ضروری نہیں کہ آپ کو وہ سب کچھ ملے جس کے آپ خواہش مند ہیں. اب ایسا بھی نہیں ہے کہ آپ کو کچھ مل نہیں سکتا، آپ کو مل تو بہت کچھ سکتا ہے لیکن اس کے بدلے میں زندگی بھی تو آپ سے کچھ چاہتی ہے نا! ہم تو صرف خواہش کرتے ہیں یا خواب دیکھتے ہیں لیکن اس کے حصول کے لیے کچھ نہیں کرتے. یہ تو آپ کو وہ ہی دے گی نہ جس کے آپ حقدار ہیں. کوئی بھی کامیابی آپ کو ایسے ہی نہیں مل جاتی جیسے ابھی آپ نے خواب دیکھا، بیدار ہوۓ اور انہی چند لمحوں میں آپ دنیا کے کامیاب ترین انسان بن گیۓ. اس کے لیے ایک عرصہ چاہیۓ ہوتا ہے اور اس کی مدت طویل بھی ہوسکتی ہے اور قلیل بھی. اس بات کا انحصار آپ کی خواہش, محنت و لگن, نیت اور عقیدے پر ہوتا ہے.
اب ہم کرتے کیا ہیں کہ ہم ہر روز ایک نیا خواب دیکھتے ہیں. دوسرے کو بھول جاتے ہیں. ہم چاہتے یہ ہیں کہ ہم سب سے مختلف نظر آئیں اور ہر طرف ہمارے ہی چرچے ہوں. ہر کوئی ہماری ہی واہ واہ کرے اور ہمیں ہی عظیم مانے. اسی چاہنے میں ہی ہماری زندگی ختم ہوجاتی ہے. انہی ادھوری خواہشات اور حسرتوں کے ساتھ ہم اس دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں اور بعد میں ہمارا نام تک نہیں بچتا لیکن ایسا نہیں ہے کہ سب کے ساتھ ہی ایسا ہو. ایسا ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کی سوچ صرف خواب دیکھنے تک ہی محدود ہوتی ہے.
سب سے پہلے تو آپ کو اپنے اندر کے انسان کو جگانا ہے جو کہ سویا ہوا ہے اور اپنا مقصد حیات تلاش کرنا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے جو آپ کرنا چاہ رہے ہوں آپ اس سے اچھا اور بڑھ کر کچھ کر سکتے ہوں. لیکن یہ سب یک دم نہیں ہوگا اور نہ ہی اس طرح کامل (پرفیکٹ) جیسا میں اور آپ چاہتے ہوں. آپ پہلا قدم تو رکھیں دوسرا قدم خودبخوداٹھ جائے گا. ہم پہلا قدم اٹھانے سے ﮈرتے ہیں اور لوگوں کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ کیا کہیں گے. حقیقت یہ ہے کہ کسی کہ پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ اپنے مسائل کو نظر انداز کر کے آپ کے بارے میں سوچتا رہے یا تنقید کا نشانہ بناتا رہے. ہاں یہ بات درست ہے کہ لوگ باتیں کرتے ہیں، دوسروں کی کردار سوزی کرتے ہیں مگر وہ جن کی اپنی کوئی زندگی اور خواہشات نہیں ہوتی.
جو لوگ کامیاب ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے مقصد کو جانا، دوسروں کو نظرانداز کیا اور بس ایک ہی طرف متوجہ رہے. وہ اب خوش ہیں اور پر سکون زندگی بسر کررہے ہیں. غلطی تو آپ کی اور آپ کی سوچ کی ہے کہ آپ خود اپنے آپ کو نظر انداز کرتے ہیں. خود سے زیادہ دوسروں کو اہمیت دیتے ہیں اور خود کو قابل نہیں سمجھتے کہ آپ کچھ کر سکتے ہیں اور یہی آپ کی ناکامی کا سبب ہوتا ہے. آپ سب کچھ کر سکتے ہیں اور کرنے کے اہل بھی ہوتے ہیں. اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنے آپ کو بیدار کریں، اپنی تلاش کریں کہ آپ ہیں کیا؟ اور کیوں؟ اگر آپ نے خود کو جان لیا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ منزل کے بہت قریب ہیں. جن لوگوں کو آج عوامی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہے وہ اتنی آسانی سے نہیں ملی بلکہ اس کے پیچھے ان کی برسوں کی محنت ہے. یہ لوگ اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھے جب تک انہوں نے اپنے مقصد کو نہیں پا لیا. یہ نہ مشکلات سے گھبراۓ اور نہ ہی اپنے آپ کو کمزور ہونے دیا. انہوں نے صبروتحمل سے کام لیا ہر لمحے کا ﮈٹ کےمقابلہ کیا.
آپ بھی آگے بڑھ سکتے ہیں. خوابوں کی تکمیل کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے محنت و لگن اور خود کی تلاش ضروری ہے. اس سے بھی بڑھ کر اس رب کائنات (اللہ) پر کامل یقین اور ایمان، جس نے آپ کو خلق کیا اور اس کائنات کی ہر چیز کو، جس کا آپ سے تعلق ہے چاہے وہ انسان ہو یا حیوان سب کچھ اس نے آپ کے لیے خلق کیا. اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس کی نعمتوں سے کیسے مستفیض ہوتے ہیں, اس نے آپ میں کوئی کمی نہیں رکھی. اس نے تو سب کو برابر دیا ہے اور اس سے مستفید آپ اور میں اپنی مرضی سے ہوتے ہیں. اس لیے کوئی زمین سے عرش تک پہنچ گیا اور کوئی زمین کے قابل بھی نہیں رہا. اس کی دی ہوئی نعمتوں کا استمعال بہترین انداز میں کریں اس پر کامل یقین رکھیں اور اپنی منزل کی طرف قدم بڑھایئں. کامیابی خود آپ کے پاس چل کرآئے گی.
یہاں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی کہ گاڑی, بنگلہ اور عیش و عشرت، کوئی خواب یا مقصد حیات نہیں کہ جس کو حاصل کر لینے کے بعد آپ کامیاب ہوجائیں گے. یہ تو ہوس ہے جس کے مل جانے کے بعد بھی پرسکون نہیں ہوتے بلکہ اور بےچین ہوجاتے ہیں مزید کی خواہش میں. خواب تو وہ ہے جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرے. آپ کی وجہ سے دوسروں کی زندگی میں تبدیلی آۓ. آپ کی اپنی ایک پہچان ہو اور آپ کے اس جہاں سے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں آپ زندہ رہیں……اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو- (آمین)