عمران خان کی قیادت کی حامل سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف مبینہ طور پر یورپی ملک سویڈن کے طرز پر شفاف حکمرانی کی پیروی کا ارادہ رکھتی ہے. سویڈن، جس کا یورپی یونین کے ممالک میں سب سے کم قرض، کم اور مستحکم افراط زر اور پائیدار بینکنگ کا نظام ہے. یہ تحقیق جنگ گروپ اور جیو ٹیلی وژن نیٹ ورک کی جانب سے پیش کی گئی ہے.
سویڈن کے بارے میں کچھ اہم آبادیاتی اور اقتصادی حقائق یہ ہیں:
450،295 مربع کلومیٹر پر محیط سویڈن رقبے کے لحاظ سے یورپی یونین کا تیسرا بڑا ملک ہے. جس کی کُل آبادی 10.2 ملین ہے. ان میں سے 2.4 ملین ان لوگوں کی تعداد ہے جو غیر ملکی پس منظر رکھتے ہیں. اکنامکس کو آپریشن اینڈ ڈیولیپمنٹ (او. ای. سی. ڈی) کے مطابق صرف %30.7 سویڈش باشندے شہری علاقوں میں رہتے ہیں. سویڈن کا مجموعی جی. ڈی. پی (مجموعی ملکی پیداوار) 601بلین ڈالر سے زائد ہےجو کہ پاکستان سے دوگنا ہے!
سویڈن کی نامزد فی کس جی. ڈی. پی 58،345 ڈالرہے. سویڈن دنیا میں 32 ویں بڑی برآمداتی معیشت والا ملک ہے. 2016 میں سویڈن کی برآمدات133 بلین ڈالراور درآمدات 131 بلین ڈالر تھی. جس کے نتیجے میں مثبت تجارتی توازن 2.39 بلین ڈالررہا.
2016 میں سویڈن کا ٹیکس اور جی. ڈی. پی کا تناسب %44.1 تھا جبکہ 36 رکنی او. ای. سی. ڈی کا اوسط %34.3 تھا. اس کے مقابلے میں پاکستان کا مہیب تناسب %12.5 تھا.
سویڈن کی قابل رشک کامیابی کا راستہ:
سویڈن کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ملک کی معیشت کو پست پیداواراور افراط زر کا سامنا رہا کرتا تھا اورسویڈش کرونا کو بار بار تخفیف زر کا مسئلہ رہتا تھا. 1990 کے اوائل میں سویڈن کو ایک عمیق بحران کا سامنا رہا. بینک غیر مستحکم ہوگئےاور دو بینک قومی تحویل میں چلے گئے. بیروزگاری میں اضافہ ہوگیا اور حکومتی اخراجات اور ملکی قرض دونوں حد سے تجاوز کرگئے. سویڈن کے لیے استحکام اور کامیابی کے راستے آسان نہیں تھے مگر سویڈن نے اختراعی اور دلیرانہ اصلاحات پر عمل کر کے اور ان سے منسلک رہتے ہوئے اپنے معاشی انتظام کو تبدیل کیا اورآنے والے عالمی کساد بازاری کے سامنے مضبوطی سے جمے رہے.
1990 کے بحران کے بعد ہر آنے والی سویڈن کی حکومت نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک ملکی بجٹ کو توازن میں رکھا اور یہ 2007- 2008 کے عالمی مالیاتی بحران تک جاری رہا. سویڈن نے اپنے معاشی انتظام کی جدید ضابطوں کے مطابق ازسرنو تشکیل کی. سب سے پہلے 1996 میں سرکاری اخراجات کی ایک حد متعارف کرائی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ بجٹ میں بیشی (سرپلس) کا ہدف قائم کیا. ان اصلاحات کی سویڈن کے سارے سیاسی نظریات نے بھرپور حمایت کی اور اس امر کو یقینی بنایا کہ ملکی قرض میں اضافہ نہ ہو اور یہ کہ وہ آنے والی نسلوں تک منتقل نہ ہو.
علاوہ ازیں، 2007 میں سویڈن کی مالیاتی پالیسی کونسل (سویڈش فسکل پالیسی کونسل) قائم کی گئی جس کے آڈیٹر حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں پر نظر رکھتے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں ترقی، ملازمت اور طویل المدتی مالی استحکام اہداف کے مطابق رہیں.
سویڈن کی حکومت نے جس طرح سے عوامی سرمایہ کاری کو منظم کیا اس کی وجہ سے سویڈن یورپ کے مالی طور پر ذمہ دار ممالک میں سرفہرست ہے. کچھ حکومتیں جن کا بڑا بجٹ خسارہ ہوتا ہے وہ ٹیکس بڑھا کر اور عوامی اخراجات کم کر کے بچت کرتی ہیں جبکہ حکومت سویڈن نے اپنے آپ کو ان مشکلات سے دور رکھا ہے. درحقیقت سویڈن میں ٹیکس میں کمی آئی ہے جب سے بحران شروع ہوا ہے. سویڈن نے صحت عامہ، تعلیم اور تحقیق میں اپنی سرمایہ کاری جاری رکھی بجائے اس کے کہ ان میں کمی کرتا جیسے بعض یورپی ممالک نے کی.
تحقیق کے مطابق سویڈن کی پارلیمانی جمہوریت تین سطحوں پر مشتمل ہے قومی، علاقائی اور مقامی (نیشنل، ریجنل اور لوکل) تقریبا 7 ملین افراد اس اسکینڈینیویائی ملک میں ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کرتے ہیں جہاں ہزاروں جزائر اور جھیلیں ،شمالی جنگلات اور گلیشیئرز سے گھرے پہاڑ ہیں. سویڈن میں پارلیمانی، میونسپل اور مقامی انتخابات ہر چار سال کے بعد ہوتے ہیں جن میں ووٹران لوگوں کو منتخب کرتے ہیں جو فیصلہ کرتے ہیں کہ کیسے سویڈن کا حکومتی اور انتظامی نظام چلے.
نیشنل سطح (نیشنل):
قومی سطح پر رکس ڈاگ (سویڈن کی پارلیمنٹ) عوام کی نمائندگی کرتی ہے جس کے پاس قانون سازی کا اختیار ہوتا ہے. حکومت نئے قوانین کی تجاویز پیش کرتی ہے اور رکس ڈاگ (پارلیمنٹ) میں کیے گئے فیصلوں کی تکمیل کرتی ہے. حکومت کی معاونت سرکاری دفاتر کرتے ہیں جن میں کئی وزارتیں ہیں اور 400 مرکزی حکومت کی ایجنسیاں اور پبلک ایڈمنسٹریشن ہیں.
سویڈن کی سیاست پر اثرانداز ہونے کے کئی طریقے ہیں. مثال کے طور پر ریفرنڈم میں حصہ لیکر، سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرکےاور حکومت کی پیش کردہ رپورٹ پر تبصرہ یا رائے دیکر.
علاقائی سطح (ریجنل):
سویڈن 21 کاونٹیز(ضلعوں) میں بٹا ہوا ہے . ہر کاونٹی کی اپنی کونسل ہےجو اپنے فیصلے خود لیتے ہیں. اس کونسل میں جو لوگ بیٹھتے ہیں ان کو عوام چنتی ہے. کچھ عوامی ااتھاریٹی کاؤنٹی کے تحت علاقائی اور مقامی امور کی انجام دہی کرتے ہیں.
مقامی سطح (لوکل):
سویڈن میں 290 میونسپلٹیاں ہیں. ہر میونسپلٹی کی چنی ہوئی اسمبلی ہے، میونیسپل کونسل، جو میونسپل کے معاملات دیکھتی ہے. یہ میونسپل کونسل میونسپل ایگزیکٹو بورڈ مقرر کرتی ہے جو میونسپلٹی کے امور کی قیادت اور اس میں تعاون کرتا ہے.
آئین (کونسٹیٹئوشن):
سویڈن کے بنیادی دفعات میں وضاحت کی گئی ہے کہ حکومت کو کس طرح آئین کے مطابق چلنا ہے اور کس طرح فیصلہ کرنے والے اور اعلی قیادت (ایگزیکٹوپاور) کو ایک دوسرے سے منسلک رکھنا ہے. آئین کی رو سے عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی معلومات حاصل کرسکتے ہیں، مظاہرے کرسکتے ہیں، سیاسی پارٹی بنا سکتے ہیں اور کسی بھی مذہب کی پیروی کرسکتے ہیں.
آزادی پریس ایکٹ:
ان بنیادی قوانین میں یہ بھی درج ہے کہ عوام ان پارلمانی امور سے متعلق سرکاری دستاویزات تک دسترس رکھ سکتے ہیں اور جب چاہیں ان کو دیکھ سکتے ہیں. یہ اس لیے ہے تاکہ عوام سے کچھ بھی چھپا نہ رہ سکے.
1992 میں سویڈن کی مقامی (لوکل) حکومتی ایکٹ کے تحت منتخب نمائندوں، میونسپل کونسل اور بورڈ کے لیے نئے قوانین لکھے گئے . پہلے پارلیمان (رکس ڈاگ) زیادہ تر فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میونسپلٹی کو زیادہ ذمہ داریاں دے دی گئیں. یہ فیصلہ جمہوریت کی خاطر کیا گیا. میونسپلٹی کے لیے زیادہ آسان ہے کہ وہ عوام کو شامل کرسکیں بہ نسبت رکس ڈاگ یا پارلیمان کے. حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ذمے پارلیمان اور میونسپلٹی کے امور کی جانچ کرنا ہے کہ آیا یہ اپنا کام صحیح طور پر کررہے ہیں. ایسی ہی ایک کمیٹی یورپی یونین میں بھی ہے جس کی اہمیت سویڈن کے یورپی یونین کے ممبر بننے سے بڑھ گئی ہے.
یورپی سطح :
1995 میں سویڈن نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی. بحیثیت رکن سویڈن یورپی یونین کے فیصلوں میں حصہ لے سکتا ہے. سویڈن کی حکومت یورپی یونین کی وزارتی کونسل (کونسل آف منسٹر) میں ہے جو کہ یورپی یونین کی سب سے اہم فیصلے کرنے والی کمیٹی ہے.