190

حوصلے حوادث کی ٹھوکروں میں پلتے ہیں

آج پرانے کاغذات دیکھ رہا تھا تو میرے استادِ محترم جناب بدرِعالم طیبی صاحب کی ہاتھ سے لکھی نظم مجھے ملی، یہ انہوں نے مجھے 1996 میں کاٹھمنڈو نیپال میں دی تھی. یہ میں اردو قاصد کے قارئیں کی نظر کر رہا ہوں.
————————-

گر کے پھر سے اُٹھتے ہیں اُٹھ کے پھر سے چلتے ہیں
حوصلے حوادث کی ٹھوکروں میں پلتے ہیں

❉❉❉❉❉

منزلیں کسی کے گھر حاضری نہیں دیتیں
راستوں میں چلنے سے راستے نکلتے ہیں

❉❉❉❉❉

غفلتِ زمانہ کو انقلاب کہتے ہو
سونے والے سوتے ہیں کروٹیں بدلتے ہیں

❉❉❉❉❉

رخصتِ جوانی پر مستیوں کو ہوش آیا
پاوں ٹوٹ جاتے ہیں تب قدم سنبھلتے ہیں

❉❉❉❉❉

جن کا خون پی پی کر اُڑ رہے ہیں طیارے
تھام تھام کر انگلی پاوں پاوں چلتے ہیں

❉❉❉❉❉

آسماں شکاروں کو آئینہ نہ دکھلاو
ہم تو چاند ہی لیں گے یوں کہاں بہلتے ہیں

❉❉❉❉❉

ظلم ہے مگر ایسے ظلم کی سزا کیا ہے
کھیل کھیل میں‌بچے تتلیاں مسلتے ہیں

❉❉❉❉❉

تھا تو تھا کنارے پر اختلاف کا موسم
ہم تو بیچ دھارے میں کشتیاں بدلتے ہیں

❉❉❉❉❉

رکھ کے چل ہتھیلی پر دیپ کی طرح سر بھی
ظلمتوں کے سوداگر روشنی سے جلتے ہیں

❉❉❉❉❉

یہ بتا ترا جذبہ کتنا ذی حرارت ہے
موم و شیشہء و آہن سب کے سب پکھلتے ہیں

❉❉❉❉❉

عمر بھر دوا ڈھونڈو عمر بھر دعا مانگو
آدمی کے غم اکثر جان لے کے ٹلتے ہیں

(بانگِ درا سے نقل)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں