530

حقیقی معذور کون؟

میں میٹرو پلیٹ فارم پرپہچا ۔ ٹرین 3 منٹ میں آنے والی تھی اور اسی دوران میری نظر پلیٹ فارم پر لگے ایک بڑے سے اشتہار پر رُک گئی۔ ایک اُدھیڑ عمر خاتون وہیل چیئر پر بیٹھی تھی اور اس کے ہاتھ میں ٹیبل ٹینس ریک تھا۔ یہ سویڈش وہیل چیئر کھلاڑی اور پیرا اولمپک چیمپئن اناکارین اہل کوسٹ تھیں۔

جو پیرا اولمپک میں اس سال حصہ لے رہی تھیں۔ اس اشتہار نے مجھے کافی متاثر کیا اور مجھے اندازہ ہوگیا کہ معذوری، جسم کا ادھورا ہونا نہیں ہے بلکہ پورے اعضاء کے ساتھ بے مقصد زندگی گزارنا ہی حقیقی معذوری ہے۔اس کی ایک مثال سٹیفن ہاکنگ ہیں۔ سائنس کی دنیا کا ایک بڑا نام سٹیفن ہاکنگ آج دنیا سے رخصت ہوگئے ۔سٹیفن ہاکنگ کی فقط ایک ہی ہلتی انگلی سے سائنس، فلسفے و منطق کے بہتے چشمے اس بات کا ثبوت ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا کی پندرہ فیصد آبادی مختلف اقسام کی معذوری کا شکار ہے اورسویڈن میں 1.5 ملین افراد مختلف قسم کی معذوری میں مبتلا ہیں ۔ سویڈش حکومت کی ترجیح اور معذوری کی پالیسی کا مقصد بھی یہی ہے کہ معذور افراد کو معاشرے میں برابر کے حقوق ملیں اور ہر شعبہ میں ان افراد کو حصہ لینے کا موقع فراہم کیا جائے۔ یوں تو اگر آپ سویڈن میں رہتے ہیں یا یہاں آنے کا اتفاق ہوا ہے تو آپ معذورں کے لیےخصوصی سہولیات سے واقف ہوں گے۔ اس پالیسی میں تقریبا 10 شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں سے 3 پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انصاف کا نظام، نقل و حمل اور آئی ٹی۔

سویڈن کی عدالتیں اس بات کااحساس دلاتی ہیں کہ انصاف کا نظام عوام کے لیے ہے اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔معذور افراد کے حوالے سے تمام اہلکار اپنی کاروائیوں کو ان کے نقطہء نظر سے تجزیہ کرتے ہیں۔ میری اہلیہ کو کچھ عرصہ سویڈن کی کورٹ میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ان کے تعریفی مواد میں ایک ویڈیو بھی شامل تھی جس کا ذکر انہوں نے مجھ سے کیا ۔

ویڈیو کا مرکزی خیال: معذور افراد کی دنیا

تصور کیجئے کہ آپ ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں تمام لوگ وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں۔ لفٹ کے بٹن ، دروازے کی گھنٹی کا بٹن نیچے کی طرف موجود ہیں۔ عام سیڑھیوں کی جگہ ڈھال یا چڑھائیاں ہوں، ٹرین، بس، گھر، دفاتر سب کی چھتیں نیچے ہوں۔ سوچیں جو لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں ان کے لیے یہ دنیاکیسی ہوگی۔

ایسا ہی ایک شخص معمول کی زندگی گزارنے کے لیے نوکری کی غرض سے انٹرویو دینے جاتا ہے اور جیسے ہی وہ دفتر کے کمرے میں داخل ہوتا ہے تو سوائے ایک میز اور دوسری طرف موجود شخص کے (جو کہ وہیل چیئر پر بیٹھا تھا اور باس بھی تھا ) کچھ نہیں پاتا ۔ یہاں تک کے اس کے بیٹھنے کے لئے بھی کوئی کُرسی اس کمرے میں موجود نہیں ہوتی۔

اس سے پہلے کہ وہ اپنے بیٹھنے کے لئے کُرسی دیئے جانے کی درخواست کرتا ، سامنے بیٹھے باس نے کہا کہ تم اپنی کرسی اپنے ساتھ کیوں نہیں لائے؟ مجھے افسوس ہے اب تمہیں یہ انٹرویو کھڑے کھڑے ہی دینا پڑےگا۔

باس نے اس شخص سے پوچھا کہ تمہیں کیا لگتا ہے، کیا تم یہاں کام کر سکتے ہو ۔ جیسا کہ تم دیکھ سکتے ہو یہاں سب کچھ ہمارے مطابق ہے یہاں تمام لوگ وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں اور تم ہم سے مختلف ہو اور صرف تمہارے لئے یہاں کوئی بھی تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

اُس شخص نے یقین دلایا کہ وہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاسکے گا اور اس طرح اس کو نوکری مل گئی۔

چند دن بعد اُس شخص کیلئے اس ماحول میں کام کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ تمام چیزیں نچلی سطح پر ہونے کی وجہ سے اُسے بار بار جھکنا پڑتا تھا جس کی وجہ سے اس کی کمر میں درد شروع ہوگیا تھا۔ چوکہٹوں سے سر ٹکرانے کی وجہ سے ماتھے پر نیل پڑ گئے تھے اس لیے کمپنی نے اس کو ایک ہیلمٹ فراہم کیا وہ دفتر میں ہیلمٹ پہنے گھومتا تھا اسے اپنی کُرسی ساتھ ساتھ اُٹھائے پھرنا پڑ رہا تھا۔ مختصر یہ کہ اس ماحول میں یہ شخص غیر فعال ثابت ہو رہا تھا جبکہ باقی تمام لوگ معمول کے مطابق بغیر کسی مشکل کے اپنا کام کر رہے تھے کیونکہ تمام سہولیات ان کے حساب سے تھیں۔

ہمارے مطابق بنائی گئی اس دنیا میں بالکل ایسا ہی محسوس کرتے ہیں معذور افراد ۔ ہمیں ایک بار اپنے آپ کو ان کی جگہ رکھ کر سوچنا چاہیے تب ہی ہم معذور افراد کے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔ بہتر منصوبہ بندی ان افراد کو معمول کے مطابق زندگی گزارنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل میرے ایک دوست نے بہت شوق سے پاکستانی ریسٹورانٹ کھولنے کا ارادہ کیا اور نئی تعمیر ہوئی عمارت کے نیچے ریسٹورانٹ کی تعمیر شروع کردی ۔ جلد ہی تمام انتظامات مکمل ہوگئے تھے اس کے باوجود ریسٹورانٹ کا افتتاح مقررہ دن پر نہ ہوسکا اور تاخیر ہوتی رہی۔ جب میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ سویڈش قانون کے مطابق نئی تعمیر ہونے والی عمارات میں اگر عوام کے لیے بیت الخلا ء کا انتظام کیا جاتا ہے تو اس میں معذور افراد کے لیے سہولیات موجود ہونا لازمی ہے، جس کا انہوں نے خیال نہیں رکھا تھا۔

یہ ہے وہ سوچ جس کی وجہ سے سویڈن کا معاشرہ قابل احترام ہےجہاں معذور افراد اپنے پورے انسانی حقوق کے ساتھ جی رہے ہیں اور جس کی ضمانت ان کا قانون دے رہا ہے۔

نقل و حمل کے نظام کی بات کی جائے توسویڈن میں خاص طور پر معذور افراد کے لیے تمام سواریوں ، ٹرین ، بس، میٹرو، ٹیکسی گاڑیو ں میں خصوصی انتظام موجود ہے جس سے ان کے نقل و حمل کا عمل آسان اور یقینی بنایا جاتا ہے۔تمام شہریوں کی طرح انہیں بھی کام، تعلیم اور معاشرے کی تمام تر سرگرمیوں میں حصہ لینے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود سویڈش حکومت نے ملک کے بلدیاتی اداروں کو مزید سہولیات جیسے بس اور ٹرام سٹاپ اور ان تک آسان رسائی کے لیے اقدامات شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹیشن ایکٹ کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے۔ سویڈن کی حکومت مکمل سنجیدگی سے اس مسئلے پر کام کر تی رہتی ہے۔

سویڈن میں سماجی فلاح و بہبود سب کے لیے یکساں ہیں لیکن معذور افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خصوصی مراعات کے پروگرام تشکیل دیئے گئے ہیں۔ یہاں تک کے معذور افراد اپنے رہائش گاہ میں ترمیم کے لیے میونسپل فنڈ بھی لے سکتے ہیں۔ خصوصی سہولت کے حامل افراد اس فنڈ کے ذریعے سے دروازے کے سامنے کی سیڑھیاں کی جگہ ڈھلوان یا خود کار دروازے کی سہولت یا مخصوص لفٹ وغیرہ بنواسکتے ہیں۔یہ فنڈ تمام طرح کی معذوری کے شکار افراد کے لیے مخصص ہے ۔

اگر پھر بھی ان افراد کو دشواری کا سامنا کرنا پڑے تو حکومت کی جانب سے مشترکہ رہائش کی سہولت بھی موجود ہے جہاں چوبیس گھنٹے معاون موجود ہوتے ہیں یا اپنی ہی رہائش پر کسی بھی وقتِ ضرورت معاون کو بلانے کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔

معذور یا طویل بیماری سے دوچار بچوں کو خاص توجہ کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ان کے اضافی اخراجات بھی ہوتے ہیں ۔ ایسے بچوں کے لیے حکومت نے خصوصی امداد کی سہولت دے رکھی ہے جس کی وجہ سے سویڈن میں اس طرح کے بچوں کی پیدائش کے فوراًبعد سے لے کر 19 سال کی عمر تک والدین کو بچے کی مکمل دیکھ بھال کے لیے ماہانہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔

اسلام نے ہمیں معذور ، مجبور و لاچار افراد کی کفالت کو جو درس دیا ہے اس کا عملی مظاہرہ ہمیں یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ کبھی آپ نے جائزہ لیا ہے کہ کثیر رقم سے تعمیر کی جانے والی مساجد جس میں بہترین سنگ مرر، فانوس اور قالین وغیرہ اعلیٰ معیار کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن معذور افراد کے لیے مسجد میں داخل ہونے تک کے لیے کوئی سہولت نہیں ہوتی ، خدا کے گھر میں داخلے کا حق بھی ہم نے ان افراد سے چھین لیا ہے۔ سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں مسلمانوں کی سب سے بڑی مسجد کی کچھ تصاویر دیکھئے کیسے داخلی دروازے سے لے کر پوری مسجد میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ ضعیف اور معذور افراد کو کوئی پریشانی نہ ہو۔

اسٹاک ہوم میں پاکستانیوں کی بھی مسجد ہے ۔ زیادہ تر نمازیوں کی کوشش ہوتی ہے کہ جمعہ مبارک تو اس مسجد میں ادا ہو جہاں اپنی زبان میں واعظ ہو اسی بہانے اپنے بھائیوں سے ملنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔ لیکن یہ موقع بھی صرف ان کے لیے ہے جنہیں کوئی جسمانی معذوری نہ ہوکیونکہ اس مسجد میں داخل ہوتے ہیں کافی سیڑھیاں اُترنی پڑتی ہیں اور معذور لوگوں کے لیے کوئی سہولت موجود ہی نہیں ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ جس ملک میں معذور لوگوں کو اتنی مراعات اور سہولتیں دی جاتی ہوں وہاں مسجد انتظامیہ نے آج تک اس کے لیے کوئی حل کیوں نہیں نکالا یا عین ممکن ہے کہ انتظامیہ کی نظر میں یہ معاملہ اہمیت کا حامل ہی نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں