رپورٹ شہاب قادری، تصاویر نوید عباس میمن: پاکستان ایک ایسا مقدس مشن اور رومانوی خواب ہے جو امت مسلمہ کی نشاتہ ثانیہ کے لئے وجود میں آیا 14 اگست 1947 کو قائم ہونے والا یہ ملک آج 70 سال کا ہوگیا ہے۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی حسبی میلہ کمیٹی کی جانب سے پاکستان کی ٧٠ ویں سالگرہ کی مناسبت سے میلے کا انعقاد کیا گیا جس میں اسٹاک ہوم اور گردونواح کے دوسرے شہروں سے آئے ہوئے پاکستانیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن سے ہوا جس کے بعد پاکستان کا قومی ترانہ پیش کیا گیا نظامت کے فرائض افضل فاروقی اور معاونت سائرہ نوید، سہیل صفدر ،محسن سلیمی ، محمد فاروق نے انجام دیتے ہوئے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔

میلے کو رنگا رنگ اور دلچسپ پروگراموں سے بھی سجایا گیا تھا جس میں بچوں کی مصوری، میوزیکل چیئر، خواتین کے لئے مہندی ،فیملی کرکٹ اور رسہ کشی کے مقابلے شامل تھے

اس رنگا رنگ شام کی خاص بات پاکستان سے تشریف لائے ہوئے اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب اور سٹاک ہوم میں مقیم ڈاکٹر نظیر احمد کی شرکت تھی ۔
ڈاکٹر نظیر احمد نے قیام پاکستان کے وقت کی خوبصورت یادوں کو بتاتے ہوئے حاضرین سے کہا کہ پاکستان بنانے میں ہمارے آباؤ اجداد نے کن کن مشکلات کا سامنا کیا اور کتنی قربانیاں دی تب جاکہ ہمیں یہ ملک حاصل ہوا

بانی اخوت ڈاکٹر امجد ثاقب نے سفر اخوت کا ذکر کرتے ہوے بتایا کہ کس طرح سے یہ سفر ایک چھوٹی سے نیکی سے شروع ہوکر آج پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور لاکھوں لوگ اس نیکی کے سفر کا حصہ بن چکے ہیں ساتھ ہی ساتھ انھوں نے اپنی نئی کاوش اخوت یونیورسٹی کے قیام اور اس کی تعمیر میں شامل ہوکر اپنے حصے کی نیکی کرنے کی اپیل بھی کی۔

اپنے ساتھ لائی ہوئی پاکستانی کرکٹ ہیروز کی استعمال کی ہوئی چیزوں کی نیلامی کا بھی اعلان بھی کیا اور کہا کہ یہ تمام رقم اخوت یونیورسٹی کی تعمیر میں خرچ کی جائے گی.

دبئی سے سیروسیاحت کی غرض سے آئے ہوئے میجر ندیم نے اردو قاصد سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مقامی ریستوران میں لگے ہوئے ایک اشتہار سے انہیں اس میلے کا پتہ چلا تو انکی فیملی نے آنے کا ارادہ کیا اور بہت خوش ہیں کہ یہاں آکے انہیں بہت مزہ آیا اور ثقلین مشطاق اور سعید اجمل کی دستخط کی ہوئی بال جیتنے اور اخوت کی اس نیکی میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع ملا ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان جناب طارق ضمیر نے تمام حاضرین کو پاکستان کی ٧٠ ویں سالگرہ کی مبارک باد دی اور کہا کے ہمیں الله تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چائیے کہ ہمیں پاکستان جیسی نعمت سے نوازہ گیا جہاں پر ہم آزادی سے سانس لے سکتے ہیں دنیا میں بہت سے ممالک ہیں جو کہنے کو تو آزاد ہیں پر وہاں مسلمانوں کی جو حالت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ہمیں اپنے ملک کی حفاظت اور ترقی کے لیے دعا کرنی چاہیئے۔ سویڈن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سب سے اچھی ہے اور میں خوش ہوں کہ میں اس کا حصہ ہوں آخر میں انھوں نے میلہ کمیٹی کے ممبران جس میں آصف بٹ ،زمان خان ،علی لاشاری ،عامر ندیم اور چودھری رحمت سرفہرست ہیں کو اتنا اچھا میلہ منعقد کروانے پر مبارک باد دی اور مختلف مقابلوں میں جیتنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کیے۔

میلے کی شام کو اور رنگین بنانے کے لئے محفل موسیقی کا بھی انتظام کیا گیا تھا جس میں مہسم سعید اور رجب علی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔

روایتی کھانوں کے اسٹال نے میلے کی رونق کو اور بھی دوبالا کردیا اس طرح سے ٧٠ سالہ جشن کی یہ خوبصورت شام اپنے اختتام کو پہنچی۔
پاکستان میلے کی تصاویر اور مکمل ویڈیو جلد پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائٹی کے فیس بک پیج پر جاری کی جائے گی.