360

جید عالم، عبادت گزار اور صاحب کرامت بزرگ

اسلام کا یہ معجزہ ہے کہ اس کا چشمہ کبھی خشک نہیں ہوتا. اس کی صداقت کا اس سے زیادہ کیا ثبوت ہوگا کہ ہر زمانے میں ایسے انسان پیدا ہوتے رہے ہیں جن کے دم سے اسلام کی روشنی کبھی مانند نہیں پری. رہبرِشریعت، رہمنائے معرفت، روشن ضمیر، شیخ المشائخ حضرت خواجہ عبدالشکور ملنگ باباٌ بڑے باکمال عالمِ دین اور صاحب کرامت بزرگ تھے جن کے چراغ سے آج بھی خلقِ خدا فیضیاب ہورہی ہے. آپ کا نسبی تعلق یوسف زئی قیلے کے باعمل سخی اور بزرگ خاندان سے ہے آپ کے جدااعلیٰ حضرت گل غزائی (افغانستان) کے جید عالم فقیہہ اور نہایت باعزت بزرگ تھے. جداعلیٰ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آپ کے اہل وعیال نے بھی سخاوت، علمیت اور بزرگی کو اپنا شعار بنائے رکھا. حضور باب جی ملنگ اسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے.
ابتدائی دینی تعلیم فارسی اور عربی اپنے گھر میں اپنے والد صاحب اور اس وقت کے مشہور اور مستند استادوں سے حاصل کی پھر دارالعلوم چارسدہ سے فارغ التحصیل ہوئے. طالب علمی کے زمانے میں ہی روحانی کیفیات کا اظہار ہونے لاگا تھا لہٰذا عرفانِ حق کی تلاش میں دہلی اور پھر اجمیر شریف کا سفر کیا. اس کے بعد سرزمینِ شام، حجاز، یمن، بحرین اور پھر فلسطین میں بیت المقدس، وادیء انبیاّ، بی بی حضرت مریمّ، سیدنا حضرت داودّ اور سیدنا سلیمانّ کے مقامات کیی زیارت کی.
1935ء میں دہلی میں حضرت علی ابدال چشتیٌ کے دستِ حق پر بیعت کی اور ان کے حکم سے رشدوہداہت کا سلسلہ جاری کیا. اجمیر شریف کے کلکتہ کے سفر کے دوران آپ کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا حضرت ملنگ باباٌ کہیں جارہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک چار منزلہ عمارت سے کسی نے کھانا نیچے پھینکا ہے، اتنے میں ایک بظاہر فقیر آدمی آئے اور کرید کرید کر کوڑے سے آلو اور چاول کھانے لگے، ملنگ باباٌ کو یہ سب دیکھ کر محسوس ہوا کہ یہ مجذوب ہیں آپ اس مجذوب کو دیکھنے لگے. مجذوب صاحب نے ملنگ بابا کو اپنے ہاتھ سے چار آلو دیے جو باب جی نے کھا لیے مجذوب صاحب نے مسکرا کر دیکھا اور فرمایا ‘تیرے دل کی مراد بڑی اونچی ہے صبر سے کام لیگا تو پا لیگا’ یہ فرما کر ملنگ باب کو جانے کی اجازت دی. بابا جی واپس اپنے سفر پر روانہ ہوگئے. کلکتہ میں دو ماہ قیام کے بعد ملنگ بابا اجمیر شریف واپس آگئے اور حسبِ معمول تلاوتِ کلام پاک، نماز اور نوافل میں مشغول ہوگئے ساتھ ساتھ درگاہ کی خدمت یعنی جاروب کشی، صفائی اور زائرین کو پانی پلانا بھی جاری رہا.
ایک رات آپ نے کواب میں حضرت خواجہ غریب نواز کو دیکھا جنہوں نے فرمایا: ‘تم ایک جگہ بیٹھ جاو ہم تمہیں کچھ دیں گے’ ملنگ بابا نے عرض کی ‘حضور میں تو پڑھنے کے لیے آیا ہوں’ جواب ملا ‘ہم تمہیں کچھ دیں گے تو تمہاری پڑھائی کی بھی تکمیل ہوجائے گی.’ یہ بات دل کو لگی اور ملنگ بابانے دوبارہ نہایت خلوص کے ساتھ نماز، کلام پاک کی تلاوت اور دربار کے زائرین کی خدمت شروع کردی. قلندر اپنی عبادت اور نیکی کو پردہء اخلاص میں چھپاتا ہے مجاہدۃ شدید سے حقائق تک رسائی حاصل کرتا ہے. ایسی لذت سے سرشار ہوتا ہے جس کی شرح زبان و بیان سے نہیں ہوسکتی. قلندر ملنگ بابا میں قلندری شان و جلال اس قدر زیادہ تھا کہ لوگوں کی زبانیں آپ کے سامنے ساکت ہو جایا کرتی تھیں اور آپ ان کے قلب کو پڑھ لیا کرتے تھے. حضرت عبدالشکور ملنگ بابا کا طریقہ زندگی فقیرانہ تھا. آپ ہر وقت پیلا جوگیا چوغہ زیب تن فرماتے تھے بال رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں پٹے دار رکھتے تھے. محفل سماع چوں کہ چشتیہ سلسلے میں بڑی وجدواہمیت کی حامل ہے لہٰذا روح پرور محافل کو بڑی وجدوکیف کی کیفیت میں سماعت فرماتے. اللہ کے بزرگیدہ بندوں کی پہچان ان کا خوف حیشئیت ہے حضرت ملنگ بابا 24 گھنٹے یادِ الہٰی میں‌مصروف رہتے تھے.
عبدالشکور ملنگ باباٌ اپنے وقت کے کامل ولی بزرگ تھے جن کی زندگی عشقِ رسوالْ وتلاش حق میں گزری. آپ کے دستِ حق پر لاکھوں لوگوں نے اسلام قبول کیا. جن میں زیادہ تعداد ہندووں کی ہے اور لاکھوں کی تعداد میں آپ کے مرید موجود ہیں جوکہ پاکستان کے علاوہ غیر ممالک میں بھی ہیں. کویت، افیقا، ہندوستان، بنگلہ دیش، امریکا، برطانیہ، نوروے، ڈنمارک، فن لینڈ اور سویڈن میں کثیر تعداد میں آپ کے مرید موجود ہیں.
عبدالشکور ملنگ باباٌ اپنی زندگی ہی میں اپنے بڑے صاحبزادے محمد مستعار خان کو خلافت اور سجادگی سے نواز دیا تھا. جو صحیح معنی میں قلندر کی نیابت کے اہل بھی ہیں آج کل آپ ہی سے رشد وہدایت کا سلسلہ جاری ہے. آستانہء عالیہ ملیر ہالٹ اور حیدرآباد کالونی میں ہے. لوگ جوق درجوق آتے ہیں فیضیاب ہوتے ہیں. خواجہ عبدالشکور ملنگ باباٌ کی زندگی کے واقعات و کرامات اس قدر زیادہ ہیں جنہیں بیان کرنے کے لیے کئی ماہ درکار ہوں گے. حضرت خواجہ عبدالشکور ملنگ باباٌ نے 21 اکتوبر 1976ء بمطابق شوال المکرم 1396ھ بروز بدھ بوقت 9 بجے احاطہء درگاہ حضرت سبز پیر بخاریٌ بیرون قلعہ بالاحصار پشاور، داعئی اجل کو لبیک کہا. جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں مزارِ مبارک بیرون قلعہ قلعہ بالاحصار، متصل درگاہ حضرت پیر بخاریٌ پشاور سے چمکنی منتقل کیا گیا. جہاں ہر سال 4، 5، 6، شوال کو نہایت تزک و احتشام کے ساتھ عرس مبارک منایا جاتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جید عالم، عبادت گزار اور صاحب کرامت بزرگ“ ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں