Notice: Undefined index: geoplugin_countryName in /customers/5/8/f/urduqasid.se/httpd.www/wp-content/plugins/stylo-core/stylo-core.php on line 96
126

جنرل ڈائر اور بلوچ جنگجو خاتون

وہ بڑی دلیر خاتون تھی. کوئی اس کے سامنے آنکھ ملا کر نہیں بول سکتا تھا۔۔ گل بی بی نے انگریزی سرکار کے خلاف ہتھیار اٹھایا تھا۔ جنرل ڈائر نے بلوچستان کے تمام پھنے خانوں کو گل بی بی کے زندہ یا مردہ پکڑنے کی لئے اس وقت ہزار روپے تک انعامات کا لالچ دیا مگراس خاتون نے کسی کو بھی اپنے قریب آنے نہیں دیا۔۔ جنرل ڈائر نے بڑے بڑے سورماؤں کو چت کیا تھا مگر اس خاتون نے جنرل ڈائر کی ہواؤں کو بھی اپنے قریب آنے نہیں دیا۔
1916 کا سال تھا جب انگریزوں کا طوطی سر اٹھا کے ہر جگہ بولتا تھا مگر بلوچستان میں ان کا طوطی بالکل خاموش تماشائی بن کر کھڑا تھا. گل بی بی بلوچستان کی ایک بہادر کمانڈر تھی۔ وہ مغربی بلوچستان سے تعلق رکھتی تھی. اس کا تعلق خاش شہر سے تھا۔ خاش شہر انگریزی سرکار کے لیے غیر ممنوعہ علاقہ تھا. خاش کو آج کل ایرانی بلوچستان بھی کہا جاتا ہے۔ خاش شہر میں دو قبائل آباد تھے یاراحمد زئی اور گمشاد زئی، دونوں قبائل جنگجو قبائل میں شامل ہوتے تھے۔ ان قبائل نے انگریزی سرکار کے خلاف قدم سے قدم ملا کر جنگ کی تھی۔ ان قبائل کے کچھ لوگوں نے قسم اٹھائی تھی کہ جس دن انگریزی سرکار کے سامنے ہتھیار رکھیں گے اس دن پہلے اپنا سر خود قلم کریں گے۔ حتیٰ کہ انگریزی سرکار نے بھی کچھ لوگوں کو مارنے کے لیے قسم اٹھایا تھا جن میں جیند شہسوار اور خلیل خان شامل تھے۔ ان تینوں کی بہادری کے چرچے برطانیہ کے لائبریریوں میں آج بھی ملیں گے۔ یہ وہ جنگجو تھے جو مرتے دم تک نہ بکے نہ جھکے تھے۔
خاش شہر میں بلوچ مزاحمت کاروں کو مارنے کیلئے اپنے سفاک جرنیلوں کو بلوچستان بھیج دیا گیا تھا تاکہ بلوچ مزاحمت کاروں کو دھوکے سے قتل کیا جائے اور بلوچ مزاحمت کاروں کا خاتمہ ہوسکے۔ جنرل ڈائر بھی ان لوگوں میں شامل تھا. دھوکے کا بازار گرم کر دیا گیا۔ لالچی لوگوں کو جنرل ڈائر نے اپنے گرفت میں کر لیا تاکہ بلوچ مزاحمت کاروں کا خاتمہ کیا جائے اور آزادی کی تحریک کا خاتمہ کر دیا جائے۔ جنرل ڈائر مسلسل آٹھ ماہ تک پلاننگ کرتا رہا. تمام ایجنٹوں سے ہر شام میٹینگ کرتا کہ کس طرح بلوچ قبضہ گیروں سے جان چھڑائی جائے۔ اس وقت جنرل ڈائر کے سامنے ایک خاتون جنگجو کا نام آ گیا، “گل بی بی” جو اس لشکر کے کاروان میں صف اول کا کردار ادا کر رہی تھی. گل بی بی وہ خاتون ہیں جو ہر جنگ میں انگریزوں کے خلاف جنگ کرتی ہیں اور بندوق بھی اٹھا کر میدان جنگ میں کود جاتی ہیں اور تو اور اپنے تمام جنگجو ساتھیوں کو ہتھیار چلانے کا گر بھی بتاتی ہیں۔
گل بی بی انتہائی خوبصورت خاتون تھی. گول چہرہ، چھوٹا قد، بے پناہ کشش، انتہائی حسین و جمیل بڑی بڑی آنکھیں.وہ سینہ تان کر چلتی تھی. اتنی خوبصورت کہ ہتھیار بھی لوگوں کے ہاتھوں سے گر جاتے تھے. اس کے نرم نرم ہاتھوں میں ایسی پھرتی کہ دشمنوں کو سیکنڈ میں ڈھیر کر دیتی تھی. دشمن اس کی شکل دیکھتے رہ جاتے تھے۔ جیسے اس کی ماں نے ایک سفید شیرنی کو میدان جنگ میں بھیج دیا ہو۔ گل بی بی کے لواحقین کے بارے تاریخی کتابیں بھی کچھ نہیں جانتی ہیں۔ حتیٰ کہ انگریزی دور میں لکھے گئیں تاریخی کتابیں بھی گل بی بی کے لواحقین کے بارے کچھ نہ اگل سکی۔
گل بی بی کا حسن و جمال دیکھ کر شاہسوار اس کی محبت میں گرفتار ہوگیا. گل بی بی کے بچپن میں اس کی منگنی محمد حسن نامی شخص سے ہوئی تھی. اس دوران محمد حسن شہسوار سے خاش کی ملکیت کا حصہ طلب کرتا ہے تو گل بی بی کے دماغ میں محمد حسن کے خلاف نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور گل بی بی بھی شاہسوار کی محبت میں گرفتار ہوجاتی ہے۔ اس وقت محمد حسن خاش کا قلعہ شہسوار سے مانگتا ہے. شہسوار اپنے تمام لواحقین کو بلا کر فیصلہ کرتا ہے کہ اگر آپ سب چاہتے ہیں کہ شہسوار زندہ رہے تو یہ قلعہ محمد حسن کو دینا ہو گا۔۔۔ کئی بڑے بڑے لوگ یہ سن کر حیرت زدہ ہو جاتے ہیں کہ باپ دادا کی بنائی ہوئی ملکیت ایک خاتوں کی محبت میں چھوڑا جا رہا ہے۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا! اے شہسوار یہ ملکیت آپ پر سو بار قربان، اگر جان رہی تو ایسے خاش کے سیکڑوں قلعے بن سکتے ہیں۔
شہسوار مشہور چھاپہ ماروں میں ایک چھاپہ مار جنگجو تھا. شہسوار ایسے لوگوں کو چھاپہ مار کر قتل کر چکا تھا جنہوں نے غریبوں کی جائیداد کھا رکھی تھی یا قبضہ کر رکھا تھا. وہ قلعہ میں چند روز ہر ماہ بمشکل رہتا تھا. شہسوار نے کئی انگریزی سرکار کی بندوقیں بھی چھینی تھیں اور کئی انگریزی سرکار کے فوجیوں کو اٹھک بیٹھک کروا چکا تھا.
اس روز انگریزی سرکار کے جنرل ڈائر کو ایک بڑا دھچکا لگا تھا جب شہسوار اور گل بی بی کی شادی کی خبر اس کے میخانے میں پہنچی۔ اسکے ہاتھ سے گلاس گر گیا مگر چاندی کا گلاس اتنا مضبوط تھا کہ اس کے پائوں پر داغ کر گیا۔ جنرل ڈائر یہ الفاظ برداشت نہ کر رہا تھا۔ جنرل ڈائر بد مست ہوگیا. اسکی طاقت اسے جنگ پر مجبور کر رہی تھی. ایک طرف گل بی بی دوسری طرف شہسوار کی بہادری اور سامراجی دشمنی۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آ رہا تھا۔ وہ خاموش سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ یہ وہی ڈائر تھا جس نے ہندوستان کو ایک ماہ کی کم مدت میں فتح کیا تھا۔ جہاں پر خون کی ہولی کھیلی تھی۔
خاش شہر میں انگریزی سرکار کو شہسوار داخل تک نہ ہونے دیتا تھا. وہ جس راستے سے گزرتا اس راستے پر انگریزی سرکار کو تگنی کا ناچ نچا دیتا تھا. شہسوار اور گل بی بی شادی کے بعد بھی ایک دوسرے سے بےحد محبّت کرتے تھے. شاہسوار نہ صرف گل بی بی سے محبت کرتا تھا بلکہ اس کے ہر بہادری اور ہر فیصلے کی قدر کرتا تھا اسی وجہ سے ہر روز ان کی محبت میں اضافہ ہو جاتا تھا.
گل بی بی بلوچستان کی پہلی جنگجو خاتون تھی جس نے انگریزی سرکار کے خلاف جنگوں کی قیادت کی تھی. گل بی بی ہر جمعرات کو اپنے جنگجوں کو ہتھیار چلانے اور جنگی طور طریقے بتاتی تھی جبکہ شہسوار چھاپہ مارنے کے طریقے بتاتا. شہسوار اور گل بی بی نے ایسی فوج تیار کی تھی جس نے انگریزی سرکار کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا. جنرل ڈائر بہت مایوس ہو چکا تھا وہ اپنی مایوسی کا ذکر کسی کے ساتھ بھی نہیں کر سکتا تھا. اس کے سیکڑوں فوجی ہلاک ہوگئے تھے جن کو وہ چھپا چھپا کر کم تعداد اپنے حکام بالا سے شئیر کر رہا تھا حتیٰ کہ جنرل ڈائر کے کئی مخبر بھی گل بی بی سے نہ بچ سکے تھے. ان کی لاشیں تک جنرل ڈائر کو نہ دی گئی تھی۔
شہسوار اور گل بی بی انگریزی سرکار کے کمانڈر سے بھی زیادہ طاقتور بن گئے. گل بی بی ہمیشہ شہسوار سے کہتی تھی” دیکھ شہسوار یہ وہی انگریزی سرکار ہے جس میں ہمارے آگے ایک قدم بڑھانے کی طاقت نہیں ہے۔”
وہ اندھیری رات تھی. شہسوار اپنے جھوگی میں گل بی بی کو اپنے سینے سے لگا کر سو رہا تھا. گل بی بی کو کچھ بھیڑوں کی آواز نے شہسوار سے الگ کر دیا۔ اس وقت بھیڑوں کی آواز وہ بھی ان کی طرف آ رہی ہیں. گل بی بی نے بندوق اٹھائی . شہسوار بولا” یہ چوری نہیں ہے معمہ کچھ اور لگ رہا ہے چلو باہر چلتے ہیں۔ جب میاں بیوی باہر نکلے تو ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” شہسوار جنرل ڈائر نے نے کچھ بھیڑوں بھیجی ہیں.” ” اس وقت” شہسوار نے تیز آواز میں کہا “واپس کر دو.” مگر گل بی بی جلدی سے بولی” رکو! واپس نہیں یہ بھیڑیں امن اور ہار کی نشانی ہیں جنرل ڈائر نے ہتھیار پھینک دیئے ہیں۔” شہسوار جلدی سے بولا “ان بھیڑوں کو باڑے میں جاکر چھوڑ آؤ۔”
شہسوار اور گل بی بی نے انگریزی سرکار کی دیئے گئے تحفے کو قبول کر لیا. وہ دونوں جھوگی میں واپس لوٹے. سخت سردی چل رہی تھی. سرد ہوائیں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں، شہسوار اور گل بی بی سردی کو کم کرنے کے لیے ایک دوسرے کو گلے لگا کر سو گئے. کب نیند نے پکڑا کب سو گئے کچھ پتا نہ چلا۔
صبح کی کرنیں پوری آب و تاب سے نکل رہی تھیں تمام پہرے دار اپنی اپنی جگہوں پر برا جمان تھے سورج کی کرنیں کبھی پہاڑوں میں گم ہو جاتی کبھی پہاڑوں کو چیر کر نکلتی تھی۔ اسی طرح دن گزر گیا رات کی تاریکی میں ایک شخص دوڑتا ہوا شہسوار کے پاس پہنچا اور اس نے کہا کہ جنرل ڈائر کا بندہ آیا ہے وہ آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔ تو اس وقت گل بی بی نے کہا “اس کو لیکر آؤ ہم ان سے ملاقات کریں گے۔” وہ شخص گل بی بی کے سامنے کھڑا تھا اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ ” بولو کیا حکم بھیجا ہے جنرل ڈائر نے؟ جنگ یا امن کا؟
” امن کا۔ وہ آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے۔” یہ الفاظ بولتے ہوئے اس کی بولتی ایسے بند ہو گئی کہ جیسے اب بندوق سے گولی نکل کر اس کے سینے میں پار ہو جائی گی۔ ” بالکل ملاقات ہوگی. ان سے کہو ہم جمعرات والے دن ملاقات کریں گے۔ ” گل بی بی نے کہا. جی میں آپ کا پیغام ان تک پہنچا دو نگا۔ شہسوار اور گل بی بی ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر بلوچی میں بول رہے تھے” اتنا کچھ کھونے کے بعد آخر ہماری طاقت کا اندازہ ان کو ہوگیا ہے۔”
وہ جمعرات کی صبح تھی جس دن جنرل ڈائر خاش کی طرف چل پڑا. راستے میں وہ جنگجوں کو بغور دیکھ رہا تھا جیسے ہی جنرل ڈائر کے گھوڑے کی ٹپ ٹپ کی آواز گل بی بی کے کانوں میں پہنچی تو اس نے شہسوار سے کہا” جاؤ مہمان کا استقبال کرو.” شہسوار اپنی جھگی سے باہر نکل کر میدان میں آیا جنرل ڈائر لمبے قد لمبی مونچھوں کے ساتھ گھوڑے سے اترا اور شہسوار سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا ” لوگ مجھے جنرل ڈائر کہتے ہیں اور آپ ہیں شہسوار۔”
شہسوار نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا” آپ ہمارے مہمان خانے پر تشریف لائے آپ کا شکریہ۔”
جنرل ڈائر ہنس کر کہنے لگا ” شکریہ، آپ لوگوں نے مجھے مات دی ہے. میں اپنی شکست قبول کرنے آیا ہوں۔ میں نے خیر سگالی کے لیے ہی تو بھیڑ بھیجے تھے۔ اور آپ نے قبول کر لیے۔”
اس وقت جنرل ڈائر ایک چھوٹی سی جھگی میں داخل ہوئے وہاں پر ایک لمبا سا ایرانی قالین بچھا ہوا تھا جس کے تمام کونوں میں تکیے رکھے ہوئے تھے. سامنے ایک خوبصورت حسین و جمیل عورت احتراماً کھڑی تھی جس کے سر پر دوپٹہ تھا. گل بی بی نے احتراماً تھوڑا سر جھکا کر سلام پیش کیا اور کہا “مجھے گل بی بی کہتے ہیں.” انگریز جنرل ڈائر گل بی بی کی طرف دیکھ کر حیران رہ گیا. چھوٹا قد، انتہائی خوبصورت اور حسین و جمیل خاتون جس نے جنرل ڈائر کو اپنے جھگی پر آنے پر مجبور کیا۔ گل بی بی اور شہسوار ایک دوسرے کے قریب بیٹھ گئے۔
” خاش شہر کی ایک جُھگی میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں.” گل بی بی نے تیز آواز میں جنرل ڈائر کو پکارتے ہوئے کہا. جنرل ڈائر نے اپنا ہتھیار نیچے رکھتے ہوئے کہا ” میں نے ہندوستان میں ہزاروں لوگوں کو خون سے نہلا دیا تھا یہاں پر آپ نے اور شہسوار نے میرے ہر عمل کو ناکام بنا دیا۔ مٹھی بھر آپ کے فوجیوں نے ہمیں مٹی میں ملا دیا.”
گل بی بی جلدی سے بولی” آپ نے شکست نہیں کھائی بلکہ آپ نے تو صلح کا راستہ اپنانے کے لیے بھیڑوں کا ریوڑ بھیجا تھا. ہم نے ان کو امن کے طور پر قبول کر لیا۔ آپ نے دس سالہ جنگ کا خاتمے کا اعلان کر دیا تو ہم نے بھی قبول کر لیا ہے۔” جنرل ڈائر بولا ” شکریہ عزت افزائی کا۔”
جنرل ڈائر نے جب کھانا کھا کر گل بی بی سے اجازت مانگی تو ایک ایرانی قالین کا سیٹ جنرل ڈائر کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا جسے اس نے قبول کر لیا تھا۔ جنرل ڈائر نے اس وقت خاش شہر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے الوداع کہا. اس شہر کی جانب آج تک کسی انگریز نے نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا جہاں پر ان کے آبا و اجداد نے شکست کھائی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں