زخم کیا سب کو دکھانے کے لئے ہوتے ہیں
یہ خزانے تو چھپانے کے لئے ہوتے ہیں
میرا چہرہ تو مری جان تری جانب ہے
باقی چہرے تو زمانے کے لئے ہوتے ہیں
دل کی بستی جو اجڑ جائے تو بستی ہی نہیں
شہر اجڑیں تو بسانے کے لئے ہوتے ہیں
روح افلاک پہ پرواز کیا کرتی ہے
جسم تو خاک میں جانے کے لئے ہوتے ہیں
دل کی آواز اگر شعر میں شامل ہے جمیل
شعر محفل میں سنانے کے لئے ہوتے ہیں