84

جب تک آباد تھا آشیاں اپنا

جب تک آباد تھا آشیاں اپنا
شہر کا شہر تھا رازدان اپنا
ستاروں سے بھی دوستی تھی
رات کا پہر تھا ترجمان اپنا
لفظ خوشبو بکھیرا کرتے تھے
اور لب شیریں پہ تھا دیوان اپنا
حرص نے چاٹ لیا ہے جب سے
بک گیا ہے تب سے ایمان اپنا
اب پرندے بھی لوٹ کر نہیں آتے
خشک پتوں سےبھر گیا گلستان اپنا
بات پردے میں ہی رہے تو اچھا ہے
ہو جائے گا وگرنہ چاک گریباں اپنا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں