273

جالسازوں کا نیا حربہ

یوں تو لوگوں کو بیوقوف بنا کر ان کو لوٹنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے اسٹاک ہوم اور اس کے گردونواں میں یہ سلسلہ کچھ زیادہ بڑھ گیا ہے اور طریقہ واردات بھی مختلف ہو گیا ہے ان کے زیادہ تر شکار کاروباری حضرات بن رہے ہیں. کیوں کہ ان کی اور ان کے کاروبار کی معلومات حاصل کرنا قدرِ آسان ہے۔ سب سے پہلے تو یہ آپ کی معلومات کسی بھی طریقے سے حاصل کریں گے اس کے لیے وہ سماجی ویب سائٹ اور دوسری سائٹ کا سہارا لیتے ہیں اس کے بعد اپنے آپ کو کسی بھی قومی ادارے ( کبھی پولیس ،کبھی بینک یا کبھی آگ بجھانے کا ) کانمائندہ ظاہر کر کے آپ کو فون کریں گے اور کہیں گے کہ آپ کا کوئی مسئلہ ہو گیا ہے یا آپ کے گھر میں آگ لگی ہے اس سلسلے میں آپ سے بات کرنی ہے پہلے اپنی جمع کی ہوئی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے آپ کو اعتماد میں لے کر باقی تفصیلات بھی معلوم کر لینگے آخر میں ساری باتیں ہونے کے بعد آپ سے کہیں گی ہم اس بات کا اطمینان کرنا چاہتے ہیں کہ کیا ہم صحیح آدمی سے بات کر رہے ہیں یا نہیں اس کے لیے آپ اپنا موبائل آئی ڈی استعمال کریں یہ ہی وہ لمحہ ہیں جب آپکی ذرہ سی عقل مندی آپکو ایک بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔
ریستوران لیللا کراچی کے مالک مرشد عالم چودہری جو کہ اس جال سازی کا شکار بنے سے بچ گئے. اردو قاصد سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میری ماں کی دعا تھی کہ میں آخری لمحات میں انکا شکار بنے سے بچ گیا اور تمام پڑھنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدارا جب تک آپکی تسلی نہ ہو جائے کبھی بھی کسی بھی صورت میں فون پر اپنی موبائل آئی ڈی استعمال نہ کریں
جبکہ پاکستان انفارمیشن اینڈ کلچرل سوسائٹی کے صدر شہزاد انصاری خود اس طرح کی کال کا سامنا کر چکے ہیں.
پولیس، بینک یا کسی بھی ادارے کے مطابق ہم کسی سے بھی موبائل آئی ڈی کو کھلوانے کہ اہل نہیں ہے اور اگر کوئی آپ سے یہ سوال کرے بھی تو آپ اسکو منع کر سکتے ہیں کہ میں مطمعن نہیں ہوں اور پہلے اس بات کی تسلی کر لیں کہ وہ نمائندہ واقعی اس کے بتائے ہوئے ادارے سے ہی بات کر رہا ہے. اس کا آسان حل یہ ہے کہ آپ اس سے اسکا نام معلوم کر کے کہیں کہ میں خود آپکو کال کرتا ہوں اور پھر خود اس ادارے کی سائٹ پہ دیئے گئے نمبر کی مدد سے اس نمائندے تک رسائی حاصل کر یں.
یہ چند چھوٹی چھوٹی سی احتیاط آپکو ایک بڑے نقصان سے بچا سکتی ہیں۔
اس معلامات کو زیادہ سے زیادہ شیر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نقصان سے بچایہ جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں