مبارک ہو مبارک ہو۔میاں طفیل صاحب کا فون مسلسل بج رہا تھا اور مبارک باد کے پیغامات میاں صاحب نہایت خوشدلی سے قبول کرے رہے تھے۔ ابھی فون رکھا ہی تھا کہ مولانا مودودی صاحب کے فرزند ارجمند نے فون کیا اور خوشی سے آواز حلق میں پھنسنے لگی۔ مبارک ہو میاں صاحب اس کافر سے جان چھوٹ گئی۔ اب پاکستان میں نظام مصطفی رائج ہوگا۔ ڈانس کلب بند ہوجائیں گے۔ نشہ آور اشیاء پہ پابندی لگے گی۔ چوروں کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے والوں کی ٹانگیں کاٹی جائیں گی۔ خواتین کی آبرو ریزی نہیں ہوگی۔
ادھر جی ایچ کیو کے سب فون مسلسل بج رہے تھے اور جرنل ضیاء کو اس کارنامے پہ مبارک باد کے پیغامات موصول ہو رہے تھے۔ کبھی اصغر خان تو کبھی ولی خان۔ چودھری ظہور الاہی تو کبھی اور کوئی چودھری۔ پیر صاحب پگارا بھی اپنے مخصوص لہجے میں خوشی میں سر شار جی ایچ کیو میں جرنیلوں کو مبارک دے رہے تھے۔ دیگر سندھ کے وڈیرے بھی پیر صاحب کی تقلید میں مسلسل فون کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ کے جج انوار الحق اور مولوی مشتاق کے فون بھی مسلسل بج رہے تھے۔ اس کارنامہ پہ مبارک بادی وصول کر رہے تھے۔
4 اپریل کی صبح جماعت اسلامی اور 9 ستاروں کے پوجاری شھروں میں مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔
گڑھی خدا بخش میں فوج کی نگرانی میں ایک نام نہاد مسلمان کو دفنا کر فوجی جوان الرٹ کھڑے ہوئے تھے۔ اس کافر کی بیوہ اور بچوں کو اپنے باپ کا آخری دیدار بھی کرنے نہیں دیا۔ پوری سندھ میں فوجی جیپیں اور ٹینک مسلسل گشت کر رہے تھے۔ ہو کا عالم تھا۔ کسی کو رونے کی اجازت نہیں تھی۔ کبھی کھبار کسی کی ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز اس سناٹے کو چیر ڈالتی تھی
کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔ اب سب اچھا ہوگا۔ پاکستان میں دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی۔ اتنا نیک دل، درویش منش انسان، ولی اللہ پہلے پاکستان کو کب ملا تھا۔
مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
کلاشنکوف کا ریٹ 15000 سے 500 روپے تک آ گیا ہے۔ واہ واہ۔ چرس۔ افیم، ہیروئین کی مارکیٹ میں ڈیمانڈ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سپلائرز سر پکڑ کے بیٹھ گئے ہیں کیا کریں کہاں جائیں۔ پورا افغان بارڈر بھی کھول دیا ہے مگر رسد ہے کے پورا ہونے کا نام نہیں لیتی۔ ہر قسم کی شراب قریبی پولیس چوکی سے خریدنے کی سہولت موجود ہے۔
1980 سے لیکر بم ھماکے ایک معمول بن چکا ہے۔ مسجد، امامبارگاہ، گرجا اور گردوارا دھماکاکاروں کے ہدف بن چکے ہیں۔ میلاد کا جلوس ہو یا کہ عزاداری کا جلوس یہاں تک کہ کسی کے جنازہ میں شرکت کرنے والے بھی محفوظ نہیں۔ 150 بچوں کا اسکول میں قتل عام۔ اغوا برائے تاوان۔ اور
ہائے بیٹی زینب۔ نہ جانے کتنی میری بچیاں ہیں جو درندگی کا شکار ہو چکی ہیں۔

اے قائد عوام یہ کچھ ہوا ہے تیرے پاکستان کے ساتھ تیرے جانے بعد..